صوابی میں شوہر کا انتظار کرتے 18 سالہ لڑکی جان کی بازی ہار گئی، ایسی دردناک داستان کہ انسان کی روح کانپ جائے

صوابی میں شوہر کا انتظار کرتے 18 سالہ لڑکی جان کی بازی ہار گئی، ایسی دردناک ...
صوابی میں شوہر کا انتظار کرتے 18 سالہ لڑکی جان کی بازی ہار گئی، ایسی دردناک داستان کہ انسان کی روح کانپ جائے

  


پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن )صوابی میں شوہر کے ساتھ زندگی گزارنے کے سوہانے سپنے سجائے نئی نویلی دلہن اپنے جیون ساتھی کے ساتھ امریکہ جانے کے انتظار میں تھی کہ خاوند کی ملک میں غیر موجودگی کو فائدہ اٹھاتے ہوئے 28 سالہ ذوحا کو مبینہ طور پر سسرالیوں نے زہر دے کر منہ کے موت میں دھکیل دیا ۔تفصیلات کے مطابق پولیس نے مقدمہ درج کرتے ہوئے کارروائی کا آغاز کر دیاہے اور پوسٹ مارٹم کا انتظار کیا جارہاہے جبکہ ذوحاکے والدین کی جانب سے بیٹی کی ساس خاتون بی بی اور جیٹھ محسن خان کو مرکزی ملزم نامزد کیاہے ۔ذوحاکی چھ ماہ قبل شہباز خان کے ساتھ شادی ہوئی تھی جو کہ اس وقت امریکہ میں کاروبار کرتاہے ، ذوحا ممکنہ طور پر سوابی کے ایک چھوٹے سے گاﺅں میں سہانے سپنے سجائے بیٹھی تھی جو کہ اس کے سسرال کو ناگوار تھے اور انہوں نے اس کی شوہر کے ساتھ امریکہ روانگی پر بھی اعتراضات اٹھا رکھے تھے ۔ شہباز خان اپنی بیوی کو جلدہی اپنے ساتھ امریکہ لے جانے والا تھا لیکن ذوحاکی ساس ایسا نہیں چاہتی تھی اور اپنے درندہ صفت عزائم کو پروان چڑھانے کیلئے مبینہ طور پر بہو پر تشدد کا حربہ اپناتی تھی لیکن ذوحا اس ظلم و ستم کو جلد شوہر سے ملن کی امید میں آنسو کے زریعے بہا کر نکال کر دیتی تھی لیکن یہ سلسلہ مارپیٹ پر تھم نہ سکا اور جب ہرحر بہ ناکام ہوتا دکھائی دیا تو نوجوان لڑکی پر نامحرم مرد کے ساتھ نامناسب تعلقات کا گھناﺅنا الزام بھی لگا دیا گیا لیکن ذوحا نے ہمت نہ ہاری اور شوہر کا انتظارکرتی رہی ۔ذوحا کی بڑی بہن امن جو کہ شہباز کے بڑے بھائی کی بیوی ہے ، اس نے بتایا کہ ذوحا درد سے چیختی اور چلاتی تھی اور سسرال والوں سے ڈاکٹر کے پاس لے جانے کی بھیک مانگا کرتی تھی لیکن اس کی ایک بھی نہ سنی جاتی ، سسرالیوں نے اسے ایک کمرے میں بند کر دیا اور کہا کہ کچھ سنجیدہ نہیں ہے بلکہ اس کا بلڈ پریشر لو ہے ۔ذوحا کی بہن کا کہناہے کہ ساس نے میرا موبائل فون بھی اس وقت چھین لیا جب میں نے اپنے والدین کو صورتحال کے بارے میں بتانا چاہا ۔امن نے پولیس کو بیان ریکارڈ کرتے ہوئے بتایا کہ جب اس کی بہن کی حالت غیر ہو گئی تو آٹھ گھنٹوں کے بعد اسے ہسپتال لے جایا گیا ۔ ایس ایچ او کا کہناہے کہ وہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کا انتظار کر رہے ہیں جس کے بعد باقاعدہ کارروائی کی جائے گی ۔ پولیس کی نظر میں یہ ایک منصوبہ بندی کے تحت کیا جانے والا قتل ہے لیکن وہ حقائق سامنے آنے تک حتمی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتے ۔

مزید : جرم و انصاف


loading...