برہان وانی کی پہلی برسی، بھارت کی ریاستی دہشت گردی، 21ہزار اضافی فوجی تعینات، نوجوانوں کی گرفتاریاں، تھانوں میں جگہ کم پڑ گئی

برہان وانی کی پہلی برسی، بھارت کی ریاستی دہشت گردی، 21ہزار اضافی فوجی تعینات، ...
برہان وانی کی پہلی برسی، بھارت کی ریاستی دہشت گردی، 21ہزار اضافی فوجی تعینات، نوجوانوں کی گرفتاریاں، تھانوں میں جگہ کم پڑ گئی

  


سری نگر (ڈیلی پاکستان آن لائن ) مقبو کشمیر میں حزب المجاہدین کے نوجوان کمانڈر برہان وانی کے پہلے یوم شہادت سے قبل ہی قابض افواج نے بڑے پیمانے پر کریک ڈاون شروع کردیا ہے نوجوانوں کی گرفتاریوں سے تھانوں میں جگہ کم پڑگئی، پوری وادی میں حالات نہایت کشیدہ ہیں،سخت ترین سیکورٹی کے باعث سرینگر خاص کر جنوبی کشمیر فوجی چھاونی میں تبدیل ہوکے رہ گیا ہے۔بھارت نے ریاستی دہشت گردی کے ذریعے گھر گھر تلاشی شروع کردی ہے جبکہ نوجوانوں سے موٹر سائیکلوں کی پکڑ دھکڑ کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

بھارت آن لائن اور آف لائن جنگ ہار چکا ،سوشل میڈیا کشمیری تحریک آزادی کے لیے ایک گیم چینجر ثابت ہوا :ہندوستان ٹائمز

کشمیر مانیٹر کی رپورٹ کے مطابق کشمیری حریت پسند رہنماوں کی جانب سے برہان وانی کی برسی کے موقع پر پوری ریاست میں ایک ہفتے کے لیے مظاہرے کرنے کا اعلان کے اعلان کے بعد وانی کی برسی سے قبل ہی بھارتی فورسز نے کشمیر کے زیادہ تر حریت پسند رہنماوں کو نظر بند کر دیا اور اس کے ساتھ ہی بھارتی حکام نے لوگوں کی نقل و حمل کو بھی کنٹرول کرنا شروع کردیا جبکہ وادی میں موبائل فون سروس بھی معطل کر دی گئی۔مقامی پولیس افسران کے مطابق جنوبی کشمیر کا ایک پولیس اسٹیشن نوجوانوں سے ضبط کی گئیں موٹر سائیکلوں سے بھر گیا ہے۔حالیہ جھڑپوں اور مظاہروں سے متاثر ہونے والے کشمیر کے جنوبی علاقوں میں بھارتی فورسز نے 21 ہزار اضافی اہلکار تعینات کر دیے۔کشمیر کے ہسپتال میں موجود ایک 17 سالہ نوجوان نے کشمیر مانیٹر سے  حریت پسندوں کو بھارتی فورسز کی گولیوں سے بچانے کے لیے وہ خود فورسز کے فائرنگ کے درمیان میں آکر شدید زخمی ہوگیا تھا۔فائرنگ کی زد میں آنے کی وجہ سے کشمیری نوجوان اس وقت بہت کمزوری کی حالت میں تھا لیکن اسے ابھی امید تھی کہ وہ جلد اپنے دوستوں کے درمیان ہوگا۔ہسپتال کے بستر پر اس کا کہنا تھا کہ وہ دعا کر رہا ہے کہ جیسے ہی وہ یہاں سے اٹھے تو اسے بھارتی فورسز کے خلاف لڑنے کے لیے ہتھیار مل جائے تاکہ وہ اپنے دیگر ساتھیوں میں شامل ہوسکے۔

برہان مظفر وانی کی پہلی برسی، مقبوضہ کشمیر میں انٹرنیٹ سروس، سوشل میڈیا ویب سائٹس، ٹرین سروس معطل ، 21 ہزار اضافی فوجی تعینات

کشمیر عظمیٰ سے گفتگو کرتے ہوئے کشمیری حکام کا ماننا ہے کہ سرکاری حکومت کو کسی بھی مسلح کارروائی سے زیادہ عام لوگوں کے غم و غصے کو نمٹنے کا چیلنج درپیش ہے۔ایک سینیئر سیکیورٹی اہلکار نے اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ بھارتی فورسز نے وادی کشمیر میں حریت پسندوں کے خلاف کاروائیوں میں اضافہ کرتے ہوئے انہیں ختم کیا لیکن ان کارروائیوں کے دوران سیاسی انتظامیہ کے موجود نہ ہونے کی وجہ سے حریت پسندوں نے بھارت کے خلاف عام عوام کے غصے کو مزید بڑھا دیا۔

مزید : قومی /اہم خبریں