مبینہ ویڈیو اورملک میں جاری احتساب کا مستقبل

مبینہ ویڈیو اورملک میں جاری احتساب کا مستقبل
مبینہ ویڈیو اورملک میں جاری احتساب کا مستقبل

  


مسلم لیگ ن کی مرکزی رہنما اور نائب مریم نواز کی طرف سے پریس کانفرنس کے دوران احتساب عدالت کے جج صاحب کی مبینہ ویڈیو پیش کئے جانے کے بعد ملکی سیاست ایک بھونچال کی کیفیت سے دوچار ہے ۔ اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعدقومی میڈیا پر حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے اپنا اپنا موقف بڑے زور وشور سے پیش کیا جارہا ہے ، غیر جانبدار ی سے اگر اس سارے منظر نامے کا جائزہ لیا جائے تو حکومت کی جانب سے جوردعمل آیا ہے ، اس میں سارا زور اس ویڈیو کے مرکزی کردار ناصر بٹ پر ڈالا گیاہے اور اس کے جرائم کو اجاگر کرتے ہوئے اس پر قائم مقدمات کی تفصیلات بیان کی جارہی ہیں حالانکہ اس ویڈیو میں ایک جج کے ساتھ اس کی گفتگو کا اس کے جرائم کا ساتھ کیا تعلق ہے ؟ حکومتی موقف کا بغور جائزہ لیا جائے تو اس میں سے کچھ بھی نہیں نکلتا سوائے اس با ت کہ ایک شخص جو سنگین جرائم میں ملوث ہے ،اس پر کئی مقدمات درج ہیں ایک ایسے جج صاحب کے ساتھ محوگفتگو ہے جو اس ملک کی ایک اہم شخصیت کو جو تین مرتبہ وزارت عظمیٰ کے منصب جلیلہ پر فائز رہ چکی ہے ، نیب کے ایک کس میں سزا سنا چکے ہیں ۔ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اس ویڈیو کا فوری فرانزک آڈٹ کرواکے اصل حقائق عوام کے سامنے لائے جاتے اوردو دھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجاتا لیکن کوئی ایسا واضح اعلان کرنے کی بجائے سارا زور ناصر بٹ کی ذات پر ڈالا گیاہے جس سے مطلع صاف ہونے کی بجائے صورتحال مزید الجھ گئی ہے۔ اب اگر ویڈیو میں وہی جج صاحب ہیں جن کے بارے میں دعویٰ کیا جارہاہے تو ان کی گفتگو بھی بنظر غائر سننے کے بعد یہ بات کہنے میں کوئی باک نہیں کہ جج صاحب نے کہا کہ نواز شریف پر کوئی کرپشن یا لین دین ثابت نہیں ہوا، فیصلہ دینے کیلئے ان پر دباﺅ تھا توپھر ان جج صاحب کوچاہئے تھا کہ کیس کی سماعت سے معذرت کرلیتے تاکہ ضمیرکے خلاف جاکر فیصلہ نہ دینا پڑتاجو بعد میں ایسی کسی ویڈیو کے معرض وجود میں آنے کاباعث بنتا۔ دوسر ی جانب اپوزیشن رہنماﺅں کی جانب سے اس مبینہ ویڈیو کے سامنے آنے پر نیب کو ایک مرتبہ پھر ہدف تنقید بنالیاگیا ہے، اپوزیشن کوچاہئے تھا کہ بجائے اس معاملے پر نیب اوردیگر اداروں کوہدف تنقیدبنانے کی بجائے حکومت سے اس ویڈیوکی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتی ، اپوزیشن کی جانب سے دھاندلی کی تحقیقات کیلئے اگر پارلیمانی کمیٹی بنانے کا مطالبہ بنانے کا مطالبہ کیا جا سکتاہے تو یہ معاملہ بھی کچھ کم اہم نہیں ہے جس میں ایک لحاظ سے احتساب عدالتوں کی ساکھ پر سوالیہ نشان لگ گیاہے کیونکہ احتساب سیاسی جماعتوں کا معاملہ نہیں بلکہ ملک وقوم کی بہتری کیلئے ایک بے لاگ اور شفاف احتسابی نظام کا نظام حکومت کے ساتھ ساتھ چلتے رہنا ضروری ہے ، اب اگر اسی شور شرابے میں نیب اوردیگر احتساب کے اداروں کوہدف تنقیدبنایا جاتارہے گا تو اس میں کوئی بعید نہیں کہ ملک میں جاری احتساب کا عمل جو شروع ہی سے سست روی کا شکار رہاہے اپنی ساکھ کھوبیٹھے گا جس میں سیاسی رہنماﺅں کا فائدہ تو شائد ہو! لیکن ملک و قوم کا نقصان ضرور ہوگا ۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید : بلاگ


loading...