صوفی اِسلام کیا ہے

صوفی اِسلام کیا ہے
 صوفی اِسلام کیا ہے

  


میرے ایک دوست نے دورانِ گفتگومیرے ایک جُملے پر مجھے ٹوک دیا۔ جب میَں نے یہ کہا کہ صوفی فکر و سوچ انسانوں میں قبل از اسلام موجود تھی، بلکہ تصوّف کسی نہ کسی شکل میں دینِ مُوسوی سے بھی پہلے کے اِنسانی گروہوں میں موجود ہوتا تھا۔ میرے دوست کے لئے میری یہ بات قابلِ یقین نہیں تھی۔ وہ تو یہ کہنے پر مُصر تھا کہ صوفی ازم کا تصور حضرت حسن البصری کے ذریعے ہم مسلمانوں میں پہنچا ہے۔ تصوّف صرف اسلام کا ہی ردِعمل ہے۔ میرے دوست کی اس محدود سوچ نے مجھے "صوفی" نظرئیے کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لئے شعبہ تاریخ کی طرف رجوع کیا۔

عرب دنیا میں ظہورِ ادیانِ ابراہیمی سے بھی قبل صوفی فلسفہ کے پیرو کار اخوان الصفا کہلاتے تھے۔ یہ ضروری نہیں تھا کہ اخوان الصفا کسی دین سے منسلک ہوتے تھے۔ البتہ یہ نیک بندے ہوتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کی مخلوق سے محبت کرتے تھے، عیش و عشرت کی زندگی سے مکمل اجتناب، ضرورت مندوں کی مدد اور سب سے بڑی بات یہ کہ اِن کا حسنِ سلوک اپنے مخالفین سے بھی اچھا ہوتا تھا۔ زمانہِ قبل از اسلام، ہمیں صوفی سوچ رکھنے والے لوگ دینِ عیسوی میں راہبوں کی شکل میں، ہندوستان میں بُدھ اور جین مت کے بھکشوؤں کی صورت میں اور ہندو دھرم میں یوگیوں کی شکل میں ملتے ہیں۔ صوفی سوچ ہمیں کسی نہ کسی طور پر یونانی فلسفیوں میں بھی ملتی ہے۔

فیثا غورث نے سقراط، افلاطون اور ارسطُوکو بھی متاثر کیا۔ یونانی فلسفی بھی اِنسانوں سے حسنِ سلوک کا پرچار کرتے تھے۔ فیثا غورث جو اپنے زمانے کا عظیم حساب دان تھا اُس نے تو حساب کی مدد سے قدرت اور کائنات میں ایک Arithematical Harmony کا تصّور دیا۔ (مسلمان صوفیائے کرام بھی قرآنِ مجید کے مخفی معنوں کو سمجھنے کے لئے ریاضی کی ایک شاخ علم الابجد سے مدد لیتے تھے)۔

صوفی اِدریس اور صوفی عنائت خان جو 20 ویں صدی کے اوائل میں تصّوف کی تاریخ کے عالم تھے، اپنی تصنیف Spritual Liberty (روحانی آزادی) میں لکھتے ہیں کہ صوفی ہر اُس چیز، خیال، عمل یا روّئیے کو اہمیت دیتا ہے جو اِنسانی فلاح اور بہبود کے لئے ہو۔ ایک صوفی منُش (اِنسان)عاجزی کا نمونہ ہوتا ہے۔ تکبّر سے دُور بھاگتا ہے۔ ذاتی شہرت سے کُلّی طور پر اجتناب کرتا ہے۔ بقول صوفی عنائت خان، نصرانی مذہب میں بھی عامِل صوفیوں کا ذِکر ملتا ہے۔

انجیلِ مقدس حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو عاجزی اور خدمتِ خلق کی تلقین کرتی ہے۔ عیسایوں کے چاروں Gospels میں انجیل کی اُس مشہور آیت کا ذِکر ہے کہ " اگر تیرے داھنے گال پر کوئی تھپڑ مارے تُو اپنا بایاں گال بھی تھپڑ کے لئے پیش کر دے"۔پاپائے اعظم ہر سال ویٹی کن میں عام لوگوں کے پاؤں دھو کر اُنہیں چُومنے کی جو تقریب کرتے ہیں وہ عاجزی کا مظاہرہ ہوتی ہے۔

