نواز شریف کیس میں انصاف کی پامالی کے الزامات کا خاتمہ ہونا چاہیے :بیرسٹر امجد ملک

نواز شریف کیس میں انصاف کی پامالی کے الزامات کا خاتمہ ہونا چاہیے :بیرسٹر امجد ...
نواز شریف کیس میں انصاف کی پامالی کے الزامات کا خاتمہ ہونا چاہیے :بیرسٹر امجد ملک

  


مانچسٹر (مرزا نعیم الرحمان)چئیرمین ایسوسی ایشن آف پاکستانی لائرز برطانیہ بیرسٹر امجد ملک نے کہا ہے نواز شریف کے مقدمے میں ٹرائل جج کی ٹیپ کا سامنے آنا اور جج کا اس ٹیپ میں پریشر کا اقرار کرنا ایک سنگین مسلہ ہے جس سے آزاد عدلیہ کے کام اور نیب کے ذریعے جاری احتساب پر انگلیاں اٹھنے کا خدشہ ہے،جج کا اس ٹیپ میں شامل افراد سے شناسائی کا اقرار اور اس میں موجود کچھ مواد سے بادی النظر میں انکار اسں مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے،جو صاف، شفاف اور غیر جانبدار مکمل انکوائری کا متقاضی ہے۔

روزنامہ ’’پاکستان‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر امجد ملک نے مطالبہ کیا کہ اعلی عدالت کو اس واقعی کی سنگینی کا اندازہ لگانا چاہیے اور انصاف کے نام پر کسی بھی قسم کی استحصالی کوششوں کو روکنا چاہیے،اعلی عدالت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ مکمل انصاف کریں، 1973کےآئین کا آرٹیکل 184 اور 187 اعلی عدلیہ کو مکمل انصاف کا اختیار دیتا ہے،یہ اختیار وہ خود بھی استعمال کرسکتے ہیں اور اپیل کنندہ ان سے پٹیشن کے زریعے داد رسی کے لئے بھی رجوع بھی کرسکتا ہےلیکن جج کے پریس بیان کے بعد ادارہ جاتی تحقیقات بھی وقت کی اہم ضرورت ہیں کیونکہ ٹیپ میں جج صاحب سے منسوب بیان کی نوعیت بہت سنگین ہے۔بیرسٹرامجد ملک نے کہا  سپریم کورٹ پہلے ہی آصف زرداری بنام ریاست  کیس میں قرار دے چکی ہے کہ حقائق اور قانون پر فیصلہ دینے والا جج اگر متعصب ہوگا تو ٹرائل کا فیصلہ کالعدم ہوسکتا ہے،ہمارا بھی یہی مطالبہ ہے کہ عدالت نواز شریف کے کیس میں تعصب اور پریشر کے تحت انصاف کی پامالی جیسے الزامات کی مناسب تحقیق کا حکم صادر کرے اور انصاف کی پامالی روکتے ہوئے انصاف کا راستہ بحال کرے اور سچ پر مبنی فیصلہ صادر کرنے کا اہتمام کرے۔انہوں نے کہا کہ  جب تک ایسا نہیں ہوتا نواز شریف  کی طبی بنیادوں پر ضمانت منظور کرتے ہوئےجج اور ثبوت لانےوالے گواہان کی سیکیورٹی کا موثر انتظام کیا جائے۔

مزید : تارکین پاکستان