ریاست سے افضل کوئی نہیں

ریاست سے افضل کوئی نہیں
 ریاست سے افضل کوئی نہیں

  


خوش آئند امر ہے کہ یہ نظریہ اب پروان چڑھ رہا ہے ”ریاست سے افضل کوئی نہیں“……ہم نے 72برسوں میں ریاست پر شخصیات اور گروہوں کو برتری دے کربہت عذاب بھگتے ہیں، ہر عذاب نے ہمیں ایک ہی سبق دیا ہے کہ ریاست کے مفادات کو پس ِ پشت ڈال کر سوائے ناکامیوں اور نامرادی کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔آج ان ریاستی اداروں کو بھی بالآخر یہ سمجھ آ گئی ہے، جو ہمیشہ خود کو ریاست سے بالاتر سمجھتے تھے۔ ریاست کے آئین اور عوام کی خواہشوں کے برعکس فیصلے کرتے تھے۔

اب ریاست کی برتری اور رٹ کو تسلیم کرنے کی روایت پڑی ہے تو مشکل کام بھی آسان ہونے لگے ہیں۔ پاکستان میں جمہوریت مستحکم ہو گئی ہے اور اس پر شب خون مارنے کے خدشات خواب و خیال ہو گئے ہیں۔ہم نے ایک عرصے تک ریاست کو مذاق بنائے رکھا۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہر جگہ ریاست کو چیلنج کرنے والے میدان میں آ گئے، پاکستان کو کانچ کا کھلونا سمجھنے والوں کی بہتات ہو گئی، جس کے منہ میں جو آتا کہہ دیتا۔الطاف حسین جیسے کرداروں نے پاکستان کے خلاف نعرے بھی لگائے اور بلوچستان کے نام نہاد باغیوں نے پاکستان کی ریاستی رٹ کو پانی کا بلبلہ سمجھ لیا۔

ذرا ذرا سی بات پر پاکستان ٹوٹنے کی باتیں کی گئیں اور آج بھی بلاول بھٹو زرداری جیسے نئے لیڈر جوشِ خطابت میں یہ کہہ جاتے ہیں کہ حکومت نے فلاں کام کیا تو پاکستان میں کئی اور بنگلہ دیش بن جائیں گے۔ کون بنائے گا، کیسے بن جائیں گے؟ کیا 22کروڑ عوام لسی پی کر سوئے ہوئے ہیں کہ ایسا کرنے والوں کو کھلی چھوٹ دے دیں گے، انہیں گردنوں سے پکڑ کر نشانِ عبرت نہیں بنائیں گے۔

ریاست پاکستان1947ء میں وجود میں آئی تھی،اور آج جو متفقہ آئین نافذہے وہ1973ء میں بنایا گیا تھا۔ پہلے ریاست کو ماننا پڑے گا، اُس کے بعد آئین کی باری آئے گی، یہاں آئین کی رَٹ لگانے والے تو بہت ہیں،ریاست پاکستان کی بات کرتے اُن کی زبانیں لڑکھڑا جاتی ہیں۔ ریاست کا تحریری آئین نہ بھی ہو تب بھی اُس کی برتری قائم رہتی ہے۔برطانیہ کی مثال دنیا کے سامنے ہے۔ ریاست کو ہم نے کبھی ایک حقیقت سمجھا ہی نہیں، یہاں ایسے کردار بے خوفی کے بغیر پیدا ہوتے رہے، جنہوں نے ریاست کے خلاف جلسے کئے، اُسے توڑنے کی باتیں کیں اور آزادی کے مطالبات رکھے، انہیں نظریہئ ضرورت یا پھر کسی مصلحت کے تحت کچھ نہ کہا گیا۔

منظور پشتین جیسے کردار کیسے بنے،کیسے پاکستانی ریاست کو چیلنج کرتے رہے؟ محسن داوڑ اور علی وزیر نے پاکستانی آئین کے تحت حلف اٹھایا،لیکن باتیں پاکستان کے خلاف کیں اور علیحدہ پشتونستان کا مطالبہ کیا، پاکستانی پرچم کی بے حرمتی کی، اُسے جلایا اور قانون بے بسی کے ساتھ دیکھتا رہا۔ابھی کل ہی کی بات ہے کہ نیو یارک میں ٹرمپ کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں میں شامل چند افراد نے امریکی پرچم نذر آتش کیا۔ امریکہ جیسے جمہوریت پسند اور انسانی آزادی کے علمبردار ملک میں یہ حرکت کرنے والے افراد کو امریکی پولیس نے فوراً گرفتار کیا اور اُن کے خلاف اب قومی سلامتی پر حملہ کرنے کی پاداش میں مقدمہ چلایا جائے گا۔ہم نے ماضی میں اس حوالے سے کس قدر مجرمانہ غفلت برتی، تاریخ اس کی گواہ ہے۔

