قومی ٹیم ۔۔۔۔جیت کے ہارگئی

قومی ٹیم ۔۔۔۔جیت کے ہارگئی

انگلینڈ میں رواں ورلڈ کپ کرکٹ ٹورنامنٹ میں شریک ٹیموں کے درمیان عالمی ٹائٹل کے حصول کیلئے زبردست جنگ جاری ہے، میگا ایونٹ اپنے اختتامی مرحلے کی طرف تیزی کے ساتھ گامزن ہے۔ شائقین کرکٹ کو میگا ایونٹ میں کانٹے دار مقابلوں سے بہت خوش نظر آرہے ہیں۔آسٹریلیا، بھارت، انگلینڈ اورنیوزی لینڈ کی ٹیموں نے سیمی فائنل مرحلے کے لئے کوالیفائی کرلیا ہے۔پاکستان کرکٹ ٹیم کا ورلڈ کپ میں سفر اختتام پذیر ہوگیا ہے۔ قومی ٹیم نے میگاایونٹ میں آٹھ میچز کھیلے جس میں پانچ جیتے ، تین میں شکست ہوئی اور ایک میچ بارش کی نذر ہوا۔ رن ریٹ کم ہونے کی وجہ سے پاکستان کرکٹ ٹیم سیمی فائنل تک رسائی حاصل نہ کرسکی تاہم سیمی فائنل تک رسائی حاصل نہ کرنے کی وجہ صرف رن ریٹ نہیں ہے، اس میں ناقص حکمت عملی، ٹاپ آرڈرز کی ناکامی، کمزور قیادت اور حریف ٹیموں کے خلاف پلاننگ کا فقدان بھی ایک بڑی وجہ ہے۔ پاکستان ٹیم انتظامیہ یا کپتان میگاایونٹ میں پانچ میچز جیتنے اور صرف تین میں شکست پر جو بھی ڈھول بجاتے رہیں لیکن اینڈ آف دی ڈے قومی ٹیم سیمی فائنل کی چار ٹیموں میں جگہ نہیں بناسکی۔ یہ پاکستان کرکٹ ٹیم کی کمزوری بھی ہے اور ناکامی بھی۔ رواں ورلڈ کپ میں سلیکشن کے مسائل بھی رہے جبکہ حکمت عملی پر سب سے زیادہ سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ کپتان سرفراز احمد بیٹنگ اور کپتانی میں متاثر نہیں کرسکے، نیوزی لینڈ اور افغانستان کیخلاف پاکستان کامیاب تو رہا لیکن رن ریٹ بہتر بنانے کی جانب کسی کی توجہ نہیں تھی۔ افغانستان جیسی کمزور ٹیم کیخلاف مشکل سے کامیابی حاصل کرنا ہی پاکستان ٹیم کیلئے سیمی فائنل کی مشکلات میں اضافے کا باعث بنا۔ انفرادی کارکردگی پر نظر دوڑائی جائے اوپنر بلے باز امام الحق نے بنگلہ دیش کیخلاف آخری میچ میں سنچری تو سکور کی لیکن امام الحق پورے ٹورنامنٹ میں آف کلر رہے، فخرزمان کیخلاف یہ ورلڈ کپ بڑی ناکامی لیکر آیا، فخر نے پورے ٹورنامنٹ میں صرف ایک نصف سنچری سکور کی جبکہ بابر اعظم ایک سنچری بنانے میں کامیاب رہے اور آخری میچ میں چار رنز کمی کی باعث سنچری سے محروم رہے۔ دونوں اوپنر بلے باز اگر دیگر نمایاں ٹیموں کے اوپنرز کی طرح اگر اوپر سے سکور کرتے تو پاکستان ٹیم اس بحرانی کیفیت سے دو چار نہ ہوتی۔ محمد حفیظ صرف انگلینڈ کیخلاف سکور کرنے میں کامیاب رہے جبکہ حارث سہیل بھی دو میچز میں بہتر نظر آئے، شعیب ملک کو جو دو مواقع دئیے گئے وہ اس میں کامیاب نہ ہوسکے جبکہ آصف علی کو زیادہ چانس نہیں دیا گیا۔ کپتان سرفراز احمد ایک بار پھر پورے ٹورنامنٹ میں ناکام رہے اور ان کی بیٹنگ میں ناکامی کے ساتھ ساتھ غلط فیصلے بھی پاکستان ٹیم پر بھاری پڑے۔ باو¿لنگ میں حسن علی کیلئے یہ ورلڈ کپ بھیانک خواب ثابت ہوا جبکہ شاہین شاہ آفریدی کی جتنی تعریف کی جائے وہ کم ہے۔ شاہین نے بنگلہ دیش کیخلاف پانچ وکٹیں حاصل کیں جبکہ افغانستان اور نیوزی لینڈ کیخلاف بھی شاہین شاہ کامیاب رہے۔ وہاب ریاض اور محمد عامر نے بھی ایونٹ میں شاندار باو¿لنگ کی لیکن بھارت کیخلاف میچ میں وہاب ریاض اور شاداب خان کی ناقص باو¿لنگ پاکستان کی شکست کا باعث بنی۔دوسری جانب سابق کرکٹرز نے آئی سی سی کے قوانین پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے شدید تنقید کر ڈالی ،انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان مائیکل وان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر نیٹ رن ریٹ کے قانون کو 'کچرا' قرار دے دیا۔انہوں نے تجویز دی کہ آئندہ ورلڈکپ میں ٹیموں کے ناک آٹ مرحلے میں پہنچنے کا فیصلہ پہلے ان کے گروپ اسٹیج کے مقابلے، پھر ڈک ورتھ لوئس اور پھر رن ریٹ پر کیا جانا چاہیے۔ویسٹ انڈیز کے سابق کرکٹ لیجنڈ مائیکل ہولڈنگ نے کہا تھا کہ میری خواہش تھی کہ اگر پاکستانی ٹیم بنگلہ دیش کو شکست دے تو وہی سیمی فائنل کھیلے۔انہوں نے مزید کہا تھا کہ نیوزی لینڈ اور پاکستان کے پوائنٹس برابر ہیں چونکہ پاکستان نے نیوزی لینڈ کو گروپ اسٹیج میں شکست دی تھی اس لیے اسے سیمی فائنل میں ہونا چاہیے تھا۔اسی طرح جنوبی افریقہ کے سابق کپتان گریم اسمتھ نے بھی رن ریٹ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ 'مجھے رن ریٹ سے نفرت ہے۔'کرکٹ ایکسپرٹ ایلن والکنز نے نیٹ رن ریٹ کو غیر منصفانہ قرار دیا۔سابق بھارتی کرکٹر سنجے منجریکر نے پاکستان ٹیم کی سیمی فائنل میں نہ پہنچنے پر مایوسی کا اظہار کیا اور کہا کہ اس ٹیم نے اپنی صلاحیت سے زیادہ اچھی کارکردی دکھائی۔سابق ٹیسٹ کرکٹر رمیز راجہ نے کہا کہ پاکستان جیت کے ساتھ اس ورلڈکپ سے رخصت ہورہا ہے، لیکن اس نے آج نیٹ رن ریٹ اور کسی دیگر نظام کے رائج ہونے کی بحث کا آغاز بھی کردیا ہے۔پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے اعتراف کیا ہے کہ قومی ٹیم کا ورلڈکپ میں اختتام ویسا نہیں ہوا جس کی خواہش تھی۔ بنگلہ دیش کے خلاف بڑی کامیابی کے باوجود قومی ٹیم کے کوچ خوشی اور غم کے درمیان پھنس گئے مکی آرتھر کا کہنا تھا کہ ایونٹ میں ٹیم کا اختتام بہت مایوس کن رہا جس میں بہت زیادہ نشیب و فراز تھے۔انہوں نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اگر ہم ایونٹ میں اپنے پہلے پانچ میچوں کو دیکھیں اور اس کے بعد آخری 4 میچوں کو دیکھیں تو اس میں ٹیم کی علیحدہ علیحدہ پرفارمنس دکھائی دیتی ہیں۔مکی آرتھر نے اعتراف کیا کہ پاکستانی ٹیم کے لیے ورلڈکپ مہم کا اختتام ویسا نہیں ہوا جس کی خواہش تھی اور یہ بہت ہی مایوس کن ہے۔خیال رہے کہ اپنے آخری گروپ میچ میں پاکستانی ٹیم کو ون ڈے کی تاریخ کے کئی عالمی ریکارڈز توڑتے ہوئے بنگلہ دیش کو شکست دینی تھی جو اس کے سیمی فائنل میں پہنچنے کی آخری امید تھی، تاہم امیدوں کے بر عکس ایسا نہیں ہوسکا۔