’داعش اس بات کی منصوبہ بندی کررہی ہے کہ اب۔۔۔‘ داعش کی قید سے رہائی پانے والے 16 سالہ لڑکے نے ایسا انکشاف کردیا کہ دنیا کو شدید پریشان کردیا

’داعش اس بات کی منصوبہ بندی کررہی ہے کہ اب۔۔۔‘ داعش کی قید سے رہائی پانے ...
’داعش اس بات کی منصوبہ بندی کررہی ہے کہ اب۔۔۔‘ داعش کی قید سے رہائی پانے والے 16 سالہ لڑکے نے ایسا انکشاف کردیا کہ دنیا کو شدید پریشان کردیا

  

دمشق(مانیٹرنگ ڈیسک) شدت پسند تنظیم داعش نے 2014ءمیں شام وعراق میں ہزاروں یزیدی مردوخواتین اور بچوں کو اغواءکیا تھا۔ ان میں سے شامل مردوں کو تو اغواءکے فوری بعد قتل کر دیا گیا لیکن خواتین کو جنسی غلام بنا لیا گیا اور بچوں کو داعش میں شامل ہونے پر مجبور کر دیا گیا۔ ان میں سے جب کوئی خاتون یا بچہ فرار ہو کر واپس آتا ہے ظلم و بربریت کی نئی داستان سناتاہے۔ کرد جنگجوﺅں نے اپنی پیش قدمی میں گزشتہ دنوں ایک یزیدی لڑکے کو داعش کے چنگل سے بازیاب کروایا ہے جس نے ایسا انکشاف کیا ہے کہ جان کر یورپی ممالک لرز جائیں گے۔دی انڈیپنڈنٹ کی رپورٹ کے مطابق ارسیم ابراہیم نامی یہ لڑکا اس وقت 13سال کا تھا جب اسے عراق کے گاﺅں سنجار پر حملہ کرکے دیگر دیہاتیوں کے ہمراہ اغواءکیا گیا۔ اس نے بتایاہے کہ ”داعش یورپ پر ایک بڑا حملہ کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ “

دبئی میں 2پاکستانیوں کی راتوں رات قسمت بدل گئی، اتنی رقم مل گئی کہ کبھی خوابوں میں بھی نہ سوچا تھا

ارسیم کا کہنا تھا کہ ”اغواءکرنے کے بعد وہ ہمیں ایک جگہ لے گئے اور ہماری آنکھوں پر پٹیاں باندھ دیں۔ اس کے بعد مردوں کو انہوں نے گولیاں مار کر قتل کر دیا۔ میری آنکھوں پر پٹیاں بندھی ہوئی تھیں لیکن میں گولیوں اورقتل ہونے والوں کی چیخیں سن سکتا تھا۔ انہوں نے ہر مقتول کو تین گولیاں ماریں۔ پھر انہوں نے خواتین کو جنسی غلام بنا لیا اور منڈی میں لیجا کر فروخت کر دیا اور ہمیں وہاں سے شام کے شہر رقہ منتقل کر دیا۔“

ارسیم ابراہیم نے بتایا کہ ”رقہ میں ہمیں ایک تربیت گاہ میں رکھا گیا جہاں ہمیں راکٹ لانچر اور دیگر اسلحہ چلانے کی تربیت دی جاتی تھی۔ ہمیں خودکش حملہ آوروں کی ویڈیوز دکھائی جاتی اور ایسے ہی حملے کرنے کی ترغیب دی جاتی تھی۔ ہمیں تربیت دینے والے کمانڈر کہتے تھے کہ پریشان مت ہوں۔ ایک دن ہم یورپ پر ایک بہت بڑا حملہ کریں گے۔ اس کے لیے داعش بہت سخت محنت کر رہی ہے۔ ہم ترکی کے راستے لوگوں کو یورپ بھیجیں گے جو وہاں حملہ کریں گے۔“ رپورٹ کے مطابق کرد جنگجو نیٹوافواج کی قیادت میں رقہ شہر کے بالکل قریب پہنچ چکے ہیں جہاں گزشتہ دنوں لڑائی میں انہوں نے ارسیم ابراہیم کو بازیاب کرایا۔ اسے جلد واپس عراق اس کی فیملی کے پاس بھیج دیا جائے گا۔

مزید :

عرب دنیا -