بانی روزنامہ سعادت الحاج امام بخش ناسخ سیفی مرحوم کی35برسی کے حوالے سے خصوصی تحریر

بانی روزنامہ سعادت الحاج امام بخش ناسخ سیفی مرحوم کی35برسی کے حوالے سے خصوصی ...
 بانی روزنامہ سعادت الحاج امام بخش ناسخ سیفی مرحوم کی35برسی کے حوالے سے خصوصی تحریر

  


قیام پاکستان کی تاریخ کا اگر بغور مطالعہ کیا جائے تو اس عظیم اسلامی مملکت پاکستان کو حاصل کرنے میں مسلم صحافت کا اہم کردار رہا ہے۔برصغیر پاک و ہند میں مسلم اردوصحافت کا آغاز 1822ءمیں اردو اخبار ”جام جہاں نما“سے ہوا۔یہ اخبار کلکتہ سے جاری ہو ا۔اس میں فارسی اور اردو دونوں زبانوں میں مواد شائع کیا جاتاتھا۔اس اخبار کا مقصدفارسی کی اہمیت کو کم کر کے اردوزبان کو فروغ دینا تھا۔کیونکہ فارسی زبان مسلمانوں کے دور اقتدار کی نشانیوںمیں ایک تھی۔جسے انگریز مٹادینا چاہتے تھے۔

لیکن اس اخبار کے ذریعے مسلم صحافت نے اردو زبان میں ایک نئے دور کی بنیاد رکھی۔یہ تھا برصغیر میں اردو صحافت کا ارتقائ۔اس کے بعد19 ویںصدی میںاردوصحافت کو فروغ دینے کیلئے نامور صحافی و دانشور آئے۔ جنھوں نے انگریزوں کے سامنے ڈٹ کر اپنے صحافتی قلم سے جنگ کی۔قیام پاکستان سے پہلے ان جلیل القدرلوگوں میںمولانا محمد علی جوہر،مولانا حسرت موہانی ،مولانا شوکت علی ، ابوالکلام آزاد،الحاج ناسخ سیفی،حمید نظامی ،میر جعفرخان جمالی ،افتخار الدین ،ملک نور الہی،مولانا سید حبیب جیسے دیگر محب مسلم شخصیات نے صحافت کے ذریعے برصغیر کے مسلمانوں کی مردہ رگوں میں حیات نو کے آثار پیدا کرنے شروع کردئیے۔ اس دور کے تمام مسلم اردو اخبارات مثلاً(سیاست ،پاکستان ٹائمز ، احسان ،زمیندار،سعادت ،انقلاب،نوائے وقت وغیرہ) نے مل کر مسلم رائے عامہ کی تشکیل نواور ہموار ی میں اپنا کردار پوری ذمہ داری سے نبھائے تھے۔موجودہ دورمیں صحافت کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہو چکی ہے

اور اب تو ایم۔ماس کمیونیکشن کرنے کیلئے نوجوان جو ق در جوق اس ڈگری کو حاصل کررہے ہیں۔تاکہ وہ ایم۔

اے ماس کمیونیکشن کرنے کے بعد اس فیلڈ میں اچھی ملازمت حاصل کر سکے اور اپنی اندرونی صلاحیتوں کو نکھار سکیں اور دنیا میں اپنا آپ منواسکیں۔مگر یہاں پر ایک بات یہ بھی قابل ذکر ہے کہ ہمارے نوجوانوں کوبرصغیر میں اردو صحافت کے ارتقاءدینے والے ،اردوصحافت کو فروغ دینے والوں کے بارے میں بہت کم آگاہی حاصل ہے۔سوائے چند ناموں کے وہ بہت سے ایسے صحافیوں کو صیح طرح سے نہیں جانتے جنھوںنے اپنی پوری زندگی مسلم صحافت کو پروان چڑھانے میں لگا دی۔ایسے تاریخی صحافی شخصیا ت کی خدمات کو بھی نصاب کا حصہ بنانا چاہیے تاکہ نئی نسل کو ان شخصیات کے متعلق آگاہی حاصل ہو سکے کہ انہوں نے کس طرح صحافت کی ،کن کن مشکلات کا سامنا کی وغیرہ۔اگر قائداعظم کی آواز پر نڈر لوگ اس صحافت کے شعبے میں قدم نہ رکھتے تو شاید آج ہم پاکستان بھی حاصل نہ کر پاتے۔

