پہلوانوں کی داستانیں جنہوں نے اپنے اپنے دور میں تاریخ رقم کی ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 7

پہلوانوں کی داستانیں جنہوں نے اپنے اپنے دور میں تاریخ رقم کی ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 7
 پہلوانوں کی داستانیں جنہوں نے اپنے اپنے دور میں تاریخ رقم کی ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 7

  

عیداپہلوان نے باقی وقت آنکھوں میں کاٹا۔ سحری سے قبل اس نے دونوں بھائیوں کو اٹھایا اور جانگئے پہناکر ریاضت کے لئے اکھاڑے میں لے گیا جہاں استاد مادھو سنگھ حسب معمول منتظر تھا۔مادھو سنگھ مردم شناس ہی نہیں رمز شناس بھی تھا۔ اس نے عیداپہلوان کے چہرے پر تیرتی پریشانی بھانپ لی اور اس کی وجہ دریافت کی۔

عیداپہلوان نے سوچا کہ مادھو سنگھ سے کچھ چھپانا نہیں چاہئے۔وہ اسے اکھاڑے سے ایک طر ف لے گیا اور گاماں کے رات کے خواب کے بارے میں بتایا اور پھر گاماں کے باپ عزیز بخش پہلوان کی ناگہانی موت کا بھی ذکر کیا۔

”خلیفہ جی! میں بڑاپریشان ہوں۔اللہ سوہنا کرم کرے کہ گامے پر کسی کم ذات کا سایہ نہ پڑے۔اسی طرح ہمارے بہنوئی عزیز بخش کے ساتھ بھی ہوائی چیزوں نے اٹھکیلیاں کی تھیں۔اب گامے پر بھی ان کی نظر پڑ گئی ہے۔ خلیفہ جی یہ بہت بُرا ہو گا۔ہماری ساری محنت خاک میں مل جائے گی۔ آپ ہی بتائیں اس کا کیا کریں؟“ عیداپہلوان متفکر تھا۔اس کا کلیجہ اسی سمے سے انجانے خدشوں سے کٹ رہا تھا جب سے گاماں نے اپنا خواب سنایاتھا۔

پہلوانوں کی داستانیں جنہوں نے اپنے اپنے دور میں تاریخ رقم کی ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 6 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

استاد مادھو نے عیداپہلوان کا کندھا دباتے ہوئے کہا۔”بھاجی پریشان نہ ہوں۔درویش پہلوانوں کے ساتھ تو ایسا ہوتا ہی رہتاہے اور ویسے بھی آپ جانتے ہیں جب پہلوان رات کے درمیانی پہر ریاضت کے لئے اٹھتے ہیں تو یہ سمے ہوائی چیزوں کا ہوتا ہے۔بھوت پریت گھوم پھر رہے ہوتے ہیں۔ آپ کو تو یاد ہو گا استاد صدیق پہلوان والا واقعہ....جب استاد سحری کے وقت بیابان والے اجھاڑ سے ریاضت کرکے اپنے گھر جارہا تھا اور راستے میں ان کا ایک دیو سے ٹکراﺅ ہو گیا تھا۔ استاد صدیق تواللہ لوک تھا۔دیو نے اس سے کشتی لڑنے کو کہا تھا۔ اس وقت تو استاد کو معلوم نہیں تھاکہ یہ دیو ہے۔ اس نے کہا۔

”آپ کے بڑے چرچے سنے ہیں پہلوان جی۔ذرا ہو جائے ہتھ جوڑی۔“

استاد صدیق نے اسے بڑے پیار سے ٹال دیا۔بھلے مانس یہ کشتی کا سمے نہیں ہے اور پھر کشتیاں تواکھاڑوں میں ہوتی ہیں۔یوں راہ چلتے ہوئے کشتی نہیں لڑی جاتی۔“

مگر دیو بضد رہا کہ وہ کشتی کرکے ہی ٹلے گا۔ خیر استاد نے اللہ کا نام لیا اور کپڑے اتارے بغیر اس سے جت گیا۔ استاد نہیں جانتاتھا کہ مقابلے میں انسان نہیں ایک دیو ہے۔خیر بھگوان کی کرنی ہوئی اور استاد صدیق نے دیو کو پچھاڑ دیا۔ اب جونہی دیو چاروں شانے چت ہوا،اپنی خباثت دکھانے پر تل گیا اور جھٹ سے اپنی اصلی شکل میں آگیا۔ استاد صدیق نے یہ دیکھا تو سر پر پاﺅں رکھ کر بھاگا اور پھر دو چار دن تک تاپ میں جلتا رہا۔“مادھو سنگھ نے یہ واقعہ سنانے کے بعد عیدا کو تسلی دی۔

