نوازشریف کیخلاف فیصلہ سنانے والے جج ارشد ملک بھی منظرعام پر آگئے، ویڈیو سچی ہے یا جھوٹی؟ واضح اعلان کردیا

نوازشریف کیخلاف فیصلہ سنانے والے جج ارشد ملک بھی منظرعام پر آگئے، ویڈیو سچی ...
نوازشریف کیخلاف فیصلہ سنانے والے جج ارشد ملک بھی منظرعام پر آگئے، ویڈیو سچی ہے یا جھوٹی؟ واضح اعلان کردیا

  


اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )ن لیگ کی نائب صدر مریم نواز شریف کی پریس کانفرنس اور ویڈیوسے متعلق احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کا موقف سامنے آ گیاہے اور انہوں نے اتوار کے روز احتساب عدالت آ کر پریس ریلیز جاری کر دی ہے ۔ تفصیلات کے مطابق ارشدملک نے اپنا موقف جاری کرتے ہوئے کہا کہمیں ارشد ملک اسلام آباد میں احتساب عدالت کے جج کے فرائض انجام دے رہاہوں میں نے گزشتہ روز مریم نوازشریف کی پریس اور مجھ سے منسوب کی جانے والی ویڈیوز دیکھی ہیں ، کیونکہ اس پریس کانفرنس کے ذریعے مجھ پر سنگین الزامات لگا کر میرے ادارے ، ذات اور میرے خاندان کی ساکھ متاثر کرنے کی سازش کی گئی ہے لہذا میں اس ضمن میں حقائق منظر عام پر لانا چاہتاہوں ،مریم صفدر صاحبہ کی پریس کانفرنس میں دکھائی جانے والی ویڈیو نہ صرف حقائق کے برعکس ہے بلکہ ان میں مختلف مواقع اور موضوعات پر کی جانے والی گفتگو کو توڑ مروڑ کر سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرنے کی مذموم کوشش کی گئی ہے ۔مریم صفدر کی پریس کانفرنس کے بعد یہ ضرروی ہے کہ سچ منظر عام پر لایا جائے، وہ یہ کہ نوازشریف اور ان کے خاندان کے خلاف مقدمات کی سماعت کے دوران مجھے ان کے نمائندوں کی طرف سے بار ہا نہ صرف رشوت کی پیشکش کی گئی بلکہ تعاون نہ کرنے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں ، جن کو میں نے سختی سے رد کرتے ہوئے حق پر قائم رہنے کا عزم کیا اور اپنے جان و مال کو اللہ کے سپرد کر دیا ۔ میں نے اگر دباﺅ یا رشوت کے لالچ میں فیصلہ سنانا ہوتا تو ایک مقدمے میں سزا اور دوسرے میں بری نہ کرتا ، میں نے انصاف کرتے ہوئے شواہد کی بنیاد پر نوازشریف کو العزیزیہ ریفرنس میں سزا اور فلیگ شپ میں بری کیا ۔ میں یہ بھی واضع کرنا چاہتاہوں کہ مجھ پر بلاواسطہ یا بلاواسطہ نہ کوئی دباﺅ تھا اور نہ ہی کوئی لالج پیش نظر تھا ، میں نے یہ فیصلے خدا کو حاضر و ناظر جان کر قانون و شواہد کی بنیاد پر کیے ، یہ پریس ریلیز محض میرے فیصلوں کو متنازع بنانے اور سیاسی فوائد حاصل کرنے کیلئے کی گئی ہے ، اس میں دکھائی گئی ویڈیوز جعلی ، جھوٹی اور مفروضی ہیں ،لہذا میں ملوث افراد کے خلاف قانونی چارہ کی جانی چاہیے ۔

مزید : Breaking News /اہم خبریں /قومی


loading...