جیسے آج ایک خبر نشر ہونے سے پوری دنیا میں کہرام مچ جاتا ہے ، تو اسی طرح قیام پاکستان سے پہلے بھی انگریز حکومت کے سامنے پرنٹ میڈیا کے ذریعے ہی مسلم اخبارات نے بغاوت کا الم بلند کیا اور مسلمانوں کو بروقت خبریں پہنچا کر ایک مقام پر لا کھڑا کیا اور وہ مقام پاکستان تھا۔مسلم صحافت میں اہم کردار ادا کرنے والوں میں ناموں میں ایک نام( الحاج ناسخ سیفی )کا بھی تھا۔جنھوں نے انگریز دور میں بچپن میں انگریزوں کی غلامی بھی کی۔اپنے والد کے ساتھ کھیتوں میں کام بھی کیا۔بھاری بھر مشقتیں بھی کیں۔ایسے دن بھی گزرے کہ دن میں صرف ایک وقت ہی کھانے کو ملتا تھا۔جب انگریز سامراج عروج پر تھا،ہندووں کو مسلمانوں پر برتری بھی حاصل تھی۔

اس دور میں جب علامہ اقبال کے خواب پاکستان کوپورا کرنے کیلئے بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے مسلمانوںکو مخاطب کر کے کہا کہ ہمیں صحافت کی دنیامیں بھی اپنے اخبارات لانے ہو ں گے۔تو ان کی لبیک پر متعدد لوگوں نے اخبارات نکالے۔جنھوں نے اپنے اپنے دور میں مسلمانوںکو اکھٹا کرنے میںبہت اہم کردار ادا کیا۔تو تب اسی دوران ایک با ہمت ،مشہورشعلہ جواں مقررنوجوان( ناسخ سیفی ) نے بھی اپنے قائدکی آواز پرانگریزوں اور ہندوں کے خلاف ہمت کر کے صوبہ پنجاب کے چھوٹے سے شہرکمالیہ سے ایک ہفت روز (سعادت)نکالا۔

انہوں نے اپنی قلم کی طاقت سے اس وقت نہ صرف لائلپور بلکہ پورے پنجاب کے مسلمانوں کو اپنے گرما دینے والے اداریوں اور کالموں ،خبروں سے ایک جگہ اکٹھا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔اور جب قائداعظم محمد علی جناح کے جلسے ہوتے توخصوصی نمبر شائع کرتے۔آئیے ہم ان کی خدمات کے بارے میں کچھ قارئین کو بتاتے ہیں۔ جلیل القدر شخصیت بابائے صحافت وبانی روزنامہ سعادت( قبلہ الحاج ناسخ سیفی)کی سالانہ برسی ہر سال 7جولائی کو سعادت اخبار کے تین بڑے دفاتر ( لاہور ،فیصل آباد،گوجرانوالہ) سمیت انکے آبائی شہر کمالیہ (جہاں پر مرحوم و مغفور مدفون ہیں) میں ہر سال بڑی عقیدت واحترام سے منا ئی جاتی ہے۔

اس سال بابائے صحافت وبانی روزنامہ سعادت( قبلہ الحاج ناسخ سیفی)کی35ویں برسی منائی جارہی ہے۔قارئین سے گزارش ہے کہ ان کیلئے ایصال ثواب کیلئے د±عائے مغفرت بھی کریں۔اللہ تعالی ان کے درجات کو بلنددرجات عطا فرمائے آمین۔