بنگلہ دیش کے خلاف میچ میں کھلاڑیوں کی بیٹنگ سے متعلق مکی آرتھر کا کہنا تھا کہ حریف ٹیم کے خلاف بڑا اسکور کرنے کا عزم ہی لے کر ٹیم میدان میں اتری تھی تاہم وکٹ سست ہونے کی وجہ سے بڑا اسکور کرنے میں ناکام رہے۔میچ کے دوران ہی پاکستانی اوپنر فخر زمان نے اس بات کا انکشاف کردیا تھا کہ قومی ٹیم بڑا اسکور نہیں کرسکتی جس کی وجہ سے سیمی فائنل میں پہنچنا ناممکن ہے۔مکی آرتھر نے اپنے بیان میں کہا کہ 'یہ جھوٹ ہوگا اگر میں کہوں گا کہ اس معاملے می بات نہیں ہوئی، ہم نے ٹاس جیتا جو میچ میں ہمارے لیے اچھا آغاز تھا اور ہم نے 400 کا ہندسہ عبور کرنے کے لیے پلیٹ فارم تو تیار کر لیا تھا، لیکن جب فخر زمان آٹ ہوکر پویلین لوٹے تو انہوں نے بتایا کہ وکٹ سست ہے اور یہاں اسکور کرنا بہت مشکل ہورہا ہے۔'مکی آرتھر نے اعتراف کیا کہ ویسٹ انڈیز کے خلاف ایونٹ کے پہلے ہی میچ میں قومی ٹیم کی بڑے مارجن سے شکست نے ٹیم کو نقصان پہنچایا، اور جس طرح ٹیم کو شکست ہوئی ایسے میں دوبارہ اپنا رن ریٹ حاصل کرنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔اس کے باوجود قومی ٹیم کے کوچ نے سیمی فائنلسٹ انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے خلاف پاکستانی جیت پر اطمینان کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے ایونٹ کی 4 بہترین ٹیموں میں سے 2 کو شکست دی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بطور کرکٹ ٹیم ہم زیادہ دور نہیں ہیں۔قومی ٹیم کے کوچ نے بھارت کے خلاف بڑی شکست کے بعد ٹیم کی بحالی میں کپتان سرفراز احمد کی کوششوں کو سراہا۔جبکہ پاکستان ٹیم کے سابق کپتان اوروسیم اکرم نے کہاہے کہ ورلڈ کپ کوئی گلی محلے کی کرکٹ نہیں ہے کہ کوئی آپ کے پیار میں جیت یا ہار جائے ، کوئی ٹیم آپ کیلئے جان بوجھ کر کیوں ہارے گی ، دوسری ٹیموں کے بارے میں کہنا درست نہیں کہ وہ ہارجاتے یا وہ جیت جاتے ، دوسری ٹیمیں بھی ورلڈ کپ کھیلنے آئی ہیں۔ وسیم اکرم کا کہناتھا کہ مجھے تو اس چیز پر حیرانی ہوتی ہے کہ سابق کھلاڑی بھی ایسی باتیں کر رہے ہیں کہ فلاں ٹیم جان بوجھ کر ہار گئی ہے ، لگتا ہے کہ انہیں کرکٹ کی سمجھ ہی نہیں ہے۔ان کا کہناتھا کہ قومی ٹیم کو درپیش مسائل کا حل کوئی نہیں بتاتا، بس سب تنقید کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔پاکستان ٹیم نے آخری تین میچز بہت اچھے کھیلے اور کم بیک کیا لیکن ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں بری شکست سے پاکستانی ٹیم رن ریٹ کے چکر میں پھنس گئی اس کے بعد وہ رن ریٹ کو ریکور ہی نہیں کر سکی لیکن میرے خیال میں پاکستان کو آسٹریلیا سے میچ نہیں ہارنا چاہیے تھا کیونکہ وہ میچ یہ جیت سکتے تھے۔انہوں نے کہا کہ بنگلا دیش کے پاس شکیب الحسن جیسا بہترین پلیئر ہے جب کہ ہمارے پاس ایسا کوئی کھلاڑی نہیں ہے، شکیب اچھا باﺅلر، بہترین بلے باز اور شاندار فیلڈر ہے۔ان کا کہنا تھا میرے نزدیک صرف نمبر ون کی اہمیت ہے، دوسری تیسری چوتھی پانچویں کی نہیں یا تو آپ جیتو یا پھر کسی بھی پوزیشن پر آ سب برابر ہے۔