ایران نےیورنیم افزودگی کی طے شدہ حدود توڑنے کا اعلان کردیا

ایران نےیورنیم افزودگی کی طے شدہ حدود توڑنے کا اعلان کردیا
ایران نےیورنیم افزودگی کی طے شدہ حدود توڑنے کا اعلان کردیا

  


تہران (ڈیلی پاکستان آن لائن)ایران نے تین سال قبل  نیوکلیائی معاہدے کے تحت یورنیم افزودگی کی طے شدہ حدود کو توڑنے کا اعلان کر دیا ہے،یاد رہے کہ امریکہ 2018 میں یکطرفہ طور پر اس معاہدہ سے الگ ہوگیا تھا جس کے بعد ایران پر سخت پابندیاں عائد کر دی گئی تھیں۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایران کے نائب وزیرخارجہ عباس عراقچی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہاگلے چند گھنٹوں میں ایران یورینیم کو 3.67 فیصد ارتکاز کے لیول پر افزودہ کرنا شروع کر دے گا، ایسا کرنے کا مقصد بوشیشر پاور پلانٹ کے لیے ایندھن کی فراہمی ہو گا تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہایران اب بھی چاہتا ہے کہ نیوکلیائی معاہدہ برقرار رہے لیکن یورپی ممالک اپنی ذمہ داری سے پیچھے ہٹ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر اس  معاہدے کے باقی فریق  چین، فرانس، جرمنی، روس اور برطانیہ نے اپنے وعدے کے مطابق ایران کو امریکی پابندیوں سے بچانے کے لیے کچھ نہ کیا تو ایران ہر دو ماہ بعد اس معاہدے پر دی گئی اپنی کمٹمنٹ سے پیچھے ہٹتا جائے گا۔واضح رہے کہ ایران نے معاہدے کے باقی فریقین برطانیہ، فرانس، جرمنی، چین اور روس کو اپنے وعدوں پر پورا اترتے ہوئے ایران کو پابندیوں کے اثرات سے بچانے کے لیے آج ( اتوار) تک کا وقت دیا تھا۔

مزید : بین الاقوامی


loading...