اگر خلاءمیں ایٹم بم پھاڑا جائے تو اس کے زمین پر کیا اثرات آئیں گے؟ جواب ایسا کہ آپ کبھی تصور بھی نہیں کرسکتے

اگر خلاءمیں ایٹم بم پھاڑا جائے تو اس کے زمین پر کیا اثرات آئیں گے؟ جواب ایسا ...
اگر خلاءمیں ایٹم بم پھاڑا جائے تو اس کے زمین پر کیا اثرات آئیں گے؟ جواب ایسا کہ آپ کبھی تصور بھی نہیں کرسکتے

  


واشنگٹن (نیوز ڈیسک)زمین پر ایٹمی دھماکہ ہو تو اس کے کیا نتائج ہوسکتے ہیں، یہ منظر کشی تو آئے روز مختلف تحقیقات اور تجزیات کی صورت میں سامنے آتی ہے، لیکن اگر خلاءمیں ایٹمی دھماکہ کیا جائے تو کیا ہوگا، اس کے بارے میں ایک مفصل رپورٹ پہلی بار سامنے آئی ہے۔

ویب سائٹ سائنس اے بی سی کی رپورٹ کے مطابق خلاءمیں ایٹمی دھماکہ ہونے کی صورت میں پہلے تو زمین پر ہزاروں مربع کلومیٹر کے علاقے پر آنکھیں چندھیادینے والی روشنی نظر آئے گی اور اس کے ساتھ ہی بجلی، راڈار اور مواصلات کے نظام ناکارہ ہو جائیں گے۔

دراصل امریکہ ماضی میں ’پراجیکٹ فش باﺅل‘ کے نام سے چلائے جانے والے پراجیکٹ کے تحت متعدد ایٹمی ہتھیاروں کی خلاءمیں ٹیسٹنگ کر بھی چکا ہے۔ اسی منصوبے کے تحت 9جولائی 1962ءکے دن زمین سے 250 میل کی بلندی پر 1.4 میگا ٹن کے ایٹم بم کا دھماکہ کیا گیا۔ چونکہ خلاءمیں ہوا نہیں ہوتی لہٰذا اس دھماکے کی وجہ سے صدمہ خیز اموج بھی پیدا نہیں ہوئیں، جو کہ زمین پر پھٹنے والے ایٹم بم کا سب سے تباہ کن پہلو ہوتا ہے۔ اس تجربے سے حرارت اور روشنی کی بڑی مقدار خارج ہوئی جس کے ساتھ گیما شعائیں اور ایکسرے شعائیں بھی خارج ہوئیں۔ اس دھماکے نے آسمان کو روشن کردیا جبکہ زمین پر بھی ہزاروں مربع کلومیٹر کے علاقے پر روشنی کے مرغولے نظر آئے۔ یہ مرغولے ایٹمی دھماکے سے نکلنے والے چارج شدہ ذرات کے زمین کے مقناطیسی فیلڈ کے ساتھ تعامل کے نتیجے میں پیدا ہوئے تھے۔

برمودہ ٹرائی اینگل میں ایک ایسی پراسرار چیز نمودار ہو گئی کہ سب کے ہوش اڑ گئے

ماہرین کا کہنا ہے کہ خلاءمیں ایٹم بم کا دھماکہ کرنے سے اس سے نکلنے والے تابکار ذرات کی اکثریت بھی خلاءمیں ہی تباہ ہوجاتی ہے۔ اس دھماکے کے نتیجے میں خلاءمیں ایک طاقتور مقناطیسی فیلڈ بھی پیدا ہوجاتا ہے۔ الیکٹرو میگنیٹک پلس (ای ایم پی) کہلانے والا یہ مقناطیسی فیلڈ چارج شدہ الیکٹرونوں پر مشتمل ہوتا ہے۔

جب امریکہ نے خلاءمیں پہلا دھماکہ کیا تو اس کے نتیجے میں طاقتور الیکٹرون مقناطیسی فیلڈ نے ریاست ہوائی کے بڑے حصے میں بجلی کا نظام ناکارہ کردیا تھا، جبکہ راڈار اور نیوی گیشن سسٹم بھی بند ہوگئے تھے جس کے نتیجے میں الیکٹرونک کمیونیکیشن کا نظام ٹھپ ہوگیا تھا۔ سائنسدانوں نے اس دھماکے سے نتیجہ اخذ کیا تھا کہ کسی ملک کے اوپر سینکڑوں میل کی بلندی پر ایٹمی دھماکہ کرکے اس کے مواصلاتی اور بجلی کے نظام کو ناکارہ کیا جاسکتا ہے۔

سٹار فش پرائم پراجیکٹ میں استعمال کئے گئے بم کا حجم صرف 1.4 میگا ٹن تھا مگر آج کل کے ایٹم بم اس سے کہیں زیادہ طاقتور ہیں، یعنی آج کے دور میں ایٹم بم کا دھماکہ زمین سے سینکڑوں میل کی بلندی پر بھی کیا جائے تو براہ راست نیچے واقع ایک سے زائد ممالک میں بجلی اور مواصلات کے نظام کو بھاری نقصان پہنچے گا۔

1950ءاور 1960ءکی دہائی میں خلاءمیں چند ایٹمی تجربات کئے جاچکے ہیں۔ اس کے برعکس 1945ءاور 1998ءکے درمیان زمین پر 2000 سے زائد ایٹمی تجربات کئے گئے ہیں۔ اگرچہ ان کے نقصانات کی نوعیت الگ ہے لیکن ایٹمی دھماکہ زمین پر کیا جائے یا خلاءمیں بہرصورت انسانوں کیلئے بے حد تباہ کن ثابت ہوتا ہے۔

مزید : بین الاقوامی