رسولؐ اللہ کی پیدائش کے وقت حجاز اور یمن کے نصرانی عرب، جو اللہ تعالیٰ کے نیک بندے تھے اور گناہوں سے دُور رہتے تھے اُنہیں اِسلامی روایت میں اصحاب الصّفا کہا جانے لگا۔ صوفی کے بارے میں مختلف تعبیریں دی جاتی ہیں۔ یونانی لفظ Sophy یعنی عقل ودانش کو صوفی لفظ کا حصہ سمجھا جاتا ہے،جبکہ مسلمان سکالرز عربی لفظ صُوف کو اہلِ تصوّف سے منسوب کرتے ہیں، صوف کے معنی بھیڑ / اونٹ کی اُون ہے۔ چونکہ قدیم صوفیوں کا لباس اُون کی بنی ہوئی ایک قسم کی جُلّی (Robe) ہوتی تھی، اس وجہ سے غالباً صوفی لفظ رواج پا گیا۔

صوفی سوچ کا ہمیں قرآنِ مجید سے بھی حوالہ ملتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم اِنسانوں کو جگہ جگہ ہدایت دیتے ہیں کہ میرے بندوں سے حسنِ سلوک کے ساتھ رہو۔ احسان کرنا اور معاف کر دینا، مسلمان کے لئے بڑی عبادت ہے۔ ہمیں تو حکم ہے کہ دُوسرے مذاہب کے معبودوں کو بُرا بھلا مت کہو،کیونکہ ہو سکتا ہے وہ تمھارے معبودِ حقیقی کو بُرا کہہ دیں۔

ضرور پڑھیں: ڈالر سستا ہو گیا

اسلام میں تصوّف کی سوچ کا ذِکر بالواسطہ قرآنِ مجید سے بھی ملتا ہے، لیکن تصوّف کا سر چشمہ رسول اللہ ؐ کے اُسوہِ حسنہ ہیں۔ اُن کی سیرت، اُن کا حسنِ سلوک اپنے مخالفوں کے لئے، اُن کی نرم روی، اُن کی سادہ روی اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ، کمزوروں کے لئے عملی ہمدردی اور اُن پر شفقت، یہ سب اوصاف کسی بھی صوفی کے لئے روحانی فیضان کا باعث ہیں۔

اسلام میں صوفی سلسلہ(Link)کسی نہ کسی پیر، مُرشد کے ذریعے رسول اللہ ؐ سے ہی جا ملتا ہے۔ اہل سُنت صوفیائے کرام، اپنا سلسلہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے جوڑتے ہیں۔ اِس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خلیفہِ اوّل حضرت ابوبکر ؓ نے کوئی سلسلہ ِ تصوّف شروع کیا تھا۔ یہ تو صوفی اور اولیاء کرام نے سلسلہ نقش بندیہ ترتیب دیا جو رسول اللہ ؐ کے توسّل سے حضرت ابوبکر ؓ سے شروع ہوتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ صوفی طریقت یا طریقہ (Order) شروع کرنے والے غیر عرب تھے، سوائے حسن البصری کے جو مدینہ میں پیدا ہوئے اور رُشد، تعلیم کا سلسلہ بصری (عراق)سے شروع کیا۔ عرب سرزمین سے صوفی طریقہ شروع نہیں ہوا۔ یہ سب طریقے خراسان اور شام کے علاقوں سے شروع ہوئے۔ بلکہ صوفی اِسلام بنی اُمیہ کی سخت گیر حکومت کے خلاف ایک قسم کے ردِعمل کے طور پر شروع ہوا۔

خواہ چشت ہو، کونیا ہو، جیلان ہو یا ہجویر،تبریز ہو،بخارا یا بغداد ہو،تمام صوفیائے کرام اِن ہی علاقوں سے آئے۔ہر صوفی کسی نہ کسی مُرشد سے روشنی پانے کے لئے پیر کی مجلس میں رہ کر روحانی فیض حاصل کرتا ہے۔ روحانی تربیت حاصل کرنے والی جگہ کا نام خانقاہ، درگاہ، تکیہ یا زاویہ ہو سکتا ہے۔ یہ نام عربی زبان کے نہیں ہیں بلکہ فارسی اور ترکی زبان سے ماخوذہیں۔ یہاں تک کہ امام غزالی جنکی تصوّف پر مدّلل تحریریں ہیں، وہ بھی عرب سر زمین سے تعلق نہیں رکھتے تھے۔

