اتنا دباؤ کہ پھٹ نہ سکیں؟

اتنا دباؤ کہ پھٹ نہ سکیں؟
اتنا دباؤ کہ پھٹ نہ سکیں؟

  


انسان سوچتا کچھ اور ہوتا کچھ اور ہے، خیال تھا کہ متحدہ اپوزیشن کی کل جماعتی کانفرنس کے فیصلے کے مطابق رہبر کمیٹی نے سینٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کی تاریخ متعین کر دی ہے۔ ادھر وزیراعظم عمران خان موت تک کی بات کرنے لگے اور مسلم لیگ (ن) والے کہتے ہیں، اتنا کرو کہ کل برداشت کر سکو، اس پر ہی آج کا کالم ہو گا تاہم صبح جب دفتر آنے لگے تو دروازے میں بجلی کے ماہ جون کے دونوں بل پڑے تھے،ان کی رقوم اور شرح دیکھ کر سب کچھ بھول گئے اور یہ فکر لاہق ہو گئی کہ بل کی ادائیگی کرنا ہے اور پھر ایف بی آر کو بھی جواب دینا ہے حالانکہ اس میں ہمارا کوئی قصور بھی نہیں، یہ سب کیا دھرا بھی آئی ایم ایف کا ہے۔

ابھی ہم غور کر رہے تھے کہ اردگرد کے تین چار ہمسایوں کو دیکھا جو بل ہاتھ میں لئے میٹر دیکھ کر ریڈنگ کا حساب لگا رہے تھے، ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ برس نہیں بلکہ گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ان کا بل ڈیڑھ گنا آ گیاہے۔ ہم نے ان کی توجہ مبذول کرائی تو وہ بھی حیرت زدہ رہ گئے کہ 18روپے فی یونٹ کے بعد 20روپے 50پیسے فی یونٹ بھی چارج کئے گئے جو حضرات سات سو یونٹ سے کم اور تین سو سے زیادہ یونٹ استعمال کرنے والے تھے ان کو 18روپے یونٹ کے حساب سے بل آیا اور 7سو کے بعد والے یونٹ ساڑھے بیس روپے کے تھے اور یہ اضافہ بھی گزشتہ ماہ ہوا اور اب جولائی والے بل آئیں گے تو شرح اور زیادہ ہوگی۔

ہماری ذہنی رویوں بھٹکی کہ بل کی رقم سولہ ہزار سے زیادہ اور یونٹ سات سو سے بڑھ گئے تھے حالانکہ بجلی اس کے مطابق استعمال نہ ہوئی۔ غلطی یہ تھی کہ جون میں چھٹیوں کی وجہ سے بیٹی اور نواسیاں آئی ہوی تھیں، گرمی نے تڑپا کر رکھ دیا تھا، اس لئے ایئرکنڈیشنر چار گھنٹے کی بجائے پانچ سے سات گھنٹے تک بھی چلتا رہا یہ اپنی جگہ جب اوپر والے پورشن کا بل دیکھا تو وہ بھی ڈھائی ہزار روپے سے زیادہ تھا حالانکہ اوپر والے عمرہ کی سعادت کے لئے گئے ہوئے تھے اور پورا مہینہ پورشن خالی تھا، صرف صفائی کے لئے کھولا جاتا اور کوئی پنکھا چلتا اور لائٹ جلتی تھی۔ بل کو بار بار غور سے دیکھا اور دل بیٹھ گیا کہ تنخواہ کا معتدبہ حصہ تو بجلی کی مد میں چلا گیا باقی اخراجات کاکیا ہو گا، جب گھر میں اعلان کیا کہ بس بہت ہوچکی ایئرکنڈیشنر کی عیاشی بند تو بچوں نے احتجاج کیا اور بتایا کہ ابھی تو انگلینڈ والی بیٹی اور بچے اگلے ہفتے آ جائیں گے تو پھر کیا کریں گے کہ ان کے لئے تو موسم بہت ہی سخت ہو گا، بہرحال یہ حکم صادر کیا کہ برسات شروع ہے۔

