پشاور، 31ہزار 548والدین کا بچوں کو قطرے پلانے سے انکار

پشاور، 31ہزار 548والدین کا بچوں کو قطرے پلانے سے انکار

پشاور(آن لائن)صوبے میں پولیو کے 31 کیسز رونما ہونے کے باوجود 31ہزار 548والدین نے بچوں کو قطرے پلانے سے انکار کیا ہے چالیس ہزار 780بچوں پولیو ٹیموں کی رسائی نہ ہونے سے پولیو سے بچاﺅ کے قطرے سے محروم رہے پولیو ایمر جنسی آپریشن سنٹر کی رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا میں 9لاکھ 10ہزار 323بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا ٹارگٹ مقرر کیا گیاتھا جس میں 7ہزار 557بچے مختلف وجوہات کی بناءپر پولیو سے بچاﺅ کے قطرے پینے سے محروم رہ گئے جس میں 28ہزار 12بچوں کے والدین نے پولیو سے بچاﺅ کے قطرے اپنے بچوں کو پلانے سے انکاری ہیں ۔ ضم شدہ اضلاع جنوبی و شمالی وزیرستان میں بھی ایک لاکھ 92ہزار بچوں میں 11ہزار 771بچے پولیو سے بچاﺅ کے قطرے پینے سے محروم رہے اور 3ہزار 536بچوں کے والدین نے پولیو ویکسین سے انکار کیا ہے اس سے قبل صوبائی حکومت نے بنوں ، لکی مروت کے ڈی ایچ اوز کو بھی ان کے عہدے سے ہٹا دیا تھا صوبے میں گزشتہ روز پانچ نئے کیسز ایک ہی دن رپورٹ ہو ئے تھے پولیو کے مرض میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جبکہ پولیو سے وابستہ ملازمین اور افسران کی تنخواہیں لاکھوں کی تعداد میں ہیں وزیر اعظم کے مشیر بابر بن عطاءکے مطابق پشاور میں پولیو ویکسین کے خلاف ڈرامہ رچایا گیاتھا اپنے ایک بیا ن میں انہوں نے کہاکہ خدارا والدین چھوٹے پروپیگنڈہ پر کان نہ دھرے ۔

قطرے

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...