23سال پہلے جہاز کے سامان کے خانے میں چھپ کر بھارت سے برطانیہ پہنچے والے شخص کی زندگی کی انتہائی حیران کن کہانی

23سال پہلے جہاز کے سامان کے خانے میں چھپ کر بھارت سے برطانیہ پہنچے والے شخص کی ...
23سال پہلے جہاز کے سامان کے خانے میں چھپ کر بھارت سے برطانیہ پہنچے والے شخص کی زندگی کی انتہائی حیران کن کہانی

  


لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) غیرقانونی طریقے سے مغربی و یورپی جانے والوں کی آج بھی کمی نہیں لیکن بہت کم لوگ ہی وہاں پہنچ پاتے ہیں۔ ماضی میں بھی یہ خطرناک طریقہ لوگ اپناتے رہے ہیں۔ اس کی ایک مثال بھارت کے اس شہری کی ہے جو 23سال قبل ایک جہاز کے سامان والے حصے میں چھپ کر برطانیہ گیا اور اب وہاں کام کر رہا ہے۔ میل آن لائن کے مطابق اس شخص کا نام پردیپ سینی تھا جوبرٹش ایئرویز کے ایک جمبو جیٹ کے سامان والے حصے میں 40ہزار فٹ کی بلندی پر گھنٹوں کی پرواز کے ذریعے برطانیہ پہنچا تھا۔ جہاز کے اس حصے میں درجہ حرارت 60ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ تھا اور وہاں اتنے طویل وقت تک کسی کا زندہ رہنا محال تھا۔

رپورٹ کے مطابق پردیپ سینی خوش قسمتی سے زندہ و سلامت برطانیہ پہنچ گیا۔تاہم جب وہ جہاز سے اترا تب تک اس کی حالت بہت غیر ہو چکی تھی۔ وہ جہاز سے اتر کر لڑکھڑاتا ہوا ایئرپورٹ کی طرف گیا۔ اس کی حالت دیکھ کر اسے فوری طور پر ہسپتال لیجایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے بتایا کہ اسے ’ہائپوتھرمیا‘ ہو چکا ہے۔ جب ڈاکٹروں کو بتایا گیا کہ وہ دہلی سے لندن کی پرواز میں جہاز کے سامان والے اتنے گرم حصے میں چھپ کر آیا ہے تو وہ یقین ہی نہیں کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ جہاز کے اس حصے میں اتنے وقت تک کسی کا زندہ رہنا ناممکن ہے۔ گرمی کے علاوہ 40ہزار فٹ کی بلندی پر وہاں آکسیجن ہی اتنی نہیں ہوتی کہ کوئی شخص زندہ رہ سکے۔ پردیپ علاج کے بعد صحت مند ہو گیا اور وہاں ملازمت شروع کر دی۔ ان دنوں وہ لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ پر کیٹرنگ ڈرائیور کی نوکری کر رہا ہے۔ واضح رہے کہ جب پردیپ اس خطرناک طریقے سے برطانیہ پہنچا اس کی عمر21برس تھی۔ اب وہ 44سال کا ہو چکا ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...