حالانکہ عرب دنیا میں اسلام سے پہلے صوفیانہ تصوّر موجود تھا۔ نصرانی اِخوان الصّفا صوفی ہی تھے،لیکن اسلام کے آنے کے چالیس، پچاس سال تک ہمیں باقاعدہ صوفی طریقہ نظر نہیں آتا۔ حالانکہ صوفی نظریہ ہزاروں سال سے مختلف مذاہب میں موجود تھا۔ آٹھویں صدی کے آخر تک اسلام خراسان، وسطیٰ ایشیا، شام، مصر اور ہندوستان کے صوبہ سندھ تک پھیل چکا تھا۔ صوفی سوچ رکھنے والے غیر مسلم جب دینِ اسلام کی روشنی سے فیضیاب ہوئے تو اُنہوں نے اپنی روحانی بالیدگی کے لئے رسول اللہ ؐ اور خلفائے راشدین کی طرف دیکھا۔

شیعہ اور سُنی کی سیاسی تفریق تو ہو چکی تھی، لیکن ابھی مسلکی اِختلافات ظہور پذیر نہیں ہوئے تھے۔ سُنی سوچ رکھنے والے صوفیا کرام نے حضرت ابوبکر کو اپنا روحانی پیشوا بنایا اور اُن کے اَسوہ حسنہ پر نقش بند ہو گئے اور یوں سلسلہ نقش بندیہ شروع ہوا۔ بعد کے آنے والے وقتوں میں روحانی فیض حاصل کرنے کے لئے مختلف طریقے بن گئے۔ سُنیوں کے ہاں طریقت کی شناسائی کے کئیOrders (طریقے) بن گئے۔ سُنی مسلک کے مشہور طریقے، مثلاً غوثیہ، رفاعیہ، قادریہ، سہروردیہ، بداویہ، چشتیہ، اویسیہ، وارثیہ، جنیدیہ، قلندریہ، برھانیہ ہیں جو مختلف مسلمان ممالک کے مقامی صوفیائے کرام سے منسوب ہیں۔ شیعہ تصوّف کا سلسلہ بھی حضرت علی ؓ کے حوالے سے رسول اللہ ؐ سے جا مِلتا ہے۔ ہم جن شیعہ طریقوں کے نام زیادہ سنتے ہیں وہ ہیں صفوّیہ، علویہ، اسمعیلہ، نقویہ، جعفریہ۔ زیدیہ۔

چونکہ صوفی سوچ ظہور اسلام سے قبل کسی نہ کسی شکل میں موجود تھی۔ اس لئے کئی مسلمان اور غیر مسلم سکالرز صوفی فکر کو صرف اسلام سے نہیں جوڑتے۔ اِن سکالرز کے مطابق صوفی فکر دراصل سامی (Semitic) مذاہب کی سخت گیری کے خلاف ایک قسم کا احتجاج تھا۔ یونانی صوفیانہ سوچ (Gnosticism)بھی مذہبی بندشوں کے خلاف اُبھری تھی۔ Gnostic ایسا شخص ہے جو اپنے آپ کو دنیاوی آلائشوں سے پاک رکھنا چاہتا ہے ایسا شخص اللہ کے بندوں سے نیکی کر کے ایک قسم کی روشنی یا مُکتی پا لینے کی خواہش رکھتا ہے۔ Gnostic کے فلسفہ نے کئی مذاہب کو متاثر کیا۔ بلکہ قرآنِ مجید کی بہت سی ہدایات جو ہماری اِخلاقی تربیت پر مبنی ہیں وہ بھی Gnostic فلسفے کی تائید کرتی ہیں۔

اسلامی صوفی فِکر کو سب سے بہتر طریقے سے حضرت عثمان علی ہجویری، المعرف داتا گنج بخش نے اپنی تحریروں میں واضح طور پر بیان کیا ہے۔ اُن کی کتاب " کشف المحجوب" جو11 ویں صدی میں لکھی گئی تھی وہ ایک مکمل تشریح ہے اسلامی تصّوف کی۔ حضرت علی ہجویری کے مطابق صوفی اِسلام کے دائرے سے باہر نہیں جا سکتا۔

اگرچہ تصوّف کا اِرتقا ظہورِ اسلام سے پہلے شروع ہو چکا تھا،لیکن اِس سوچ کو تقویت اِسلام کی آمد کے بعد مِلی اور اِسلامی تصوّف کو مزید مضبوط بنیاد بھی ملی، رسول اللہ ؐ کے اخلاق سے، اُن کے صبرو شُکر سے، اُن کی غریب نوازی سے، اُن کی دیانت اور امانت سے، اُن کی سادہ زندگی سے، اُن کی شفقت، رحیمی، اُن کی قوتِ برداشت اور عجزسے۔ یہ تمام صِفات ایک مسلمان صوفی اپنے آپ میں پا لینے کی نہ صرف خواہش رکھتا ہے بلکہ اِن کو حاصل کرنے کے لئے ریاضت کرتا ہے۔ اپنے نفسِ امارہ کی نفی کرتا ہے اور یوں اپنے رَب کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