جبکہ پاکستاں کرکٹ ٹیم کے منیجر طلعت علی نے حالیہ ورلڈکپ میں قومی ٹیم کی کارکردگی کو اطمینان بخش قرار دے دیا۔طلعت علی کا کہنا ہے کہ ورلڈکپ میں پاکستان ٹیم کی کارکردگی اتنی بری نہیں جتنی قرار دی جا رہی ہے، پاکستان نے ان دو ٹیموں کو ہرایا جو سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر چکی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ پاکستان نے انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے علاوہ جنوبی افریقا کے خلاف بھی کامیابی حاصل کی جبکہ آسٹریلیا کے خلاف میچ جیتتے جیتتے ہار گئے، بیٹنگ لائن اپ اچانک فلاپ ہو گئی ورنہ وہ میچ بھی جیتا جا سکتا تھا۔قومی ٹیم کے منیجر نے کہا کہ نوجوان کھلاڑیوں کا فوکس صرف کھیل پر ہے، یہ بار یا کلب جانے والے کھلاڑی نہیں ہیں، رات 3 بجے شیشہ پینے کے لیے جانے والی خبریں اچانک اڑا دی گئیں حالانکہ اس میں کوئی حقیقت نہیں تھی۔ انہوں نے بتایا کہ ریسٹورنٹ 12 بجے بند ہو جاتا ہے، تین بجے وہاں جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا جبکہ کھلاڑی گئے بھی میچ سے دو روز قبل تھے۔ان کا کہنا ہے پاکستان میں بیٹھے لوگ ٹیم پر تنقید کر رہے ہیں، انہیں یہاں کے حالات کا علم ہی نہیں ہے اور نہ صورت حال کا پتہ ہے۔سابق ٹیسٹ کرکٹر نے مزید کہا کہ کھلاڑیوں کو سارا دن ہوٹل میں بند بھی نہیں رکھا جا سکتا، ان کے ساتھ ڈسپلن کا کوئی ایشو نہیں۔جبکہ شعیب ملک کے ون ڈے کیریئر کا سورج غروب ہو گیا۔انہیں ورلڈ کپ 2019 میں الوداعی میچ نہیں مل سکا۔شعیب ملک نے اپنے ایک روزہ کیرئیرکا آخری میچ رواں ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف کھیلا تھا،جس میں وہ صفر پر آﺅٹ ہوئے تھے۔انہوں نے ورلڈ کپ 2019 میں انگلینڈ، آسٹریلیا اور بھارت کے خلاف انتہائی اہم میچز میں ٹیم کی نمائندگی کی اور بالترتیب 8،صفر اور صفر پر پویلین لوٹ گئے۔شعیب ملک کو ورلڈ کپ میں بنگلادیش کے خلاف قومی ٹیم کے آخری میچ میں فائنل الیون میں شامل نہیں کیا گیا۔37سالہ آل راﺅنڈر پہلے ہی ورلڈ کپ کے بعد ایک روزہ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرچکے ہیں۔وہ اپنے آخری ورلڈ کپ کی آخری اننگز میں صفر پر آﺅٹ ہوئے انہیں ہردیک پانڈیا نے صفر پر بولڈ کیا تھا۔پاکستانی آل راﺅنڈر نے 287ایک روزہ میچوں میں ملک کی نمائندگی کی اور 7ہزار 534رنز بنائے اور 158وکٹیں اپنے نام کیں۔14اکتوبر1999 کو ایک روزہ کیرئیر کا آغاز کرنے والے شعیب ملک نے 20سالہ کیرئیر میں 9سنچریاں اور 44نصف سنچریاں اسکور کیں۔ان کے ایک روزہ کیرئیر کا بہترین انفرادی اسکور 143رنز ہے، جو انہوں نے بھارت کے خلاف 2004 میں کولمبو میں بنایا تھا۔ذرائع کے مطابق شعیب ملک کو مستقبل میں پاکستانی ٹی 20ٹیم میں بھی شامل نہیں کیا جائے گا۔