پاک افغان بارڈر پر کسٹم کلیئرنس ایجنٹس کی ہڑتال دوسری روز بھی جاری

پاک افغان بارڈر پر کسٹم کلیئرنس ایجنٹس کی ہڑتال دوسری روز بھی جاری

خیبر (بیورورپورٹ)پاک افغان طورخم بارڈر پر کسٹم کلئیرنس ایجنٹس کا مطالبات کے حق میں جاری ہڑتال دوسرے روز بھی جاری رہا اس موقع پر کسٹم کلئیرنس ایجنٹس کے 15رکنی کمیٹی نے اپنے مطالبات پیش کر دئیے ہیں سینکڑوں مال بردار گاڑیاں دونوں اطراف کھڑی ہیں تاجر اور ٹرانسپورٹرز شدید مشکلات اور پریشانی سے دوچار ہیں لیکن تا حال کسی اعلی حکام مسلئے کو حل کرنے کیلئے کسی قسم کے اقدامات نہیں کئے روزانہ کروڑوں روپے کا نقصان ہو رہا ہیں لیکن کسٹم اعلی حکام نے کسٹم کلئرنس ایجنٹس سے مذاکراتتک گوراہ نہیں کیا حکومت طورخم باڑدر کو تجا رت کیلئے چوبیس گھنٹے کھلا رکھنے کا علان کر چکے ہیں لیکن تجا رت کوفروغ دینے اور کسٹم کلئرنس میں آسانی پیدا کرنے کے بجائے مذید پیچیدہ اور سخت کر ہے ہیں طورخم بارڈر پر بجلی انٹرنیٹ سمیت دوسرے سہولیات نہ ہونے کی برابر ہیں لیکن ائے روز نئی پالسیوں سے سہولیات نہ دینے مشکلات پیدا ہو رہی ہیں اور ہڑتالیں معمول بن گئے ہیں ایک طرف حکومت کوشش کر ہی ہیں کہ طورخم کسٹم میں ٹیکس جمع ہونے میں اضافہ ہو سکے لیکن دوسری طرف سہولیات نہ دینا اور نئی پالیسیاں بنانے اور لاگو کرنے سے مذید ٹیکس کم ہو تا جا رہا ہیں اور کاروبار تباہی کی طرف جا رہے ہیں اگر حکومت نے سنجیدگی سے اقدمات نہیں کئے تو مذید مشکلات پیدا ہو سکتے ہیں دورسرے روز ہڑتال جا ری ہیں لیکن ذمہ دارارن خواب خرگو ش سوئے ہوئے ہیں لیکنطورخم کسٹم کلیئر نس ایجنتس نے مذا کرات کیلئے  پندرہ رکنی کمیٹی تشکیل دی ہیں اور مظالبات بھی پیش کئے ہیں لیکن حکومت اور کسٹم کے اعلی حکام کی طرف سے تاحال کوئی خاطر خواہ جواب نہیں ملا ہیں اس سلسلے میں طورخم کسٹم کلیئر نس ایجنٹس کمیٹی کے سربراہ حاجی شاہ جہان شینواری نے بتا یا کہ انہوں کسٹم حکام کو درجہ زیل مطالبات پیش کر دئے ہیں اگر یہ مطالبات تسلیم نہیں کئے گئے اور اعلی حکام نے اس پر سنجیدگی سے غور نہیں کیا تو ہڑتال جا ری رہے گا نیٹ سسٹم خراب ہونے کی صورت میں متبادل سہولت دیں.2 فریش فروٹ ویجیٹیبل امپورٹ ٹائم 8  am سے 8 pm  تک کرنا چاہئے. 3 امپورٹ ٹرمینل ایکسپورٹ گیٹ آؤٹ جی اجازت nlc کو نہیں دینا چاہیے..4 امپورٹ ایکسپورٹ کی value کم کرنا چاہیے. 5دو سٹیپس ایگزا مینیشن نہیں ہونا چاہیے jarیا  scanning ان میں سے ایک چاہیے. 6.pdسٹیٹمینٹ صرف اور صرف طورخم نیشنل بینک میں ہونا چاہیے. 7مکس آئٹم میں ڈیکلریشن ریشو پر ہونا چاہیے 8وی باک کا ٹوکن 500کی بجائے 250میں بحال ہونا چاہیے.9کسٹم کا،سٹاف کلیکٹر سے انسپکٹر تک ہمارے ساتھ کوئی آپریشن. Co نہیں کرتا ہے. 10گاڑی سے غیر متعلقہ چیزیں ملنے پر ایجنٹ زمہ دار نہیں ہوگا. 11. این ایل سی کاکام construction ہے کسی اور کام میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے. 12کسٹم کے ساتھ جو امپورٹ ایکسپورٹ کی خالی وزن 22 ٹن 22   wheeler. سولہ ٹن 10 wheeler. نو ٹن 6wheelerہوگا.13.انٹری پاس کی کل رقم 500روپے سراسر زیادتی ہے جس کو ختم کیا جائے یا رقم 100روہے فی انٹری پاس کیا جائے 14.ایمپورٹ اور ایکسپورٹ کا گیٹ پاس ایگزا مینیشن میں دینا چاہیے 15.کسٹم سٹاف جی ڈی میں کلریکل غلطی صورت میں دوبارہ تسخیخ نہیں کرتی اور ایسے کء فائلز کسٹم میں  pindingہیں جوکہ سراسر ظلم ہے. اس موقع پر کسٹم کلئیرنس ایجنٹس کے مزاکرات کمیٹی نے کہا کہ طورخم بارڈر پر کسٹم کلئیرنس ایجنٹس عرصہ دراز سے مختلف مشکلات اور مسائل سے دوچار ہیں اور ابھی تک کسی اعلیٰ حکام نے مسائل حل نہیں کئے گئے ہیں جوکہ افسوس کا مقام ہے کسٹم کلئیرنس ایجنٹس مزاکرات کمیٹی نے کہا کہ ہمارے تمام مطالبات تسلیم کی جائے اور مطالبات کے تسلیم ہونے تک  ہڑتال جاری رہے گا اور کسی قسم کی کلئیرنس نہیں ہوگی. واضح رہے طورخم بارڈر پر کسٹم کلئیرنس ایجنٹس کی مطالبات کے حق میں جاری ہڑتال کے باعث دونوں اطراف سے سے سینکڑوں مال بردار گاڑیاں کھڑی جس کی وجہ سے قومی خزانے کو بھی کروڑوں روپے کا نقصان ہوا ہے

مزید : صفحہ اول


loading...