مرحوم الحاج ناسخ سیفی صحافت کے امام،مجاہد اور تحریک نظام مصطفی کے بے باک راہنما تھے۔تحریک پاکستان میں الحاج ناسخ سیفی نے روزنامہ سعادت کے پلیٹ فار م سے جو گراں قد ر خدمات سر انجام دی ہیں وہ صحافت کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی گئی ہیںآ پ نے صحافت کے پیشے کو پاکیزگی عطا کی۔سیفی صاحب سچے عاشق رسول محب اولیائے عظام اور سادات کی عزت کرنے والے پکے سنی راسخ العقیدہ مسلمان تھے۔

وہ ایک شب زندہ دار عبادت گزارتھے وہ (لائلپور) فیصل آباد میں صحافیوں کے بانیوں میں سے ایک سرخیل اور میرکارواں تھے وہ فیصل آباد کے چہاردریشوں(چوہدری شاہ محمد عزیز،جناب خلیق قریشی،چوہدری ریاست علی آزاد اور الحاج ناسخ سیفی) میں سے ایک تھے جن کی رفاقت کا لوہا مرحوم ایو ب خان بھی مانتے تھے۔میرا تعلق مرحوم الحاج ناسخ سیفی? سے پوتے کا ہے۔قبلہ الحاج ناسخ سیفی?میرے دادا محترم تھے۔اگرآج میں کچھ لکھنے کے قابل ہوا ہو تو میں یہ سمجھتا ہوکہ یہ سب میرے شفیق و محترم دادا جان کی دعا?ں سے ہی ہے۔میں اپنے آ پ کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ جب میں ایک سال کا تھا تو انہوں نے مجھے اپنی گود میں متعدد بار اٹھایا ہے لیکن مجھے ہمیشہ دل میں اس بات کی حسر ت رہی ہے کہ مجھے ان کی زیر نگرانی کچھ سیکھنے کا شرف حاصل نہیں ہو سکا۔

جب میں ایک سال کا تھا وہ اس دنیا فانی کو چھوڑ کر اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔میں انکے بارے میں زیادہ تو کچھ نہیں جانتا لیکن میں جب بھی کبھی کسی محفل میں جاتا ہوں تو مجھے انکی وجہ سے بہت عزت و شفقت ملتی ہے ہر کوئی فر د چاہے وہ کسی بھی شعبے سے تعلق رکھتا ہووہ قبلہ الحاج ناسخ سیفی?کو اچھے الفاظ میں یاد کرتے ہیں۔اگر کوئی بزرگ مجھ پر دست شفقت فرمائے تو وہ مجھے بتاتے ہیں کہ تمھارے داداایک سچے عاشق رسولتھے وہ ایک شعلہ بیان مقرر بھی تھے۔وہ اپنے قلم کی تلوار سے ہمیشہ ملک دشمن عناصر کا بلاخوف و لالچ مقابلہ کرتے رہتے تھے۔ان کے اداریوں سے قائداعظم محمد علی جناح?بھی استفادہ حاصل کرتے تھے۔

ایک دفعہ میں ایک تقریب میں گیا تو مجھے ایک سنئیر صحافی نے مخاطب کر کے کہا کہ برخودار مجھے خوشی ہے کہ قبلہ الحاج ناسخ سیفی? کی تیسری پیڑھی نے بھی صحافت کی دنیا میں قدم رکھ دیا ہے۔انکی بات پر مجھے دیگر صحافیوں نے کہا کہ یہ سب تمھارے دادا کی دعا?ں سے ہے۔کہ روزنامہ سعادت 83سال سے قائم و دائم ہے۔بڑے بزرگوں کی باتوں کے علاوہ میں نے انکی لکھی ہوئی تحریروںاوران کے چالیسویں پر شائع ہونے والے نمبر میں موجودسینکڑوں تعزیت نامے اور انکی یادوں سے وابستہ مضامین کا بغور مطالعہ کیا ہے جس سے مجھے انکی زندگی کے نشیب و فراز کے بارے میں ادنی سی آگائی حاصل ہوئی ہے جو میں چاہوں گا کہ قارئین کے ساتھ شئیر کریں۔قبلہ الحاج ناسخ سیفی تحریک پاکستان کے بےباک صحافی تھے۔

