پشاور اور اضاخیل ڈرائی پورٹ کوفعال بنایا جائے ، ضیاءالحق سرحد ی

پشاور اور اضاخیل ڈرائی پورٹ کوفعال بنایا جائے ، ضیاءالحق سرحد ی

پشاور( سٹی رپورٹر)فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI)کے پاکستان ریلوے ایڈوائزری بورڈ کے رکن اور ڈپٹی کنوینئر اورسرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی ڈرائی پورٹ اور ریلوے سٹینڈنگ کمیٹیوں کے چیئرمین ضیاءالحق سرحدی نے پاکستان ریلوے اورایف بی آرسے ایس آر او۔121کے فوری خاتمہ کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ لوز کار گوکی اجازت دی جائے تاکہ کراچی پورٹ میںکارگوگڈز کنٹینرزسے خالی کر کے شپنگ کمپنیوں کے حوالے کیے جاسکیںاور کارگوگڈزویگنوں میں لوڈ کرکے افغانستان بھیجا جا سکے۔ ضیا الحق سرحدی جو کہ پاک افغان جائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق سینئر نائب صدر اور فرنٹیئر کسٹمز ایجنٹس گروپ خیبر پختونخوا کے صدربھی ہیں نے کہا کہ موجودہ ریلوے پشاور ڈرائی پورٹ سمیت اضاخیل ڈرائی پورٹ کو فعال بنایا جائے۔انہوں نے پاکستان ریلوے کی موثر اور اچھی خدمات کو یاد دلاتے ہوئے بتایا کہ2010ءسے پہلے پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ1965معاہدہ گیتاGita(گڈز ان ٹرانزٹ ٹو افغانستان) بڑی خوش اسلوبی سے 50سالوں تک دونوں ملکوں کے مابین چلتا رہااور اس معاہدے میں کوئی بھی نا خوشگوار واقعہ پیش ہوا۔جبکہ 2010ءکامعاہدہ ایک پریشر کے تحت اُجلت میں کیا گیا جس میں دونوں ممالک کے سٹیک ہولڈر کو اعتماد میں نہیں لیا گیااور حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کارگو 70فیصد چاہ بہار اور بندرعباس منتقل ہو گیااور اس اقدام سے پاکستان ریلوے کو فریٹ کی مد میں کروڑوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ ہزاروں کسٹم ایجنٹس،بارڈر ایجنٹس،شپنگ ایجنٹس،ٹرانسپورٹرزاورمزدوربے روزگار ہو گے ہیں۔ ضیا الحق سرحدی جو کہ آل پاکستان کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن کے مرکزی نائب صدرہیں نے کہاکہ پاکستان ریلوے پشاور تا کراچی اور کراچی تا پشاور افغان ٹرانزٹ ٹریڈ سمیت ایکسپورٹ اور امپورٹ کے مال پہنچانے کے لئے اقدامات اٹھائے۔انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں قالین‘شہد‘فرنیچر‘ہنڈی کرافٹ، ماربل،جیمز اورماچس کے سب سے ذیادہ کارخانے ہمارے صوبے میں واقع ہیں اور یہ تمام مال پشاور ڈرائی پورٹ سے کارگو ٹرین نہ ہونے کی وجہ سے پرائیویٹ ٹرکوں میں لوڈ ہو کر کراچی جاتے ہیں۔اوروہی سے کسٹم کلیئرنس کے بعد مختلف ممالک کو ایکسپورٹ ہو جاتے ہیں۔اس اقدام سے بھی صوبہ خیبرپختونخوا کے سینکڑوںکسٹم کلیئرنگ ایجنٹس،ایکسپورٹرزاور مزدور بے روز گار ہو کر رہ گئے ہیں۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...