لالۂ صحرائی۔۔۔ ایک نادرۂ روزگار شخص

لالۂ صحرائی۔۔۔ ایک نادرۂ روزگار شخص
لالۂ صحرائی۔۔۔ ایک نادرۂ روزگار شخص

  

اردو کے صاحب طرز ادیب اور نعت گو شاعر لالۂ صحرائی جمعہ 7جولائی 2000ء کو وفات پاگئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ مرحوم اپنے بے شمار جاننے والوں کو غمزدہ اور افسردہ کرگئے، یہ محض رسمی بات نہیں ہے کہ مرحوم بے حد مخلص انسان، ایک باعمل مسلمان اور غیر معمولی قسم کے میزبان تھے، ان کا ہر جاننے والا اس امر کی تصدیق کرے گا کہ وہ سراپا اخلاص اور مبالغے کی حد تک کریم النفس انسان تھے۔ اُن کی رحلت سے علمی، دینی اخلاقی اور انسانی حوالے سے یقیناً ایک ایسا خلا پیدا ہوا ہے جو کبھی پُر نہیں ہوسکے گا۔

لالۂ صحرائی افسانہ نگار تھے، ڈرامانویس تھے، مزاح نگار اور طناز تھے، وہ سوانح نگار اور مترجم بھی تھے اور تبلیغی سیاسی مضامین کے خالق بھی اور خصوصی بات یہ ہے کہ ایک منفرد اور حسین ورعنا اسلوب نگارش رکھتے تھے۔

موضوع کی مناسبت سے مرحوم جب قلم ہاتھ میں لیتے تو بلامبالغہ ادب و انشا کی ساری خوبیاں ہاتھ باندھ کر ان کے سامنے کھڑی ہو جاتیں۔ سلاست و شعریت، لہجے کا باوقار دھیما پن اور قوت استدلال، شگفتگی، دل فریبی، منظر نگاری، جزئیات نگاری، جذبات و احساسات کا برجستہ اور مسحور کن اظہار اُن کی تحریر کا طرۂ امتیاز تھا، جسے خلوص اور مقصدیت کی گرم جوشی دو آتشہ بناکر دل و دماغ میں اتار دیتی ہے۔

یہ امر خاصا دلچسپ اور معنی خیز ہے اگرچہ ان کے قارئین کا حلقہ خاصا وسیع تھا، مگر بہت کم لوگوں کو لالۂ صحرائی کا تعارف حاصل تھا اور سوائے ایک محدود طبقے کے کوئی نہیں جانتا تھا کہ ان کا اصل نام چودھری محمد صادق تھا اور وہ ملتان کے قریب ایک قصبہ جہانیاں میں مقیم تھے۔

مُنکسرالمزاجی کا یہ عالم تھا کہ وہ اپنی بے مثل علمی و ادبی صلاحیتوں کو اپنی درویش منشی، فطری انکسار اور نام و نمود کے جائز اظہار سے بھی طبعی بے نیازی کی وجہ سے مناسب انداز میں اجاگر نہ کر پائے۔

لالۂ صحرائی نے کم لکھا، لیکن جو کچھ لکھا وہ سونے میں تولنے کے قابل ہے، انہوں نے اپنی تصنیفی و تخلیقی صلاحیتوں کو اعلیٰ و ارفع مقاصد کے لئے وقف کئے رکھا۔ وہ دل و جان سے چاہتے تھے کہ وطن عزیز میں اسلامی شریعت کا نفاذ ہو اور فرد اور معاشرہ اسلام کی برکات سے بہرہ یاب ہو جائے، اس حوالے سے وہ مولانا سید مودودی اور جماعت اسلامی سے گہرا قلبی لگاؤ رکھتے تھے۔

ان کی ایک ایک تحریر کا مقصد اعلائے کلمتہ اللہ اور تزکیہ نفس اور تطہیر افکار کے سوا کچھ نہ تھا اور اس حوالے سے ان کی تحریریں بلاشبہ ادب اسلامی کی بہترین نمائندہ تحریریں ہیں، تاہم عدیم النظیر تخلیقی صلاحیتوں کے باوجود نمود و تشہیر کے مروجہ طریقوں سے بیزار رہے ورنہ بلامبالغہ محترم کا شمار ملک کے چند صفِ اول کے افسانہ نگاروں، مزاح نویسوں اور ڈراما لکھنے والوں میں ہوتا اور لوگ اُن کی تحریروں کو سند کے طور پر پیش کیا کرتے، مگر وہ عمر بھر نام و نمود سے بے نیاز رہے۔

اصل نام کے بجائے مختلف قلمی ناموں سے لکھتے رہے، حتیٰ کہ مدیر ان جرائد کے اصرار پر جو نام بالآخر مستقلاً اختیار کیا ’’لالۂ صحرائی‘‘ وہ بھی قلمی ہی تھا، انہوں نے اپنے افسانوں، ڈراموں، طنزیہ و مزاحیہ مضامین اور تراجم کا کوئی مجموعہ مرتب نہ کیا اور بعض احباب کے اصرار پر نثری نگارشات کے صرف دو مجموعے مرتب اور شائع کرنے پر آمادہ ہوئے۔ نور منارہ جو مولانا سید مودودی کے بارے میں ان کے مضامین پر مشتمل ہے اور چمن میری امیدوں کا جو اُن کے مرحوم احباب کے تاثراتی خاکوں پر مشتمل ہے۔