ہماری اسی کمزوری کی وجہ سے لندن اور امریکہ میں آزاد بلوچستان اور آزاد کراچی کے لئے ملک دشمنوں نے مظاہرے کئے،جنہیں وہاں کی حکومتوں نے سپورٹ کیا،حالانکہ خود امریکہ یا برطانیہ سے وہاں کے کسی علاقے کی علیحدگی کے مطالبے کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔آج ریاست بیدار ہوئی ہے اور اُس نے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کا فیصلہ کیا ہے تو یہی امریکہ اور برطانیہ اپنی پالیسی پر نظرثانی کر رہے ہیں۔امریکہ نے بلوچستان لبریشن آرمی(بی ایل اے) پر پابندی لگا دی ہے اور ورلڈکپ میچ کے دوران سٹیڈیم کے اوپر سے ”بلوچستان کو آزاد کرو“ کا بینر لگے جہاز کی پرواز پر پاکستانی احتجاج سے برطانوی حکومت کو سخت پیغام مل گیا ہے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی اپنے حالیہ دورہئ برطانیہ میں اس حوالے سے اپنے تحفظات پیش کئے تھے۔

کسی کی تعریف کرنی ہو تو ہم کہتے ہیں ”وہ اپنی ذات میں انجمن ہے“……لیکن پاکستان کی بدقسمتی یہ رہی ہے کہ یہاں اپنی ذات میں ریاست بننے والے بہت پیدا ہوئے ہیں۔ سیاست دانوں کی ایک خاص کھیپ ہے،جس نے قسم کھا رکھی ہے کہ خود کو ریاست،آئین اور قانون کے تابع نہیں رکھنا۔ اُن کی سیاست آج بھی معصوم عوام کو آزادی کا جھانسہ دے کر بھٹکانا ہے۔بہت سے کردار ہیں جو کھاتے ریاست ِ پاکستان کا ہیں، لیکن اس کے اقتدارِ اعلیٰ کو تسلیم نہیں کرتے……فوج اور عدلیہ ریاست کے دو بنیادی ستون ہیں۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ دونوں نے نظریہئ ضرورت کو دفن کر دیا ہے۔

فوج نے ریاست کو چلانے کے لئے ماضی میں جو کچھ بھی کیا،وہ شاید اُس کی قیادت کے نزدیک وقت کی ضرورت ہو: تاہم اچھی بات یہ ہے کہ فوج نے اپنے ماضی سے مکمل طور پر کنارہ کشی اختیار کر کے ریاست کے ساتھ کسی بھی نظریہئ ضرورت کے بغیر کھڑا ہونے کی پالیسی اپنا لی ہے۔ کون نہیں جانتا کہ کراچی میں نظریہئ ضرورت کے تحت لسانی تقسیم پیدا کی گئی،جس نے بعدازاں ریاست مخالف گروہ کی شکل اختیار کر لی۔

جنرل(ر) پرویز مشرف کے دور میں 12مئی کو ایک ایسا واقعہ بھی پیش آیا،جس میں صاف لگ رہا تھا کہ ریاست کو نیند کی گولی دے کر سلا دیا گیا ہے، تاکہ ایک آمر کا اقتدار برقرار رہے۔ نائن الیون کے بعد ہمارے آمر حکمران نے امریکہ کی ایک کال پر ریاست پاکستان کو اُس کی جھولی میں ڈال دیا، جیسے ریاست نہ ہوئی کوئی مالِ غنیمت ہو گیا۔ پھر ایک دور ایسا بھی آیا جب ہم پسندیدہ اور غیر پسندیدہ طالبان کے خانوں میں بٹ گئے۔

یہ ریاست کا فیصلہ ہر گز نہیں تھا، کیونکہ ریاست کی سوچ اس طرح منقسم نہیں ہوتی۔اس پالیسی نے مزید عذاب ڈھائے،دہشت گردی اپنے عروج پر پہنچ گئی۔ کوئی فوجی آپریشن کرنا بھی ممکن نہ رہا کہ جہاں ناپسندیدہ بیٹھے تھے،وہیں پسندیدہ بھی ڈیرے جمائے ہوئے تھے۔یہ ریاست کی بہت بڑی کمزوری تھی، جس کی وجہ سے ہمیں ہزاروں جانیں دینا پڑیں۔اب یہ ساری تلخ یادیں ماضی کے اندھیروں میں ڈوب چکی ہیں۔فوج نے پسند نا پسند کی پالیسی کو دفن کیا اور یہ نظریہ اپنایا کہ جو ریاست پاکستان کا دشمن ہے، اُس سے کوئی رعایت نہیں ہو گی۔اُدھر سول حکومتیں بھی اس نظریے کی پشت پر آ کھڑی ہوئیں، سو اب ایک بدلا ہوا منظر ہمارے سامنے ہے۔ فوج اور حکومت میں مثالی ہم آہنگی ہے۔

ریاست مخالف بیانیہ کی بیخ کنی کے لئے دونوں متفق ہیں۔ اُدھر عدالتوں نے بھی اپنا محاذ سنبھال رکھا ہے۔وہاں بھی نظریہئ ضرورت کہیں نظر نہیں آ رہا۔ میرٹ پر فیصلے ہو رہے ہیں اور عدالتوں پر عوام کا اعتماد بحال ہو رہا ہے۔”ریاست سے افضل کوئی نہیں“ ……اگر اس مقولے کو ہم بحیثیت قوم اپنی زندگی کا اساسی نظریہ بنا لیں۔ ہمارے قومی ادارے، ریاست کے سارے ستون کسی بھی صورت میں اس سے روگردانی نہ کریں تو پاکستان کے داخلی و خارجی دشمن اپنی موت آپ مر جائیں گے۔

مزید : رائے /کالم


loading...