فیصل آباد میں طوفانی بارش،150فیڈرٹرپ کر گئے نظام زندگی معطل

فیصل آباد میں طوفانی بارش،150فیڈرٹرپ کر گئے نظام زندگی معطل

فیصل آباد(خرم عمران سے، کرائم رپورٹر، سپیشل رپورٹر)فیصل آباد میں گذشتہ روز تقریباً 3گھنٹے کی پہلی مون سون بارش سے واسا کی سیوریج لائنوں کی ڈی سلٹنگ کا ڈرامہ فلاپ ہو گیا، شہر کی سڑکوں اور گلیوں میں گھنٹوں تک کھڑے رہنے والے بارش اور سیوریج  کے مکس پانی کی وجہ سے سوائے وی آئی پیز کی گزر گاہوں کے باقی مقامات پر جہاں بے شمار گاڑیاں‘ موٹر سائیکلیں پانی میں ہی بند ہو گئیں وہاں آمدورفت تقریباً بالکل ہی بند ہو کر رہ گئی۔ سیکرٹری ہاؤسنگ نسیم صادق کی طرف سے دوبارہ ڈی سلٹنگ کے احکامات کے باوجود پانی کے نکاس کے لئے پانچ گھنٹے کا سٹینڈرڈ ٹائم گزر جانے کے باوجود بھی پانی کی نکاسی نہ ہو سکی۔ذرائع کے مطابق واسا کا مینٹیننس ڈیپارٹمنٹ (WWM) تقریبا ً دو اڑھائی ماہ قبل سب ڈویژن کی سطح پر  O&Mکے سپرد کر دینے سے سسٹم بری طرح متاثر ہوا۔ سیکرٹری ہاؤسنگ پنجاب نسیم صادق چند روز قبل جب فیصل آباد کے دورہ پر آئے توانہوں نے فوری طور پر  ڈی سلٹنگ کے احکامات جاری کئے جس پر اگرچہ عملدرآمد تو شروع کر دیا گیا تھا مگر واسا افسران کی کوششیں تاخیر کا شکار ہو رہی تھیں کہ اسی دوران مون سون کی پہلی بارش برس پڑی اور سیوریج سسٹم ناکام ہو کر رہ گیا۔ محکمہ موسمیات کی  پیشین گوئی کے مطابق آئندہ دو روز تک مزید بارش کا امکان ہے اگر یہی صورتحال رہی تو اس سے قبل فیصل آباد کے شہریوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ آخری اطلاع کے مطابق عبداللہ پور چوک‘ مین سوساں روڈ‘غلام محمد آباد کے اندرونی علاقے‘اندرون ڈی ٹائپ کالونی‘ اندرون بٹالہ کالونی‘ جی سی ویمن یونیورسٹی روڈ اور سمن آباد سمیت متعدد علاقوں میں آمدورفت کا نظام معطل تھا اور فیصل آباد کے شہری نسیم صادق کی بطور ڈی سی او فیصل آباد کی کارکردگی کے پیش نظر صورتحال کی فوری اصلاح کے لئے ان کے منتظر تھے۔شہر میں ہونیوالی طوفانی بارش اور تندو تیزہواؤں کا بوجھ فیسکو کی تنصیبات نہ برداشت کر سکیں جس کی زد میں آ کر طارق آباد‘گارڈن ٹاؤن‘عبداللہ پور‘ منصور آباد سمیت تقریباً 150فیڈر ٹرپ کر گئے جو 12گھنٹے کی طویل جدوجہد کے باعث فنکشنل ہو سکے۔ بجلی کی بندش کے دوران سرکاری و غیر سرکاری دفاتر میں کام کرنے والے سینکڑوں ملازمین تیار ہو کر بروقت دفاتر میں نہ پہنچ سکے اور بجلی کی طویل بندش کے باعث متعدد گھروں مسجدوں میں پانی بھی ختم ہو گیا۔ متعدد افرادوضو نہ ہو سکنے کے باعث نماز کی ادائیگی نہ کر سکے۔ صبح تقریباً چھ بجے ہونے والی بجلی کی فراہمی علاقوں میں شام چھ بجے کے بعد تک فراہم نہ ہوسکی تھی۔دریں اثناء میونسپل کارپوریشن نے جڑانوالہ روڈ پر واقع جلوی مارکیٹ میں 28دوکانوں کے سٹے آرڈر ہونے کے باوجود ناجائز تجاوزات کے آپریشن کے دوران تقریباً1800دکانیں آپریشن کی زد میں آ گئیں۔ تاہم ماضی کی سیاسی سرپرستی کی وجہ سے آپریشن موبائل مارکیٹ پر پہنچتے پہنچتے رک گیا اور آپریشن کے ذمہ دار افسران اچانک ہی اسے ادھورا چھوڑ کر غائب ہو گئے جس کے بعدماضی قریب کے سیاسی سرپرستوں نے کرین ڈرائیور کو کرین سمیت یرغمال بنا لیا۔جبکہ میونسپل کارپوریشن اہلکاروں کے مطابق انکروچمنٹ کا کام ڈویژنل کمشنر کی ہدایات پر کیاگیا  اور کہا گیا کہ مکمل طور پر انکروچمنٹ ختم ہونے تک بلا تفریق آٓپریشن جاری رہے گا۔ انکروچمنٹ کی کارروائی کے دوران پو لیس کی بھاری نفری بھی موجود تھی اور مزاحمت کرنے والے دکانداروں کو پولیس کی طرف سے تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا جبکہ باخبر ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ جلوی مارکیٹ کے 28دکانداروں نے عدالت سے حکم امتناعی بھی حاصل کر رکھا تھا کارروائی کے دوران کارپوریشن عملہ نے حکم امتناعی بھی ماننے سے انکار کر دیا اس ساری کارروائی کی پشت پناہی ن لیگ کے ایک بااثرایک سیاسی عہدیدار نے مطلوبہ ”بھتہ‘ نہ ملنے کی وجہ سے کروائی۔ 

فیصل آباد، تجاوزات

مزید : صفحہ آخر


loading...