انٹرنیٹ ٹھیک کرنے کیلئے پی ٹی سی ایل کو ”دھمکیوں“ کیساتھ 24 گھنٹوں کی ڈیڈ لائن دینے والی پاکستانی لڑکی کیساتھ کمپنی نے ”انہونی“ کر دی، ایسا کام ہو گیا کہ ہر پاکستانی ہکا بکا رہ گیا

انٹرنیٹ ٹھیک کرنے کیلئے پی ٹی سی ایل کو ”دھمکیوں“ کیساتھ 24 گھنٹوں کی ڈیڈ ...
انٹرنیٹ ٹھیک کرنے کیلئے پی ٹی سی ایل کو ”دھمکیوں“ کیساتھ 24 گھنٹوں کی ڈیڈ لائن دینے والی پاکستانی لڑکی کیساتھ کمپنی نے ”انہونی“ کر دی، ایسا کام ہو گیا کہ ہر پاکستانی ہکا بکا رہ گیا

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پی ٹی سی ایل انٹرنیٹ استعمال کرنے والے ہر پاکستانی کو کمپنی سے ”نفرت“ کرنا اچھا لگتا ہے (اگرچہ کبھی کبھار ان کی سروس اچھی بھی ہو جاتی ہے)۔ ایسی ہی ایک صارف عائشہ خالد بھی ہیں جنہوں نے ہفتہ بھر اپنا فون اور انٹرنیٹ ٹھیک کروانے کیلئے شکایت درج کروائیں مگر کمپنی کے کان پر جوں تک نہ رینگی اور اسی وجہ سے لڑکی نے کمپنی کو ”دھمکیاں“ دینے کیساتھ انٹرنیٹ ٹھیک کرنے کیلئے 24 گھنٹے کی ڈیڈ لائن دی۔

یہ بھی پڑھیں۔۔۔ ”24 گھنٹوں میں انٹرنیٹ ٹھیک کر دو ورنہ۔۔۔“ پاکستانی لڑکی نے پی ٹی سی ایل کو اب تک کی سب سے بڑی ”دھمکی“ دیدی، ڈیڈ لائن ختم ہونے تک انٹرنیٹ ٹھیک نہ ہوا تو کیا کرے گی؟ جان کر آپ کے بھی رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے

انٹرنیٹ صارفین عائشہ خالد کیساتھ اظہار یکجہتی تو کر رہے ہیں لیکن یہ کوئی نہیں جانتا تھا کہ کمپنی ان ”دھمکیوں“ کے جواب میں کیا کرے گی تاہم تمام اندازوں کے برعکس پی ٹی سی ایل نے ”انہونی“ کرتے ہوئے ناصرف عائشہ خالد کو حیران کر دیا بلکہ انٹرنیٹ صارفین بھی ہکا بکا رہ گئے۔

عائشہ خالد نے جب کمپنی کو ”دھمکیوں“ بھرا پیغام دیا تو حیران کن طور پر اس کا انٹرنیٹ بھی ٹھیک کر دیا گیا ہے تاہم یہ عارضی طور پر ہے اور کمپنی کا کہنا ہے کہ ان کے گھر ایک نئی لائن بچھانے کی ضرورت ہے لیکن وہ ابھی تک نہیں لگائی گئی جبکہ اس کے بعد سے اب تک اسے خودکار طریقے سے لاتعداد کالز موصول ہو چکی ہیں کہ ان کا انٹرنیٹ ٹھیک ہوا ہے یا نہیں۔

نجی ویب سائٹ سے گفتگو کرتے ہوئے عائشہ خالد کا کہنا تھا کہ اگرچہ وہ اپنی فیس بک پوسٹ میں طنز کر رہی تھیں، لیکن وہ ہرگز نہیں چاہتیں کہ ان کے علاقے کا لائن مین اپنی نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اور ان کا مقصد صرف اور صرف کمپنی کی سرزنش کرنا تھا۔

یہ بھی پڑھیں۔۔۔ وقار یونس نے پہلی مرتبہ اپنی بیٹی کی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کر دی، دیکھنے والے آنکھیں جھپکنا ہی بھول گئے

عائشہ کے مطابق ایسے لوگوں کو الزام عائد کرنا جو اتنی سخت محنت کے باوجود ماہانہ صرف 10 ہزار روپے ہی کما پاتے ہیں، بالکل ناجائز ہے اور اس کی اصل ذمہ دار مینجمنٹ اور ”بڑی مچھلیاں“ ہیں۔ اس ادارے میں بہت ہی زیادہ مس مینجمنٹ ہے اور اس وجہ سے لوگوں کو بنیادی سروس بھی نہیں مل پاتی۔ جیسا کہ کمپنی میں ہر کوئی اس طرح کے معاملات سے بچ نکلتا ہے اور لوگوں کے غصے کا صدمہ لائن مین اور دیگر تکنیکی ملازمین کو بھگتنا پڑتا ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -