سی پیک کی کامیابی خطے کے استحکام سے مشروط ہے

سی پیک کی کامیابی خطے کے استحکام سے مشروط ہے
سی پیک کی کامیابی خطے کے استحکام سے مشروط ہے

  


اگرچہ موجودہ حکومت گوادارپورٹ اور سی پیک کواپنا بہت بڑا کارنامہ اور خطے میں گیم چینجر قرار دے رہی ہے۔ مسلم لیگ ن کی حکومت کاکہنا ہے۔ گوادر پورٹ اور سی پیک کا منصوبہ بہت تیزی سے پایہ تکمیل کی جانب پہنچ رہا ہے۔ گوادرپورٹ پر تقریباً1990ء سے کام ہو رہا ہے۔ یہ ایک عالمی منصوبہ ہے اس منصوبے کی تکمیل کا سب سے زیادہ فائدہ روس اور وسط ایشیائی ریاستوں کو ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اگر روس اور وسط ایشیائی ریاستوں کو گودار کے ذریعے عالمی تجارت کا موقع مل گیا تو ایک نیا تجارتی کلچر معرض وجود میں آئے گا اور دنیا کا معاشی و تجارتی توازن کسی اور طرف جھک جائے گا۔ یہ اس قدر اہم منصوبہ ہے کہ اس کی تکمیل سے ایک نیا ورلڈ آرڈر متعارف ہوگا کئی اہم ممالک اقتصادی و معاش عدم توازن کاشکار ہو جائیں گے۔

موجودہ حکومت اس اہم منصوبے کا تمامتر کریڈٹ خود لینے کی کوشش کررہی ہے۔ اور کہا جا رہا ہے کہ موجود ہ حکومت نے بڑی تیزی کے ساتھ اس منصوبے کو مکمل کیا ہے۔ وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال اور دوسرے وزرائے کے بلند و بانگ دعوؤں کے باوجود اصل حقائق کچھ اور ہی ہیں چین کے ساتھ سی پیک کا معاہدہ ہونے کے بعد سڑکوں کی تعمیر اور بجلی گھروں کی تکمیل کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے مگر گوادر میں انفراسٹریکچر اور سہولتوں کی فراہمی میں انتہائی سست روی سے کام ہو رہا ہے۔ ابھی تک گوادر میں عام استعمال اور پینے کے پانی کا مسئلہ حل نہیں ہوا بلکہ بعض اوقات یہ بحران اس قدر شدت اختیار کر جاتا ہے کہ پاکستان نیوی کو بحری جہازوں میں کراچی سے پانی گوادر پہنچانا پڑتا ہے جبکہ کراچی اور گوادر کا درمیانی فاصلہ 675کلو میٹر ہے ۔

گوادر میں ابھی تک ایران سے آنے والی 100میگا واٹ بجلی استعمال ہورہی ہے۔ گوادر میں بجلی کی فراہمی اوّلین اقدام ہونا چاہئے تھا۔ دوسری ضروریات زندگی کے ساتھ ساتھ سیمنٹ بھی ایرانی استعمال کیا جا رہا ہے۔ کوینکہ ایرانی بارڈر نزدیک ہونے اور ایرانی سیمنٹ سستا ہونے کی وجہ سے مقامی سیمنٹ کی کھپت نہیں ہے۔ حالانکہ حکومت کو اس علاقہ میں سیمنٹ کی انڈسٹری کوفروغ دینے کیلئے خصوصی اقدامات کرنے چاہئیں تھے۔ ہماری مقامی سیمنٹ انڈسٹری مضبوط ہوتی اور حکومت کو ٹیکس کی مدمیں رقم بھی ملتی۔ دوسری تعمیراتی مصنوعات کو بھی فروغ نہیں دیا گیا۔ یہاں ابھی تک سرمایہ کاروں اور تاجروں نے تعمیراتی مصنوعات کی تیاری اور فروخت کی جانب توجہ نہیں دی۔ جسکی وجہ سے عام سرمایہ کار گوادر میں سرمایہ کاری کرنے سے گھبرا رہا ہے کہ ایک طرف گوادر شہرکو بسانے کے حکومتی دعوے اور دوسری جانب ایسے آثار ہی نہیں نظر آرہے کیونکہ اگر حکومت کی سنجیدگی نظر آتی تو پاکستانی سرمایہ کار سب سے پہلے اس علاقہ کارخ کرتے۔

