عرب ممالک سے لڑائی، جرمنی کی انٹیلی جنس ایجنسی نے اب قطر کیلئے ایسا کام کرنے کا فیصلہ کرلیا جس کی کسی کو بھی توقع نہ تھی، جان کر سعودی عرب سمیت عرب ممالک کی حیرت کی انتہا نہ رہے گی

عرب ممالک سے لڑائی، جرمنی کی انٹیلی جنس ایجنسی نے اب قطر کیلئے ایسا کام کرنے ...
عرب ممالک سے لڑائی، جرمنی کی انٹیلی جنس ایجنسی نے اب قطر کیلئے ایسا کام کرنے کا فیصلہ کرلیا جس کی کسی کو بھی توقع نہ تھی، جان کر سعودی عرب سمیت عرب ممالک کی حیرت کی انتہا نہ رہے گی

  


برلن(مانیٹرنگ ڈیسک) قطر بحران جاری ہے اور مزید سنگینی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ سعودی عرب و دیگر ہمسایہ ممالک کی طرف سے قطر پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ وہ دہشت گردوں کی معاونت کر رہا ہے۔ ان ممالک نے قطر کو 13مطالبات پر مبنی فہرست دی تھی جس کی ڈیڈلائن ختم ہو چکی ہے۔ ان مطالبات پر قطر کی طرف سے انتہائی سخت موقف اپنایا گیا اور کہا گیا کہ وہ جنگ کے لیے تیار ہے۔ اس موقف کے جواب میں ہمسایہ ممالک کے لہجوں میں بھی مزید تلخی در آئی ہے۔ اور اب ہمسایہ ممالک کے الزامات کی تحقیق کے لیے جرمنی میدان میں کود پڑا ہے۔ جرمن وزیرخارجہ سگمر گیبرئیل نے گزشتہ دنوں سعودی عرب اور قطر کا دورہ کیا۔ وہ کویت بھی گئے جو اس جھگڑے میں مصالحت کی کوششیں کر رہا ہے۔

جرمنی نے چین کے ساتھ مل کر ایسا کام کرنے کا اعلان کردیا کہ امریکہ کو اب تک کا سب سے زوردار جھٹکا دے دیا، دنیا میں امریکی ’چودھراہٹ‘ کے خاتمے کا وقت آگیا

haaretz.com کی رپورٹ کے مطابق دورے سے واپس جا کر سگمر گیبرئیل نے ریڈیو کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ ”جرمن انٹیلی جنس سروس ہمسایہ عرب ممالک کے قطر پر لگائے گئے الزامات کی تحقیق میں شریک ہو گی۔ قطر اور جرمنی کے مابین ایک معاہدہ موجود ہے جس کے تحت اگر جرمنی قطر سے مخصوص شخصیات یا سٹرکچر کے حوالے سے سوالات کرتا ہے تو وہ اس کے متعلق تمام ریکارڈ فراہم کرنے کا پابند ہے۔“دوسری طرف برطانیہ میں ’ہنری جیکسن سوسائٹی‘ نامی تھنک ٹینک کی ایک تحقیقاتی رپورٹ شائع ہوئی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ”سعودی عرب، برطانیہ میں ہونے والی دہشت گردی کا سب سے بڑا معاون ہے۔ اسی کی معاونت سے برطانیہ میں دہشت گردی کی حالیہ کارروائیاں کی گئیں۔“تھنک ٹینک نے دعویٰ کیا ہے کہ ”سعودی عرب مسلم ممالک میں اور مغربی ممالک کی مسلم کمیونٹیز میں اپنے مخصوص مذہبی مکتبہ فکر کی ترویج کے لیے اربوں ڈالر خرچ کر چکا ہے۔ سعودی عرب کئی بڑے بڑے فلاحی اداروں کو مالی امداد دے رہا ہے جو دنیا بھر میں مذہبی تعلیم فراہم کرتے ہیں۔برطانیہ میں سعودی عرب اسی مقصد کی برآوری کے لیے گزشتہ 50سالوں میں87ارب ڈالر(تقریباً87کھرب روپے) خرچ کر چکا ہے۔“

مزید : بین الاقوامی