اے سی کا دورانیہ فی الحال آدھا کر دیا جائے، جب مہمان آئیں گے تو دیکھا جائے گا کہ یہ سب کچھ تو بہرحال ادھار لے کر ہی برداشت کرنا پڑے گا، اب پھر سے بل کو دیکھا تو اس میں کئی ٹیکسوں کے علاوہ جنرل سیلز ٹیکس بھی تھا جو تین ہزار روپے سے زیادہ تھا اور سبسڈی والا خانہ خالی تھا کہ یہاں یہ رعایت بھی ختم تھی کہ آئی ایم ایف کا تقاضا پورا کرنا تھا، قارئین! ہمیں اور ہر اس شخص کو جو بل دیانت داری سے ادا کرتا ہے اب سر کی بھول کر نازک جگہ کا خیال آ رہاہے اور سوچ رہے ہیں کہ اگلے ماہ کیا ہو گا یہ غریبوں کو بلند کرنے والی حکومت ہے جو غریبوں کی تعداد بڑھا چکی کہ نچلے درمیانہ طبقہ والے بھی اب غربت تک ہی پہنچ گئے اور ان کی سفید پوشی کا بھرم بھی ٹوٹنے والا ہے۔

معاشی حالت کو درست کرنے اور ملکی اقتصادیات کو مضبوط کرنے کا دعویٰ کرنے والی حکومت آئی ایم ایف کے سامنے جھک گئی بلکہ سرنگوں ہے اور اثرات عوام کو بھگتنا ہیں اور بھگت رہے ہیں۔ ذرا یہ بھی سنئے ہمارے دوست منور مرزا صاحب انکم ٹیکس پریکٹیشنر ہیں، وہ قریباً ایک ہفتہ فنانس بل کا پورا مسودہ ڈھونڈھتے رہے، وزارت خزانہ سے ایف بی آر تک کی ویب تلاش کرلیں بل پیسٹ نہیں کیا گیا تھا حالانکہ قومی اسمبلی کی منظوری کے ساتھ ہی ایسا ہو جاتا تھاوہ بتاتے ہیں کہ چار دن کے بعد جو ملا وہ یہ تھا کہ چار صفحات پر مشتمل ایک تحریر تھی جس کے مطابق فنانس بل میں اغلاط کو درست کیا گیا تھا اور یہ کہا گیا کہ یہ ”کلیریکل مسٹیک“ ہیں۔ یوں تاریخ میں پہلی مرتبہ یہ بھی ہوا کہ غلطیوں کی درستگیوں کے نام پر ایف بی آر نے ٹیکسوں میں ردوبدل کر دیا جس کا بھگتان خود عام لوگوں کو بھگتنا ہوگا۔

دکھ تو اس بات کا ہے کہ ہمارے نمائندے قومی اسمبلی میں بھی گندے کپڑے ہی دھوتے رہے، احتجاج ہوتا رہا، نتیجہ یہ کہ بجٹ پر بات نہیں ہوئی اور فنانس بل تک بھی نہیں پڑھا گیا اور نہ اسمبلی میں باقاعدہ پیش ہوا اور اس میں ترامیم پیش کرکے ان پر بحث ہوئی۔ یہ سب محاذ آرائی کا نتیجہ ہے۔ اس کا فائدہ حزب اقتدار کو ملا۔ شاید اسی لئے اس کی طرف سے مسلسل محاذ آرائی میں شدت پیدا کی جا رہی ہے کہ منتخب اپوزیشن اور عوام کی توجہ اصل امراض (مہنگائی + بے روزگاری + بیماری) سے ہٹی رہتی ہے لیکن یہ غلط فہمی بھی جلد دور ہونے والی ہے کہ اب ایف بی آر والے گریبانوں تک پہنچے ہیں تو مزے لینے والے طبقات (تاجر+صنعتکار) بھی چیخ اٹھے ہیں۔ حالانکہ یہ حضرات ہر ٹیکس کو اطمینان سے عوام کی طرف منتقل کر دیتے ہیں اور اقتدار پر قابض حضرات کا یہ دعویٰ باطل اور ہوا میں اڑ جاتا ہے کہ عوام پر بوجھ نہیں ڈالا گیا۔

ہم یہی عرض کر دیتے ہیں کہ جب کسی کو بھی دباتے چلے جاؤ تو ایک مقام ایسا آ جاتا ہے جب دباؤ برداشت نہیں ہوتا اور پھر دبنے والی شے پھٹ کر دھماکہ کرتی ہے۔ اگر آپ عوامی مزاج شناس ہیں تو آپ کو یہ سمجھ لینا چاہیے اور منصوبہ سازوں کے لئے صرف یہ گزارش ہے کہ وہ اپنا سابقہ ریکارڈ ہی دیکھ لیں کہ کب کب ان کی مرضی، خواہش اور تمنا کے بغیر نہ صرف اتحاد بنے بلکہ آمریت بھی جمہوریت میں منتقل ہوئی۔ چیئرمین سینٹ کی مہم کے حوالے سے پھر سہی۔

مزید : رائے /کالم


loading...