”بھائی پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ ایسا کریں کہ درویش حضرت فیتے شاہ سے مل لیں۔ دعا کرائیں بھگوان سب ٹھیک کر دے گا۔“

اس دور میں ریاست جودھپور میں دو درویش بہت مشہور تھے۔ ان میں ایک فیتے شاہ تو دوسرا علی سائیں۔علی سائیں ایک مجذوب تھا جو برہنہ حالت میں پھرتا رہتا تھا۔ اسی کی نسبت سے ایک علی سائیں پہلوان بھی گزرا ہے جس کا اصل نام قمر الدین تھا۔ یہ جگت استاد فتح الدین کا بیٹا تھا جو اپنے دور کا ایک نامی گرامی پہلوان تھا۔ گاماں کے جدامجد کی طرح علی سائیں کے جدامجد بھی کشمیر سے فن پہلوانی میں نام کمانے کے لئے پنجاب کی ریاستوں میں آئے تھے۔

علی سائیں کا باپ جگت استاد رنجیت سنگھ کے جانشین شیر سنگھ کے عہد میں انیس بیس برس کا جوالا مکھی پہلوان تھا۔ لاہور کی سرزمین اسکو ایسی بھائی کہ یہاں سے اس نے پہلوانی کی بے شمار سیڑھیاں انتہائی کم عرصہ میں طے کرلیں۔جگت استاد تاریخ پنجاب کے ایک انتہائی اہم واقعہ کا چشم دید گواہ تھا۔ وہ اس تاریخ ساز کشتی کا عینی شاہد تھا جو صدیق گلگو اور بھونچال پہلوان کے مابین گھوڑے شاہ لاہور(سابقہ ونتورا صاحب) میں ہوئی اور جس میں شیر سنگھ گولی لگنے سے ہلاک ہو گیا تھا۔ جگت استاد کو علیا پہلوان جودھپور لے آیا تھا۔یہاں آکر اسے بہت ترقی کرنے کاموقع ملا مگراصل عروج ریاست بڑودہ میں نصیب ہوا تھا۔

جگت استاد نصیبوں والا تھا کہ اسے راجے مہاراجے سر آنکھوں پر بٹھاتے تھے۔ کہاجاتا ہے کہ ریاست بڑودہ کے راجہ کھانڈے راﺅ کے تخت کے ساتھ جگت استاد کے لئے جازم بچھائی جاتی جو ایک بہت بڑااعزاز تھا۔نیپال کے راجہ چنک نے بھی جگت استاد سے متاثر ہو کر اسے جاگیر عطا کی تھی۔ صرف یہی نہیں بلکہ ایک بیش قیمت اور انمول خزانہ ”لدراس“بھی اس کو دیا تھا۔

شمالی ہندوستان میں ایک بارے میں روایت مشہور ہے کہ جس کے پاس ”لدراس“ ہو اس پر لکشمی دیوی(دولت کی دیوی)ہمیشہ مہربان رہتی ہے اور اس پر ہُن برستا رہتا ہے۔

پنجاب میں”لدراس“کی طرز پر ”گیدڑ سنگھی“کو یہ درجہ حاصل ہے۔انگریز اسے”منی پلانٹ“کہتے ہیں۔”لدراس“نیپال کا ایک عجیب و غریب پھلدار درخت ہے جو سال بھر میں صرف تین دانے پھل کے دیتا ہے۔ یہ دانے انتہائی چمکدار موتیوں کی طرح ہوتے ہیں۔اگر کسی کو لدراس کی پہچان نہ ہو تو وہ یقیناً اسے بیش قیمت موتی ہی گردانتا ہے۔ویسے بھی اس کی اہمیت کسی بیش قیمت موتی سے کم نہیں ہے کیونکہ یہ نایاب درخت ہے۔(اب یہ درخت ناپید ہو چکا ہے)

