”یہ شرم کی بات ہے اور میری طرف سے طمانچہ ہے کہ۔۔۔“ تیراکی میں پاکستان کا نام روشن کرنے والی قوم کی بیٹی نے انتہائی دلخراش بات کہہ کر قوم سے بڑا سوال کر دیا، ہر پاکستانی کا سر شرم سے جھک گیا

”یہ شرم کی بات ہے اور میری طرف سے طمانچہ ہے کہ۔۔۔“ تیراکی میں پاکستان کا نام ...
”یہ شرم کی بات ہے اور میری طرف سے طمانچہ ہے کہ۔۔۔“ تیراکی میں پاکستان کا نام روشن کرنے والی قوم کی بیٹی نے انتہائی دلخراش بات کہہ کر قوم سے بڑا سوال کر دیا، ہر پاکستانی کا سر شرم سے جھک گیا

  


لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں اور پاکستانی کرکٹ کے علاوہ بھی کئی کھیلوں میں پاکستان کا نام روشن کر رہے ہیں۔ایسی ہی ایک قوم کی بیٹی کرن خان بھی ہے جنہوں نے باکو میں ہونے والے تیراکی کے مقابلوں میں پاکستان کیلئے تانبے کا تمغہ جیتا لیکن قوم کا رویہ دیکھ کر ان کی ساری خوشی ادھوری کی ادھوری رہ گئی جس کا اظہار انہوں نے سوشل میڈیا پر کیا۔

یہ بھی پڑھیں۔۔۔ وقار یونس نے پہلی مرتبہ اپنی بیٹی کی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کر دی، دیکھنے والے آنکھیں جھپکنا ہی بھول گئے

کرن خان نے دلخراش بات کرتے ہوئے قوم سے سوال کیا ہے کہ کرکٹ میں جیت تو جیت ہے لیکن کیا کسی اور مقابلے میں جیت کی کوئی خوشی نہیں ہوتی؟

انہوں نے ان مقابلوں میں جیتے ہوئے میڈل کی تصویر اپنے ٹوئٹر اکاﺅنٹ پر اپ لوڈ کرتے ہوئے طنز کیا کہ ”جیتنے کے بعد ہمیں کسی نے نہیں پوچھا! یہ بہت اچھا ہے کیونکہ ہمارا کھیل کرکٹ نہیں، اور اسے تیراکی کہتے ہیں۔“

سوشل میڈیا صارفین کرن خان کی حمایت کر رہے ہیں اور مثبت روئیے کا اظہار کر رہے ہیں۔ ایک صارف حافظ محمد عمران نے لکھا ”ہاہاہاہاہاہا۔۔۔! ویسے باکو سے باقی بھی بنتا ہے، یعنی کرکٹ کھیل ہماری حکومت کا، باقی سب کا اپنا اپنا“

کرن خان نے صارف کو جواب دیتے ہوئے لکھا ”یہ شرم کی بات ہے اور میری طرف سے ان کیلئے طمانچہ ہے کہ جو میں نے کیا ہے وہ یہ کبھی حاصل نہیں کر سکتے۔“

ایک صارف نظرباز نے لکھا” کیونکہ تیراکی میں کوئی بکی نہیں ہے۔۔۔ میں ایسا اخذ کر رہا ہوں“

کرن خان نے اس صارف کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے لکھا ”میں بھی یہی اخذ کرتی ہوں“

مزید : کھیل