لالۂ صحرائی کی تحریروں میں حُسن و لطافت اور تاثر و دل آویزی کی جو شان پائی جاتی ہے، وہ چودھری محمد صادق کے عمومی رویے میں جاکر محبت و مروت اور تواضع و انکساری میں بدل گئی تھی اور اعلیٰ اخلاقی قدروں کے ایک چلتے پھرتے، جیتے جاگتے نمونے کی صورت اختیار کرگئی تھی، چنانچہ مرحوم و مغفور سے ملنا،ان کے پاس کچھ لمحات گزارنا اور ان کے ہاں مہمان ٹھہرنا بھی زندگی کا ایک روح پرور تجربہ بن جاتا تھا، ان کا مطالعہ وسیع تھا، مختلف موضوعات پر بے پناہ معلومات رکھتے تھے،تجزیے کی صلاحیت بھی خوب تھی اور لطیفے کو بیان کرنے کے صحیح ڈھنگ سے بخوبی واقف تھے، اس لئے مہمان ایک طرف تو ان کی پُر لطف حکیمانہ گفتگو سے محفوظ ہوتا اور ساتھ ہی ان کی میزبانی کے انوکھے انداز سے بہرہ یاب ہوتا۔

چودھری محمد صادق لالۂ صحرائی جہاں اپنی شخصیت، کردار اور عمومی و اخلاقی رویوں کے اعتبار سے نادرۂ روزگار تھے، وہاں شاعری کی تاریخ کا ایک عجوبہ بھی ان سے منسوب ہے۔ وہ 1990ء تک صرف نثر لکھتے تھے۔

خوبصورت مُرصع نثر۔۔۔لیکن وہ شاعری نہیں کرتے تھے، تاہم ان کے بقول انہیں جو حج اور عمروں کی بار بار سعادت نصیب ہوتی رہی، اس کے دوران وہ دعا کی صورت میں اس تمنا کا اظہار کرتے رہے کہ انہیں نعت رسول اکرمؐ کی توفیق حاصل ہو جائے اور یہ دعا جولائی 1990ء میں یوں قبول ہوئی کہ اُن پر نعتوں کا نزول یکایک شروع ہوگیا اور پانچ چھے ماہ کے مختصر عرصے میں دسمبر 1990ء تک نعتوں پر مشتمل اُن کا پہلا مجموعہ مکمل ہو گیا اور اکتوبر 1991ء میں لالہ زارِ نعت کے عنوان سے شائع ہوگیا، اس کے بعد تو گویا ایک سرسبز و شاداب خوش منظر پہاڑی سے ٹھنڈے میٹھے آبِ حیات کا دائمی چشمہ جاری ہوگیا اور اگست 1999ء تک یکے بعد دیگرے نعتوں کے تین مجموعے(بارانِ نعت، غزوات رحمتہ للعالمینؐ اور نعت ستارے) اور ایک حمد یہ نظموں کا مجموعہ(قلم سجدے) شائع ہوگئے، جبکہ چار مجموعے غیر مطبوعہ صورت میں مرتب و مکمل ہوگئے تھے جو اُن کی وفات کے بعد اُن کے صاحبزادوں نے شائع کئے۔لالۂ صحرائی کو نبی اکرمؐ کی ذات گرامی سے غیر معمولی عشق تھا اور اس کا اظہار ان کی ایک ایک نعت اور نعت کے ایک ایک شعر سے ہوا اور ان کے مطابق زندگی بسر کرنے کو لازمۂ حیات قرار دیتے ہیں۔ اس سلسلے کے چند اشعار ملاحظہ ہوں:

صد شکر کہ آپہنچا تو نعت کے گلشن میں

منزل تھی یہی تیری، اے لالۂ صحرائی

سوائے نعت کے، ہر شوق دل سے محو ہوا

عبودیت میں عجب ایک مقام آیا ہے

خدا کرے ملے توفیق سب کو طاعت کی

اگرچہ ملتے ہیں عُشاق بے شمار یہاں

اپنے آقاؐ کی اطاعت کی مجھے توفیق ہو

یہ دعا کرتا رہوں گا میں سدا باچشم نم

دین حق سے گہری عملی وابستگی اور اللہ کے بندوں سے غیر معمولی اخلاص کی برکت سے لالۂ صحرائی کی گھریلو او خاندانی زندگی مطمئن و مسرور گزری، ان کے چاروں بیٹے برسرروزگار ہیں، جن میں سے دو ڈاکٹر ہیں۔بیٹیاں بھی اپنے اپنے گھروں میں سکھی ہیں۔

موصوفِ مرحوم کی صحت بھی بحیثیت مجموعی متوازن رہی، لیکن چند برسوں میں انہیں دو ایسے صدمات سے دو چار ہونا پڑا، جنہوں نے ان کے اعصاب کو شدید ترین صورت میں متاثر کیا اور نیم جان بنادیا۔

یعنی محمد صلاح الدین کی شہادت اور مفارقت اور وفات سے تقریباً ایک برس پہلے چھوٹے سگے، بھائی کا انتقال۔ صلاح الدین شہیدؒ سے ان کا تعلق خاطر غیرمعمولی تھا، بلکہ سگے بھائیوں سے بھی بڑھ کر۔

مرحوم و مغفور چودھری محمد صادق 14فروری 1920ء کو ضلع امرتسر کے ایک قصبہ مہتہ میں پیدا ہوئے، ان کے والدین ان پڑھ تھے اور امیر بھی نہ تھے، اس لئے وہ میٹرک سے آگے تعلیم حاصل نہ کر سکے، لیکن ذاتی محنت اور وسیع مطالعے سے وہ مختلف علوم و فنون کا ایسا بحرِز خار بن گئے تھے کہ بڑے بڑے علما بھی اُن پر رشک کرتے تھے۔

دعا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اُن کی قبر کو نور سے بھردے، جنت الفردوس میں انہیں مقامات بلند سے نوازے اور اُن کے سارے متعلقین کو صبر جمیل عطا فرمائے، آمین۔

مزید :

رائے -کالم -