لدراس کا درخت صرف راجہ کی ملکیت ہوا کرتا تھا۔راجہ اُس کے تین دانوں میں سے ایک دانہ کاٹ کر ضائع کر دیتا۔ایک سنبھال کر رکھ لیتا اور تیسرا دانہ اپنے کسی منظور نظر کو خوش ہو کر عطا کر دیتا۔راجہ چنک نے ایک ایسا ہی دانہ جگت استاد کوبھی دیا تھا۔

جگت استاد پہلوان کی شادی1860ءمیں ایک نو مسلم پنڈت کی حسین و جمیل صاحب زادی سے ہوئی تھی جس میں سے خلیفہ معراج الدین اور1879ءمیں علی سائیں پیدا ہوا۔بچپن میں علی سائیں(قمر الدین)ننگ دھڑنگ گلیوں میں آوارہ گردی کرتا رہتا تھا اسی لئے قمر الدین کو مجذوب علی سائیں کی نسبت سے مجذوب کہنا شروع کر دیا گیا۔ ایک وقت آیا کہ لوگ قمر الدین کو بھول گئے اور اسے علی سائیں کے نام سے پکار جانے لگا۔کہتے ہیں کہ مجذوب علی سائیں اس سے بڑی انسیت رکھتا تھا جس کی وجہ سے علی سائیں پہلوان بھی مجذوبانہ حرکات کرتاتھا۔

عیداپہلوان ریاست جودھپور کے انہی دو درویشوں میں سے ایک کے پاس سوالی بن کرپہنچ گیا تھا۔درویش فیتے شاہ اپنی کٹیا میں تنہا بیٹھے مراقبہ کررہے تھے۔مریدین عقیدت کے عالم میں کٹیا کے باہر گھیراڈالے بیٹھے تھے۔عیداپہلوان کو بتایا گیا کہ حضرت فیتے شاہ مراقبہ میں ہوں تو کسی سے نہیں ملتے۔البتہ مراقبہ کے اختتام پرملاقات کی اجازت ہوتی ہے مگر وہ بھی ان کو جنہیں حضرت فیتے شاہ یاد فرمائیں۔اب یہ سائل کی قسمت پر منحصر ہوتاہے کہ اسے درویش بابا یاد کرتے ہیں کہ نہیں۔

صبح سے دوپہر ہو گئی لیکن مراقبہ ختم نہ ہوا۔عیداپہلوان بھی ٹلنے والا نہیں تھا۔وہ خالی واپس نہیں جانا چاہتا تھا۔ اس نے اٹل فیصلہ کرلیا کہ اپنے بھانجے کے حق میں دعائیں لے کر ہی جائے گا۔دوپہر بھی ڈھل گئی۔اب عصر کا وقت ہو چلا تھا جب کیا کے اندر سے ایک گونجدار آواز سنائی دی۔

”عیداپہلوان جاتیری سنی گئی۔تیرے گامے کو کچھ نہیں ہو گا۔“عیداپہلوان کِھل اٹھا۔اسکی مراد پوری ہو گئی۔وہ اٹھ کر حضرت فیتے شاہ کی زیارت کے لئے کٹیا کی طرف بڑھا تو اسی آواز نے عیدا کے قدم جکڑ لئے۔”عیدے! ہم نے کہہ دیا ناں کہ اب چلا جا۔پھر اب تو ہم سے کیوں ملنا چاہتا ہے؟“

”حضرت کی زیارت کرنا چاہتا ہوں۔“عیداپہلوان عاجزی سے بولا۔”اگر اجازت ہو تو قدم بوسی کرلوں۔میری آنکھوں کو ٹھنڈک مل جائے گی۔“

”نہیں عیدے اس کی ضرورت نہیں۔“لہجہ چٹانوں جیساتھا۔عیداپہلوان نے مایوسی کے عالم میں ایک نظر کٹیا پر ڈالی اور واپس لوٹ گیا۔وہ جس مقصد کے لئے آیا تھا وہ حل ہو گیا تھا مگردل میں ایک کسک سی رہ گئی تھی۔ وہ اپنے دل کو یہ تسلی دیتے ہوئے گھر پہنچ گیا۔

”اللہ والوں کی اللہ ہی جانے۔دروشن نہیں ہوئے،شاید اس میں کوئی راز تھا۔“(جاری ہے)

پہلوانوں کی داستانیں جنہوں نے اپنے اپنے دور میں تاریخ رقم کی ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 8 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

طاقت کے طوفاں -