چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدمِ اعتماد، امکانات اور خدشات

چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدمِ اعتماد، امکانات اور خدشات

اپوزیشن جماعتوں کی رہبر کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف عدمِ اعتماد کی تحریک 9جولائی کو پیش کر دی جائے گی اور11جولائی تک یہ فیصلہ کر لیا جائے گا کہ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے سینیٹ کا متفقہ امیدوار کون ہو گا، تاہم چیئرمین سینیٹ کے حامی بھی میدان میں ہیں اور انہوں نے دوسری سرگرمیوں کے علاوہ یہ پروپیگنڈہ بھی تیز کر دیا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں اپنا متفقہ امیدوار لانے میں کامیاب نہیں ہو سکتیں،کیونکہ ہر جماعت یہ چاہے گی کہ اس کا امیدوار کامیاب ہو،لیکن اپوزیشن کے پاس اِس پروپیگنڈے کو ناکام بنانے کے لئے چند دِن ہیں، وہ اس کا عملی جواب اپنے متفقہ امیدوار کا اعلان کر کے دے سکتی ہیں،البتہ اگر ایسا نہ ہو سکا تو پھر چیئرمین کے حامی کہیں گے، دیکھاہم نہ کہتے تھے کہ اپوزیشن اپنا متفقہ امیدوار نہیں لا سکتی۔

سینیٹ کے انتخابات گزشتہ برس مارچ میں ہوئے تھے اور اِس امر کا خصوصی اہتمام کیا گیا تھا کہ مسلم لیگ(ن) کسی بھی طرح اپنا چیئرمین منتخب نہ کرا سکے، اس کے لئے طریق ِ کار یہ اختیار کیا گیا کہ بلوچستان میں مسلم لیگ(ن) کی حکومت کے خاتمے کے لئے وزیراعلیٰ ثناء اللہ زہری کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی گئی، وہ بیرون ملک تھے جب انہیں اس سیاسی سرگرمی کی اطلاع ملی وہ بھاگم بھاگ واپس آئے تو انہیں اندازہ ہوا کہ وہ جن پتوں پر تکیہ کر سکتے تھے وہی ہَوا دینے لگے تھے۔اِن حالات میں اُن کے لئے تحریک کا مقابلہ مشکل تھا، اس وقت کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی بھی کوئٹہ کے دورے پر گئے،لیکن اُن کی پارٹی میں جو بغاوت ہو چکی تھی اس کا کوئی مداوا نہ کر سکے،اِس لئے نواب زہری نے استعفا دے دیا۔

صوبے میں جو نئی سیاسی جماعت اور جو نئی حکومت بنی اُس نے ایسے سینیٹروں کو منتخب کرایا جو چیئرمین کے لئے بھی اس کے نامزد کردہ امیدوار کو ووٹ دیں، سب سے بڑا ”اَپ سیٹ“ یہ ہوا کہ چیئرمین کے معاملے پر تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی اپنے تمام تر اختلافات کے باوجود ایک صفحے پر آ گئیں چنانچہ صادق سنجرانی چیئرمین منتخب ہو گئے اور مسلم لیگ(ن) سینیٹ کی سب سے بڑی پارٹی ہونے کے باوجود ہاتھ ملتی رہ گئی۔سینیٹ کے انتخابات ہی سے اُسے آنے والے دِنوں کی مشکلات کا ادراک ہونا شروع ہو گیا تھا۔ آصف علی زرداری کا اس معاملے میں بڑا کردار تھا،کیونکہ اُن کا ایک نکاتی ایجنڈا تھا کہ مسلم لیگ(ن) کا چیئرمین کسی صورت منتخب نہیں ہونا چاہئے، اس میں وہ کامیاب رہے،لیکن زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا جب اُنہیں اس وقت خدا یاد آنا شروع ہو گیا، جب بتوں نے اُنہیں رنج پہنچانے کا آغاز کیا،لیکن اس وقت تک وہ سارے پتے کھیل چکے تھے اور ان کے ہاتھ میں کچھ نہیں رہ گیا تھا۔یوں کہئے کہ کھیل ان کے ہاتھ سے نہ نکلتا تو شاید آزمائش کا وہ دور بھی شروع نہ ہوتا جو اب تک جاری ہے۔