ابھی تک اس علاقہ میں جو کام ہو رہاہے وہ زمینوں کاکاروبار ہے اور اس کاروبار میں بھی سٹے بازی کا رجحان نمایاں ہے۔ جائیدادوں پرسٹے بازی کرنے والے ہر تین چار ماہ بعد یہاں آتے ہیں ۔گوادر کے متعلق ایسی خبریں شائع کروائی جاتی ہیں کہ لگتا ہے کہ یہاں دبئی سے بھی زیادہ زمینیں مہنگی ہونے والی ہیں۔ سٹے باز تو اپنی رقم نکال لیتے ہیں مگر عام لوگوں کی رقم گودار کی زمینوں میں پھنس جاتی ہے قیمتیں نیچے آنے اور دوبارہ فروخت نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کااعتماد مجروع ہو جاتا ہے مگر حکومت نے کبھی اس سنگین مسئلے کی جانب توجہ نہیں دی۔

پاکستان کو قدرت نے اپنی اہمیت منوانے کیلئے سنہری موقع فراہم کررکھا ہے مگر اس عظیم الشان منصوبے میں جس قدر الجھاؤ پیدا کر دیئے گئے ہیں اس کا بہت زیادہ نقصان ہو رہا ہے۔ حکومت کے اپنے دعوؤں اور برعکس حقیقت کے باعث شبہات بڑھتے جا رہے ہیں۔ بجلی ، پانی اور دوسری بنیادی سہولتوں کی کیمابی کے باعث نجی شعبے کی طرف سے تعمیراتی سرگرمیاں انتہائی سست روی کاشکارہیں۔ اسی طرح بڑے بزنس مینوں نے ابھی تک گوادر کا رخ نہیں کیا ۔چنانچہ فی الوقت حکومت کا یہ دعویٰ بے بنیاد لگتا ہے کہ گوادر بہت بڑا عالمی شہر بننے جارہا ہے۔ اس قسم کے دعوے تقریباً 25سال سے کئے جا رہے ہیں اس میں پرویز مشرف کا دور بھی شامل ہے۔ عام لوگوں کے نزدیک دبئی اور دوسرے عالمی شہر انتہائی کم مدت میں مکمل ہوچکے تھے۔ جیسے ہی دبئی کی معیشت مضبوط ہوئی اور اسے ارین سٹی کا درجہ دیا گیا فوراً ہی تعمیراتی اور ترقیاتی کام شروع ہوگئے۔ چار پانچ سال میں ایک بدلا ہوا۔ دبئی نظر بھی آنے لگا تھا مگر یہاں ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پراپرٹی مافیا گوادر سے نکل جائے تو یہاں تھوڑی بہت نظر آنے والی سرگرمیاں بھی معدوم ہوجائیں گی۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہر حکومت گوادر کے معاملے میں سستی اور کوتاہی کی مرتکب کیوں ہو رہی ہے تو اس کی وجہ واضح نظر آتی ہے کہ فی الوقت امریکہ اس کے حلیف ممالک اور بھارت کو اس پراجیکٹ کی تکمیل منظور نہیں ہے۔ اور ان کا دباؤ بہرحال پاکستانی حکومت پر انتہائی زیادہ ہوتا ہے اس کی بڑی مثال یہ ہے کہ 2006-7میں گوادر میں زمینوں کا کاروبار اپنے عروج پرتھا اورجنرل پرویز مشرف نے 22مارچ2007میں گوادر رپورٹ کے افتتاح کا اعلان کیا تھا۔ ایس پی اے (سنگارپور پورٹ اتھارٹی ) نے گوادر پورٹ کا انتظام و انصرام سنبھالا ہوا تھا۔ اب اس پورٹ نے انہی کے زیر انتظام کام کرنا تھا مگر انہی دنوں عدلیہ بحران پیداہوگیا۔ جنرل پرویز مشرف اپنے کسی ممکنہ خطرناک انجام سے اس قدر خوفزدہ ہوئے کہ انہوں نے رسمی سا افتتاح کیا اور کسی ٹھوس پالیسی کا اعلان کرنے کی بجائے قوم کو کراچی کے نزدیک گہرے پانی کی ایک اور بندرگار قائم کرنے کی نوید سنا دی۔ اس کے بعد لوگوں کا کھربوں روپیہ پراپرٹی میں ڈوب گیا۔ ایک کروڑ والا پلاٹ کوئی ایک لاکھ روپے میں بھی لینے کو تیار نہ تھا۔ اب چائینہ نے گوادر پورٹ کا انتظام و انصرام سنبھالا ہے تو انہوں نے پاکستانی حکومت اور عسکری اداروں کی جانب سے مکمل تحفظات حاصل کئے ہیں۔ مگر لگتا ہے کہ نواز حکومت بھی امریکی اور دوسری عالمی قوتوں کے دباؤ میں کافی حد تک آچکی ہے۔ افغانی راستہ جوکہ وسط ایشیائی ریاستوں اور پاکستان کے مابین پل ہے کسی بھی صورت کلیئر نہیں ہو رہا۔ وہاں نہ صرف بھارت کے اثر ونفوذ میں اضافہ ہو رہاہے بلکہ پاکستان کے خلاف نفرت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ عدم استحکام بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ حقیقت بھی بالکل واضح ہے کہ عالمی قوتوں نے افغانستان کو جس عدم استحکام سے دوچار کر رکھا ہے اسکی وجہ سے وسط ایشیائی ریاستوں کے مابین اس افغانی پٹی کو استعمال کرنا بھی ناممکن ہے۔