جبکہ پاکستانی فاسٹ باﺅلر شاہین شاہ آفریدی آئی سی سی ون ڈے ورلڈ کپ کرکٹ ٹورنامنٹس کی تاریخ میں اننگز میں 5 یا زائد وکٹیں لینے والے کم عمر ترین باﺅلر بن گئے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے ورلڈ کپ میں بہترین باﺅلنگ کا نیا ملکی ریکارڈ بھی اپنے نام کر لیا، انہوں نے بنگلہ دیش کے خلاف کھیلے گئے ورلڈ کپ میچ میں 19 برس اور 90 دن کی عمر میں 6 وکٹیں لیکر یہ سنگ میل عبور کیا۔ انہوں نے 9.1 اوورز میں 35 رنز کے عوض 6 وکٹیں لیکر پاکستان کی طرف سے ورلڈ کپ میں بہترین باﺅلنگ کا اعزاز حاصل کر لیا۔ شاہین آفریدی نے 5 میچز میں مجموعی طور پر 16 کھلاڑیوں کو آﺅٹ کیا۔جبکہ ورلڈکپ پاکستانی اوپنرفخر زمان کیلئے ڈراﺅنا خواب ثابت ہوا جب کہ وہ 8میچز میں محض 186رنز ہی بنا سکے۔سیمی فائنل میں جگہ نہ بنا پانے والی پاکستانی ٹیم کو ورلڈکپ میں اوپنر فخر زمان سے بیحد امیدیں تھیں مگر وہ ان پر پورا نہ اتر پائے، لیفٹ ہینڈر نے 8میچز میں 23.25کی معمولی اوسط سے محض 186رنز بنائے،اس میں صرف ایک ہی نصف سنچری شامل تھی، دوسرے اوپنر امام الحق بھی بیشتر میچز میں ناکام رہے مگر بنگلادیش سے غیراہم مقابلے میں سنچری سے انھوں نے اپنے انفرادی اعدادوشمار کچھ بہتر بنا لیے۔امام نے 38.12کی اوسط سے 305رنز اسکور کیے،بابر اعظم نے67.71 کی ایوریج سے سب سے زیادہ474رنز بنائے، اس میں ایک سنچری اور 3 ففٹیز شامل رہیں، محمد حفیظ نے253اور حارث سہیل نے198رنز اسکور کیے،عماد وسیم162رنز بنانے میں کامیاب رہے، سرفراز احمد28.60کی اوسط سے 143رنز ہی بنا سکے، شعیب ملک 3میچز میں8اور آصف علی 2مواقع ملنے پر 19رنز تک محدود رہے۔بولنگ میں محمد عامر نے 8 میچز میں سب سے زیادہ 17کھلاڑیوں کو21.05کی اوسط سے آﺅٹ کیا،وہاب ریاض نے11شکارکیے، شاداب خان9وکٹیں لینے میں کامیاب رہے، حسن علی کو 4میچز میں محض2وکٹیں ملیں۔جبکہ بنگلہ دیشی آل راﺅنڈر شکیب الحسن نے آئی سی سی ون ڈے ورلڈ کپ کرکٹ ٹورنامنٹس کی تاریخ میں زیادہ مرتبہ ففٹی پلس رنز کی اننگز کھیلنے کا سابق بھارتی بلے باز سچن ٹنڈولکر کا عالمی ریکارڈ برابر کر دیا، انہوں نے پاکستان کے خلاف کھیلے گئے ورلڈ کپ میچ میں ففٹی بنا کر یہ کارنامہ انجام دیا، یہ ان کا رواں ایونٹ میں ساتواں ففٹی پلس سکور تھا، ٹنڈولکر نے 2003ءمیں منعقدہ ورلڈ کپ میں 7 مرتبہ ففٹی پلس رنز کی اننگز کھیل کر عالمی ریکارڈ قائم کیا تھا۔ اس کے علاوہ شکیب سنگل ورلڈ کپ میں زیادہ رنز بنانے والے دنیا کے تیسرے بلے باز بھی بن گئے ہیں، انہوں نے سابق سری لنکن بلے باز جے وردھنے کو پیچھے چھوڑتے ہوئے یہ اعزاز حاصل کیا، جے وردھنے نے 2007ءمیں منعقدہ ورلڈ کپ میں 548 رنز بنائے تھے جبکہ شکیب نے رواں ٹورنامنٹ میں 606 رنز بنا لئے ہیں، ورلڈ کپ ایک ایڈیشن میں زیادہ رنز بنانے کا عالمی اعزاز ٹنڈولکر کے پاس ہے انہوں نے 2003ءمیں منعقدہ ورلڈ کپ میں 673 رنز بنائے تھے، آسٹریلیا کے میتھیو ہیڈن 659 رنز بنا کر دوسرے نمبر پر موجود ہیں۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...