آپ نے 27ءاگست 1937ءمیں پاکستان کے تاریخی شہر کمالیہ سے شمع سعادت روشن کی۔جس کی وجہ سے کمالیہ شہر کا نام بھی تحریک پاکستان میں روشن ہواآپ نے اس دور میںاخبار نکالاجس دور میں مسلمانوں کے حق میں اٹھنے والی آواز کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے خاموش کردیا جاتا تھا۔مرحوم نے حضرت قائد اعظم محمد علی جنا حؒکی ہر آوا ز پر لبیک کہا اور سعادت کو علمبردار مسلم لیگ تحریک پاکستان کا درجہ حاصل ہو گیاآ پ نے پاکستان کے مسئلے پرکبھی کسی سے سمجھوتا نہیںکیا۔بلکہ بعض اوقات انکو شدید مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑا۔مگر آپ نے ہمیشہ خندہ پیشانی سے ان کا مقابلہ کیاقبلہ صاحب کے چاہنے والوں میں سے محمدمنظور احمد د±ود±و انکی وفات کے فوراًبعد اپنی تحریر میں لکھتے ہیں۔

کہ حضرت داتا گنج بخشؒ کی بارگاہ میں جب کبھی نشست ہوتی توفرماتے کہ ±دود±و یہاں باقاعدگی سے نہ سہی جمعرات کی شب تہجد ضرور پڑھ لیا کریں۔اس لیے اس عبادت صبح گاہی میں بندوںپر بند ہ نواز عالم ختمی مرتبت ضرور اپنا کرم فرماتے ہیںیہ کہہ کرفرط عقیدت سے انکی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں اور مجھے یقین ہو جاتا ہے کہ قبلہ سیفی صاحب پر یہ بار بار کرم ہو رہا ہے۔مرحوم نبی اکرمسے سچی محبت کرنے والے تھے۔قرآن پاک میں اللہ تعالی فرماتے ہیںکہ جو ایمان والے ہیںوہ اللہ سے شدید محبت کرنے والے ہیں۔ مرحوم اولیائے اللہ سے خصوصی عقیدت رکھتے تھے۔وہ علمائے حق سے محبت کرتے تھے۔

انہوں نے اپنے اخبار روزنامہ سعادت کو بھی پاکستان نظام مصطفے اور اولیاءاللہ کی تعلیمات کو عام کرنے کیلئے وقف کر رکھا تھا مالی مفادات حاصل کرنے کی خواہش نہ تھی صرف اسلام کے مقدس مشن کو آگے بڑھانے کی آرزو تھی۔ناسخ سیفی کے بہت عزیز دوست پروفیسر افتخار احمد چشتی سلیمانی اپنی ایک یاداشت میں کچھ اس طرح لکھتے ہیں”کہ مرحوم سے میرے برسوں سے مراسم تھے۔انہیں رخصت کرتے وقت بھی طبعیت قابو میں نہ تھی اور اب انکی یا د ہر وقت میٹھا میٹھا درد دیتی رہتی ہے۔انکی عجیب پر کشش شخصیت تھی ظاہر بھی خوبصورت اور باطن بھی اگرچہ باطن کی اصل گواہی تو کوئی نہیں دے سکتا مگر پھر بھی جب کوئی کسی کو قریب سے دیکھتا ہے تو یہ قرب باطن پر بھی کچھ نہ کچھ روشنی ضرور ڈالتا ہے“۔

مجھے میرے والد محترم توفیق الرحمان سیفی بتاتے ہیں کہ آپ اس حد تک غریب پروری کرتے تھے کہ اگر کوئی آپ کاکا رکن بیمار ہوجاتا تو آپ عیادت کیلئے ان کے گھر جاتے اور جتنی دیر مریض کے پاس بیٹھتے وظائف کا ورد کرتے رہتے ، اسے تسلی دیتے اور اسکی صحت کے لیے دعا فرماتے جس سے کارکن کی حوصلہ افزائی ہوتی۔مرحوم نے صحافت کی تلوار سے کسی بے گناہ کا گلہ نہ کاٹا،کسی شریف انسان کی پگڑی نہ اچھالی،کبھی کارخانہ دار جاگیردار کو بلیک میل نہ کیا۔ایساکرنا تو دورمرحوم کے نزدیک ایسے افعال کا تصور بھی کفر کے مترادف تھا مرحوم کے متعلق میں یہ شعر لکھنے میں حق بجانب ہوں۔