ہم اگر برِصغیر کی بات کریں تو ہندوستان کے صوفیوں نے نہ صرف اِسلام کا غیر اِرادی پر چار کیا بلکہ مسلما نوں اور غیر مسلمانوں (یعنی ہندوں) میں بھائی چارے، یگانگت اور رواداری کی روائت قائم کی جسکی وجہ سے مسلمان اقلیت میں ہونے کے باوجود ہندوستان پر 1000 سال تک حکمران رہے۔

برِصغیر کے جیّد صوفیائے کرام میں حضرت داتا گنج بخش، حضرت معین الدین چشتی المعرف غریب نواز، قطب الدین کاکی، حضرت گیسودراز، حضرت شمس تبریزی، حضرت عبداللہ شاہ بخاری(کراچی میں مدفون ہیں اور تاریخ دان بتاتے ہیں کہ وہ پہلے مسلمان ولی تھے جو محمد بن قاسم سے بھی قبل سندھ میں آبسے تھے)، شاہ رُکنِ عالم، بہاؤالدین ذکریا، حضرت شاہ چراغ، امیر خسرو، حضرت نظام الدین اولیاء، بابا فرید اور حضرت بری امام، اِن تمام اولیائے کرام کی رواداری اور غریب نوازی نے ہی ہندو دھرم کی کبیر پنتھی اور آریا سماجی تحریکوں کو جنم دیا۔ برِصغیر میں ہندو مسلم عموماً ایک دوسرے کا احترام کرتے تھے اور اپنی سماجی اور معاشرتی بوالعجبیوں کے باوجود ہندو مسلم فسادات کم ہی ہوتے تھے۔

انگریز نے جب ہندوستان پر قبضہ کیا اور مغربی جمہوریت کا بیج بویا، سیاسی پارٹیاں بنانے میں ہندوؤں کی اور بعد میں 1906 میں مسلمانوں کی مدد کی، مذہبی مناظروں کی حوصلہ افزائی کی جس کی وجہ سے برِصغیر میں مسلمان عُلما نے مسیحی مشنریوں کے خوف سے اور کچھ مسلمان سلطنتوں کے اِنحطاط سے متاثر ہو کر، دینی تعلیم دینے کے لئے مدرسے بنانے شروع کر دیئے، عرب کے عالم عبد الرحمن نجدی کی دینی اِصلاحات کی سخت گیری ہندوستان میں بھی پہنچ گئی اور یوں صوفی اِسلام کی نرمی اور بندہ نوازی کو دینی مدرسوں کے عُلمانے شریعت کے شکنجے میں جکڑنے کی کوشش کی۔

صوفی سوچ رکھنے والوں کو بدِعتی کہا جانے لگا اور پھر اِن ہی دِنوں میں صوفیائے کرام کی سوچ سے مطابقت رکھنے والے ایک اور جیدّ عالم، اعلیٰ حضرت احمد رضا خان نے اپنی علمی لیاقت کو صوفی طریقت کی حفاظت کے لئے وقف کر دیا۔

انگریز کے آنے سے قبل ہندوستان میں مذہبی فسادات کا ذِکر کم ہی ملتا ہے،لیکن بیسویں صدی نے ہندو مسلم خونریز فسادات بھی دیکھے، مسلمانوں کو مسلکوں کے لئے لڑتے بھی دیکھا، ہندوستان کا بٹوارہ بھی دیکھا، پاکستان کو ایک متوازن سوچ کا ملک بنتے بھی دیکھا اور پھر یہ دیکھا کہ مسلمان، مسلمان کا گلا کاٹ رہا ہے، اولیا ئے کرام کے مزاروں پر حاضری کا ازدھام ہے،عمرے اور حج کی بہتات ہے، شریعی لباس اور شریعی داڑھیوں کا زور ہے، میلاد شریف، کونڈے، عزاداری اور یومِ عاشور کی دھوم ہے، لیکن صد افسوس کہ صوفی اسلام سے اَخذ شدہ صبر و تحمل، رواداری، محبت اور بگانگت، رحم اور عفو ہم سے دُور ہو چکے ہیں۔ ہم اَب ظاہری مسلمان رہ گئے ہیں۔ ہمارا باطن نہ صوفی ہے اور نہ ہی شرعی۔

مزید : رائے /کالم


loading...