سینیٹ کے انتخابات سے جس قسم کا جوڑ توڑ شروع ہوا تھا وہ عام انتخابات میں مکمل ہوا، زرداری کہتے تھے ہمارے بغیر کوئی حکومت نہیں بن سکتی، لیکن جو نقشہ اُبھر کر سامنے آیا اس میں حکومت سازی کے لئے زرداری یا پیپلزپارٹی کا کوئی کردار نہیں تھا، تب انہیں آنے والے حالات کا کچھ کچھ اندازہ ہونا شروع ہو گیا تھا،جب حقائق سے پردہ ہٹنے لگا تو اس وقت کچھ نہیں ہو سکتا تھا۔مولانا فضل الرحمن اگرچہ پہلے دن سے انتخابات کے نتائج کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں تھے اور انہوں نے مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی کو بھی ایسا کرنے کی تلقین کی، یہ تجویز بھی سامنے آئی کہ اپوزیشن جماعتیں حلف نہ اٹھائیں، لیکن اس وقت تک شاید زرداری حالات سے پوری طرح مایوس نہیں ہوئے تھے،اِس لئے انہوں نے مولانا فضل الرحمن کی تمام تر کوششوں کے باوجود صدارتی انتخاب میں بھی اُن کی حمایت نہ کی اور پیپلزپارٹی اپنا صدارتی امیدوار بھی لے آئی جو نہ تو جیت سکتا تھا اور نہ جیتا،پوزیشن بھی تیسری رہی اور یوں تحریک انصاف اپنا صدر منتخب کرانے میں کامیاب ہو گئی،حالانکہ اگر صدارتی امیدوار متفقہ ہوتا تو نتیجہ مختلف بھی ہو سکتا تھا، شکست بھی آبرومندانہ ہوتی، لیکن بے جا امیدیں اور لایعنی توقعات انسان کو درست فیصلے کرنے سے ہمیشہ روکتی ہیں،سو اپوزیشن بھی ایسے فیصلے کرتی رہی،جنہیں درست نہیں کہا جا سکتا تھا،لیکن نہ صرف یہ فیصلے کئے گئے، بلکہ ان پر اصرار بھی کیا گیا۔

مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی شاید آج بھی اپنے اپنے پسند کے راستے پر چل رہی ہوتیں، لیکن حالات کی سنگینیوں نے انہیں ڈھیلے ڈھالے اتحاد کی راہ پر ڈال دیا،مقدمات کی بھرمار نے دونوں جماعتوں کو قربتوں پر مجبور کیا اور مولانا فضل الرحمن کی کوششوں سے ایک اے پی سی بھی ہو گئی، جس میں تشکیل پانے والی رہبر کمیٹی نے بالآخر چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا فیصلہ کر لیا، اس سیاسی مہم جوئی کے دو حصے ہیں،پہلا یہ کہ چیئرمین کو ہٹایا جائے اور دوسرا یہ کہ اُن کی جگہ متفقہ چیئرمین لایا جائے۔ یہ دونوں کام اگر منصوبے کے مطابق تکمیل پذیر ہوں گے تو ہی کوئی نتیجہ نکلے گا۔اگر اپوزیشن جماعتیں چیئرمین کو ہٹانے میں کامیاب ہو جائیں اور اپنا امیدوار لانے میں ناکام رہیں تو کامیابی کا دائرہ مکمل نہیں ہو گا، اس لئے کامیابی اسی صورت مکمل سمجھی جائے گی،جب دونوں مراحل کی تکمیل ہو۔

اس وقت سینیٹ میں اپوزیشن جماعتوں اور آزاد سینیٹروں کی تعداد63ہے، جن میں مسلم لیگ(ن) سب سے بڑی جماعت ہے،جس کے ارکان30 ہیں البتہ ان تیس میں تیرہ وہ ہیں جو فنی طور پر آزاد کہلاتے ہیں، کیونکہ انہیں ٹکٹ نواز شریف کی طرف سے اُس وقت جاری کئے گئے جب وہ مسلم لیگ(ن) کی صدارت کے اہل نہیں رہے تھے،لیکن یہ سب ارکان آزاد ہونے کے باوجود مسلم لیگ(ن) کے رکن ہیں اور اس کی لائن کے مطابق ہی ووٹ دیں گے،پیپلزپارٹی کے ارکان کی تعداد 20ہے، نیشنل پارٹی کے پانچ ارکان ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام(ف) کے چار پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے دو اور اے این پی کا ایک سینیٹر ہے، آزاد رکن میر یوسف بادینی کا ووٹ بھی اپوزیشن کو جائے گا، کیونکہ ان کا تعلق پیپلزپارٹی سے ہے، 103 ارکان کے ایوان میں تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کے لئے ایک چوتھائی ارکان کے دستخطوں کی ضرورت ہے، جو آسانی سے ہو جائیں گے، تحریک کی کامیابی کے لئے52 ووٹ درکار ہوں گے اس لحاظ سے دیکھا جائے تو نمبر گیم میں اپوزیشن جماعتوں کی کامیابی یقینی ہے، لیکن ہماری سیاست میں حرفِ آخر کچھ نہیں ہوتا، ایک زمانے میں ہماری مسلم لیگ راتوں رات ری پبلکن پارٹی بن گئی تھی تو کسی نے اِن ارکان کا کیا بگاڑ لیا تھا،آج کل بھی کچھ لوٹے لڑھک رہے ہیں اور بعض تاویلات کے ساتھ اپنا موقف سامنے لا رہے ہیں، ماضی کی ”روشن روایات“ہمارے ہاں آج تک چلی آ رہی ہیں۔بلوچستان میں مسلم لیگ(ن) کی حکومت بھی ایسے ہی طریقوں سے ختم ہوئی تھی، اِس لئے محض نمبر گیم نہیں،ارکانِ سینیٹ کو بھی دھیان میں رکھنا ہو گا، اپوزیشن کی یہ مہم جوئی اگر کامیاب نہ ہوئی تو اس کی سیاست کو ناقابل ِ تلافی نقصان پہنچے گا، البتہ کامیابی کی صورت میں اس کے اپنی سیاست کو آگے بڑھانے کے امکانات بڑھ جائیں گے، کچھ حوصلے بھی بلند ہو جائیں گے۔

مزید : رائے /اداریہ