جنگلات آتشزدگی،عدالت نے کارروائی کیلئے درخواست کو ایڈیشنل سیشن جج صوابی کو مارک کر دیا

جنگلات آتشزدگی،عدالت نے کارروائی کیلئے درخواست کو ایڈیشنل سیشن جج صوابی ...

صوابی(بیورورپورٹ)اے این پی کے مرکزی رہنما و سابق رکن صوبائی اسمبلی و سابق جنرل سیکرٹری اے این پی محمد سلیم خان ایڈووکیٹ نے ضلع صوابی کے مختلف پہاڑوں کے جنگلات میں آگ لگانے کے معاملے پر غفلت برتنے اور کسی قسم کی قانونی کارروائی نہ کرنے کی وجہ پر ڈپٹی کمشنر صوابی، پولیس آفسران، محکمہ جنگلات و محکمہ جنگلی حیات ضلع کے حکام پر ایف آئی آر درج کرانے کے لئے دفعہ 22Aضابطہ فوجداری کے تحت تحریری درخواست ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج صوابی کی عدالت میں دائر کردی۔ عدالت نے کارروائی کے لئے درخواست کو ایڈیشنل سیشن جج صوابی کو مارک کر دیا۔ جس پر عدالت نے کارروائی کے لئے 11جولائی کی تاریخ مقرر کر دی۔ درخواست میں ڈی پی او صوابی، ایس ایچ اوز پولیس تھانہ کالو خان، ٹوپی، اُتلہ،ڈی سی صوابی، سب ڈویژنل فارسٹ آفیسر صوابی اور سب ڈویژنل وائلڈ لائف آفیسر صوابی کو فریق بنایا گیا ہے۔ اس سلسلے میں محمد سلیم خان ایڈوکیٹ نے رابطہ کرنے پر ہمارے نمائندے کو بتایا کہ میں نے گذشتہ ہفتہ پولیس حکام کو تحقیقات کے لئے نامعلوم ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست دی تھی لیکن اس پر تاحال عمل درآمد نہیں ہوا۔اور بلا آخر انصاف کیلئے عدالت کا سہارا لیا۔ محمد سلیم خان ایڈوکیٹ نے بتایا کہ عید الفطر کے اگلے دن یعنی پانچ جون کو تاریخی پہاڑ کڑا مار میں پُر اسرار طور پر آگ لگائی گئی جس کے بعد منگل چائی گدون، جی آئی کے انسٹی ٹیوٹ کے عقب میں پہاڑ، مینئی پہاڑ اور دیگر ایک درجن سے زیادہ پہاڑوں اور جنگلات میں آگ لگانے کے واقعات پیش ہوئے لیکن ڈی سی صوابی نے اس واقعہ سے متعلق کسی قسم کی قانونی کارروائی نہیں کی حتیٰ کہ نامعلوم ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کرنا گوارا نہیں کیا۔اسی طرح متاثرہ علاقوں کا دورہ تک نہیں کیا گیا اور نہ ہی یہ اندازہ لگایا کہ جنگلات کی تباہی سے کتنا نقصان ہوا ہے جو ان کی قانونی ذمہ داری بنتی تھی۔ اور یوں اس نے اپنی قانونی ذمہ داری پوری نہیں کی انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ، سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور صوبائی وزیر بلدیات شہرام خان ترکئی کے ذاتی ملازمین کا کر دار ادا کر رہے ہیں پہاڑوں، جنگلات کو جان بوجھ کر آگ لگا کر کروڑوں روپے مالیت کی قیمتی درختیں اور نایاب پرندے چرندے جل گئے جس سے محکمہ وائلڈ لائف اور جنگلات کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ ضلع صوابی میں پی ٹی آئی حکومت کی بلین ٹریز سونامی کے تحت کوئی درخت نہیں لگایا گیا ہے اس لئے کروڑوں روپے کی کرپشن کو چھپانے کے لئے پہاڑوں اور جنگلات کو آگ لگائی گئی جس کے متعلق قومی احتساب بیورو اور صوبائی اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹی تحقیقات بھی کرر ہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس عوامی جنگ میں صوابی اور چھوٹا لاہور کے وکلاء برادری، سیاسی و سماجی تنظیمیں اور ہر مکاتب فکر کے لوگ بھر پور انداز میں ان کا ساتھ دے رہے ہیں۔ انہوں نے بار روم صوابی میں وکلاء سے خطاب کے دوران ضلعی انتظامیہ کی مبینہ غفلت اور مس ہنڈلنگ کے بارے میں تفصیلی طور پر آگاہ کیا اور ان کو ان حکام کے خلاف نوٹس لینے اور قانونی کارروائی کے مقاصد سے بھی آگاہ کیا بعد ازاں وکلاء کے ہمراہ محمد سلیم خان ایڈوکیٹ نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج صوابی کی عدالت میں تحریری درخواست دیدی جس کو عدالت نے ایڈیشنل سیشن صوابی اعجاز الحق اعوان کی عدالت کو مارک کیا جس کے لئے عدالت نے 11جولائی کی تاریخ مقرر کر دی ہے اور ضلعی انتظامیہ سے کیس سے متعلق کمینٹس طلب کئے گئے ہیں۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...