میری زبان قلم سے کسی کا دل نہ دکھے کسی کو شکوہ نہ ہو زیر آسمان مجھ سے

الحاج نا سخ سیفی کی صحافت بلاشبہ اعلی روایا ت او ر اقتدار کی امین تھی۔ مرحوم کے اداریوں میں بلاکی جان ہوتی تھی ان کا لکھا ہوا ایک ایک لفظ قیام پاکستان سے پہلے تحریک پاکستان کی ترجمانی کرتا تھا۔ان کے اخبار روزنامہ سعادت سے انگریز سرکار بہت خائف تھی اور ہمیشہ سعادت کی آواز کو دبانے کی کوشش کرتی رہتی تھی۔

مرحوم مورخہ3-10-83میںاپنے آخری اداریہ میں کچھ اسطرح سے لکھ گئے تھے۔”کہ پاکستان میں دشمن عناصر کی اعلانیہ اور خفیہ سرگرمیاں جاری ہیںاور محب پاکستان سیاسی جماعتیں قانون کے احترام کے پیش نظر کوئی خدمت سرانجام دینے سے قاصر ہیں“۔ مرحوم کی وفات کے بعد روزنامہ سعادت کی جانیشنی ان کے محترم اور برادر عزیز الحاج اختر سدیدی اور سیفی برادران نے سنبھالی۔جنھوں نے مرحوم کے مشن کو بڑی کامیابی کے ساتھ آگے بڑھایا۔سعادت کے 83سالہ دور میں سعادت کے عظیم محسن ،لیڈر،اختر سدیدی،شفیق الرحمن سیفی،رفیق الرحمن سیفی،خلیق الرحمن سیفی نے بھی سعادت کی بھاگ دوڑ سنبھالی اور قبلہ الحاج ناسخ سیفی کے مشن کو مزید آگے لے کر چلتے رہے۔

آج بھی سیفی برادران اپنے والد محترم کے مشن کو آگے کامیابی سے آگے لے کر چل رہے ہیں۔مرحوم الحاج اختر سدیدی1984ءمیں اپنے تعزیت نامے میں لکھتے ہیں۔”کہ آپ حقیقاً“ناسخ سیفی تھے اس ناسخ کی سیف ان کا قلم تھا آپ اس قلم کو جس انداز سے چاہتے بصورت استعمال کرتے میں آج جو کچھ بھی ہو انکے دم سے ہوں قبلہ سیفی کی خصوصی نگرانی نے مجھے خالص سدیدی بنا دیا۔

سدیدی صاحب لکھتے ہیںکہ سیفی صاحب کی صحت ہمیشہ قابل رشک رہی یہاں تک کہ بیماری کے دوران بلکہ آخری ایام تک انکا چہرہ طمانیت سے منور رہا عیادت کو آنے والا ہر شحص یہ کہنے پر مجبور ہوتا تھا کہ قبلہ سیفی یقینا شفا پائیں گے میں خود اسی فریب میں مبتلا رہااور اسطرح

موت کو بھول گیا دیکھ کے جینے کی بہار

دل نے ہمیشہ نظر انجام کو رہنے نہ دیا“

قبلہ الحاج ناسخ سیفی سے لوگ اس قدر عقیدت و محبت کرتے تھے کہ انکی وفات کے بعد روزنامہ سعادت کے دفتر میںکئی مہینے تک سینکٹروںتعزیت نامے آتے رہے ان میں سے چند تعزیت ناموں کے عنوان کچھ اسطرح سے تھے۔