گوادر کی اصل اہمیت میں اضافہ اس وقت ہوگا کہ جب افغانستان میں امن و استحکام پیداہو جائے گا شاید یہ اس وقت ممکن ہوگا کہ جب امریکہ اور دوسری عالمی قوتوں کو یہ باور کروایا جائے گا کہ اس عالمی راہداری کا فائدہ صرف سوشلسٹ بلاک کو ہی نہیں بلکہ سرمایہ دارانہ نظام کوبھی ہوگا۔ اس وقت مذاکرات کی میز پر بیٹھنا اور تمام ممالک کو بھی سی پیک سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دینا ضروری ہے۔ کسی بھی طور یہ تاثر ختم کر نا ہوگا کہ صرف سوشلسٹ بلاک عالمی تجارت پر اجارہ داری حاصل کرنا چاہتا ہے جس وقت امریکہ، یورپ اور ان کے حلیفوں کو یہ احساس ہوگیا کہ سی پیک اور گوادر پورٹ سے تمام ممالک استفادہ کر سکیں گے اس وقت پاکستان اور افغانستان دونوں ممالک میں امن اور استحکام پیدا ہو جائے گا۔

نواز حکومت کے وزیروں اور مشیروں کے بیانات سے یہی ظاہر ہو رہا ہے کہ موجودہ بحران صرف سی پیک کیوجہ سے ہے ۔اگر موجودہ بحران سی پیک کی وجہ سے ہے تو اس منصوبے سے خوفزدہ عالمی قوتوں کے خدشات زائل کرنے کی ضرورت ہے ’’کچھ لو، کچھ دو‘‘ پر بات چیت ہو سکتی ہے کہ اب یہ خطہ زیادہ عرصہ اس صورتحال کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ہماری سیاسی، عسکری قیادت اور عوام کو خاص شعور اور بصیرت کا ثبوت دینے کی ضرورت ہے۔ جس وقت امریکہ،یورپ اور دوسری عالمی قوتوں کے خدشات مدہم پڑنے لگیں گے۔ علاقائی حالات میں تبدیلی نظر آنے لگی اور پاکستان کا وجود بھی کٹھکنا بند ہو جائے گا۔ بھارت بھی اپنی اوقات میں آنے پر مجبور ہوگا پاکستان کو ہر تہذیب کے درمیان پل بننا چاہئے نہ کہ تہذیبوں کے درمیان تصادم اور نفرت کی وجہ بننا چاہئے ،اپنی دھرتی پر بیرونی جنگیں کیوں لڑی جائیں ہمیں اپنے آپ کو زیادہ سے زیادہ کیش کروانا ہوگا۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