ملکی سیاسی بساط نواز شریف کی واپسی کے فیصلے کی روشنی میقں بچھے گی

ملکی سیاسی بساط نواز شریف کی واپسی کے فیصلے کی روشنی میقں بچھے گی
ملکی سیاسی بساط نواز شریف کی واپسی کے فیصلے کی روشنی میقں بچھے گی

  

تجزیہ :سہیل چوہدری

الیکشن سے قبل سزا کیوں سنائی؟یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب ملک کی حقیقی سیاسی صورتحال کا غماز ہو سکتا ہے ۔ احتساب عدالت میں گزشتہ روز فیصلہ سنانے کا اعصاب شکن اور سنسنی خیز کھیل 8گھنٹے سے زائد دورانیے پر محیط رہا ۔ نہ صرف ملک بھر بلکہ دنیا میں جہاں جہاں پاکستانی بستے ہیں اس سارے وقت میں اعصابی تناؤ کا شکار رہے۔ عام طور پر کہا جا رہا ہے کہ جمعتہ المبارک کا دن پاکستان مسلم لیگ(ن) اور شریف خاندان کے لیئے بھاری ثابت ہو رہاہے ۔ گزشتہ روز بھی جمعہ کا دن تھا۔ تاہم جب 4بج کر 23منٹ پر احتساب عدالت کا فیصلہ سامنے آیا تو یہ عمومی طور پر لوگوں کی توقعات کے زیادہ منافی نہیں تھا ۔ پاکستان مسلم لیگ(ن) کے مخالف توہر صورت یہی توقع کر رہے تھے کہ نواز شریف، مریم نواز کو سزا ہو گی لیکن ن لیگی حامیوں اور رہنماؤں کا یہی خیال تھا کہ جس طرح سیاسی بنیادوں پر احتساب بے رحم ہوا ہے اس سے انہیں کسی اچھّے کی امید ہر گز نہیں تھی، کیونکہ نواز شریف کا مجھے کیوں نکالا کے نعرہ کا جادو سر چڑھ کر بول رہا تھا ۔ اس طرح نواز شریف کو نا اہل کرنا بھی اسی لیئے ضروری ہو گیا تھا کہ پی ٹی آئی کے غبارے میں ہوا بھرنے کی تمام تر کوششوں کے باوجود بات نہیں بن رہی تھی۔ نہ صرف نا اہل کرنے بلکہ انتخابات میں مطلوبہ نتائج کے لیئے سیاسی بنیادوں پر بے رحم احتساب اور سیاسی وفاداریوں کے تبادلوں کے ریلوں کے باوجود ن لیگ کا ووٹر مستحکم نظر آرہا تھا جبکہ تمام انتخابی جائزے بھی چیخ چیخ کر ایسی صورتحال کی عکاسی کر رہے تھے سینیٹ انتخابات سے شروع ہونے والی سیاسی انجنیئرنگ بھی کوئی رنگ نہ لا سکی ۔ جب سابق وزیر اعظم نواز شریف کو نا اہل کیا گیا تھا تو وہ شاید بڑا اور غیر متوقع فیصلہ تھا اس کے تقابل میں گزشتہ روز احتساب عدالت کا سامنے آنے والا فیصلہ کوئی زیادہ غیر متوقع نہ تھا لیکن تمام تر سیاسی انجنیئرنگ اور طبع آزمائیوں کی گراس روٹ لیول پر ناکامی کا منطقی انجام یہی تھا کہ الیکشن سے قبل نواز شریف اور مریم نواز کو سزا سنا دی جائے۔اس بنا پر مجھے کیوں نکالا کے بعد’’مجھے کیوں سزا سنائی گئی‘‘؟ ایک اہم سیاسی سوال کے طور پر ن لیگ کی انتخابی مہم کو مہمیز کرنے میں ممدو معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ احتساب عالت کی جانب سے سزا کے بعد پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں محمد شہباز شریف کی جانب سے پریس کانفرنس رد عمل کے طور پر سامنے آئی تاہم کروڑوں پاکستانی عوام کی نظریں اب اس بات پر لگی ہوئی ہیں کہ نواز شریف 25جولائی سے قبل وطن واپس آتے ہیں یا نہیں۔ آئندہ ملک کی سیاسی بساط اب نواز شریف کے اس ضمن میں فیصلہ کی روشنی میں بچھے گی ،تاہم نواز شریف نے بعد ازاں لندن سے پریس کانفرنس میں واپسی کا اعلان تو کر دیا ہے لیکن تاحال انہوں نے شیڈول کا اعلان اپنی اہلیہ بیگم کلثوم نواز کے ہوش میں آنے سے مشروط رکھا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اینٹی نواز شریف قوتوں کی پہلی ترجیحی خواہش یہی لگتی ہے کہ وہ سابق صدر جنرل(ر) مشرف کی طرح واپس نہ آئیں اور مکمل سیاست سے ازخود بے دخل ہو جائیں۔ لگتا ہے کہ شاید یہ حسرت پوری نہ ہو۔ قوی امکان یہی ہے کہ نواز شریف واپس آکر ملک میں ایک نئی سیاسی جدو جہد کی بنیاد رکھیں گے۔ اگرچہ پاکستان مسلم لیگ(ن) کے خلاف کارروائیوں کے نتیجہ میں ملک میں جاری انتخابی مہم گھنا چکی ہے۔ا نتخابی مہم میں جوش و جذبہ مفقود اور بے یقینی کے سائے نمایاں ہیں۔ ایسی بے رنگ، بے بواور بے ذائقہ انتخابی مہم شاید جنرل مشرف کے دور آمریت میں 2002ء میں ہونے والے انتخابات سے مماثل ہو سکتی ہے لیکن نواز شریف کی وطن واپسی پورے انتخابی ماحول کو بدل سکتی ہے اس لحاظ سے نواز شریف کی وطن واپسی پاکستان کے آئندہ جنرل الیکشن جو اب ایک سلیکشن کی شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں کیلئے اور پاکستان کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے ایک ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہو سکتی ہے۔

کیپیٹل واچ

مزید : تجزیہ