1984میں روزنامہ نوائے وقت کے مدیر جناب اپنے تعزیت نامے میں لکھتے ہیں۔کہ

’ ناسخ سیفی مرحوم راسخ العقیدہ مسلمان اور محب وطن پاکستانی تھے بلا شبہ ہم نظریہ پاکستان کے بڑے داعی سے محروم ہوگئے ہیں“ مجید نظامی

حکیم سعید نے اپنے تعزیتی پیغام میں لکھاتھا کہ ”صحافت کے میدان میں انکی خدمات ہمیشہ یاد رہیں گئیںاور الحاج ناسخ سیفی کی وفات کے خلاکو پر کرنا مشکل ہے“حکیم محمد سعید

اسی طرح دوسرے تعزیت نامے مثلاًصحافت کی دنیا سے ظفر ثانی اٹھ گیا،سیفی صاحب کی دنیا میں اسلاف کی یادگار تھے،محترم ناسخ سیفی ایثار پیشہ اور وضعدار بزرگ تھے،فیصل آباد میں عہد ساز دور ختم ہو گیا،ملک کے قیام اور اسکی تعمیر کیلئے قبلہ سیفی صاحب کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گاو غیرہ وغیرہ۔

دنیا و آخرت میںوہی انسان سرخروئی و کامیابی حاصل کرتا ہے جو دنیا میں اللہ اور اس کے رسولسے سچی عقیدت و محبت رکھتا ہو۔مرحوم الحاج ناسخ سیفی اللہ تعالی کے رسول© سے محبت کرنے والے ،اولیااللہ کی خدمت تعظیم کیلئے کمربستہ،پاکستان و ملت اسلامیہ کی ترجمانی کیلئے ہمہ وقت مصروف ،صوم و صلوة کے علاوہ درود و ظائف کے پابند ،مطالعہ کے شائق ،نیک صحبت کے متلاشی ،نظام اسلام کے شیدائی ،دن میںگرمی سردی کی پروا کیے بغیر ادارئیے لکھنے والے اور رات کو جائے نماز پر بیٹھ کر آنسوﺅں کی لڑیاں پرونے والے ،کیاکیا خوبیاں تھیںجانے والے میںمیں ان سب کوگنوا نہیں سکتابلاشبہ الحاج ناسخ سیفی ایک عظیم صحافی تھے جنھوں نے تقریباًچالیس بر س تک اپنے قلم سے ملک و قوم کی خدمت کی۔

سچے عاشق رسول کو1979ءلاہور میں پہلا فالج ہوا۔آخر کار 7جولائی1984ءکی صبح قبلہ سیفی صاحب کی آخری ہچکی ان کی ابدی زندگی کا عنوان اول و آخر بن گئی۔یہ سچ ہے کہ الحاج ناسخ سیفی?کودنیا فانی سے گئے ہوئے کئی برس گزر چکے ہیںلیکن وہ آج بھی ہمارے دلوں میں زندہ ہیں۔انہوںنے روزنامہ سعادت کی جو شمع روشن کی تھی وہ آج بھی کئی سال گزرنے کے باوجود ویسے ہی قائم و دائم ہے جیسے یوم آغاز پر تھی ان کے بیٹے اور پوتے آج بھی انھی کے بتائے ہوئے اصولوںکے مطابق اخبار کو چلا رہے ہیںجو اللہ تعالی کے فضل و کر م سے اس وقت تین شہروں فیصل آباد ،لاہور ،گوجرانوالہ سے روزانہ شائع ہو رہا ہے۔میں سمجھتا ہو ں کہ آج اگر روزنامہ سعادت اپنی منازل کو کامیابی سے طے کر رہا ہے تو اس کامیابی کے پیچھے ایک سچے عاشق رسول کی دعاﺅوں کا اثر ہے۔

اور یہ ہر مسلمان کاایمان ہے کہ جو اللہ اور اسکے پیارے حبیب حضرت محمدسے دلی عقیدت و محبت رکھتا ہے وہ دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی حاصل کرتا ہے۔اللہ تعالی مرحوم و مغفور کی مغفرت فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے۔(امین)

مزید : رائے /کالم


loading...