دُرِ شہوار فیشن ڈیزائننگ میں ایک اُبھرتا نام!

دُرِ شہوار فیشن ڈیزائننگ میں ایک اُبھرتا نام!

  

دُرِ شہوار کو مَیں اس کے بچپن سے جانتی ہوں، 1995-96ء کی بات ہے، اُن دِنوں وہ بہت چھوٹی تھی، وہ اکثر ”پاکستان اخبار“ کے دفترمیں آیا کرتی تھی، اُن دِنوں جب مَیں اس سے پوچھتی کہ بڑی ہو کر کیا بنوگی، تو وہ جواب دیتی کہ ”فیشن ڈیزائنر“ بنوں گی اور اپنے ملک کا نام روشن کروں گی۔ وہ آج کل نیو یارک میں مقیم ہیں اور امریکہ کی مشہور فیشن ڈیزائنر بن چکی ہیں۔ اس بچی کو شروع ہی سے فیشن ڈیزائننگ کا شوق تھا۔ گڑیوں سے کھیلتی تھی، لیکن گڑیوں پر توجہ دینے کے بجائے وہ اُن کے لباس کی بناوٹ اور تراش خراش پر توجہ زیادہ دیتی تھی،روزنامہ ”پاکستان“ کی جانب سے جب بھی مختلف اہم تہواروں، مثلاً عیدین اور یوم آزادی کے موقعہ پر خصوصی ایڈیشن کے لئے ماڈلنگ کا اہتمام کیا جاتا تو دُرِ شہوار ہی کو ترجیح دی جاتی،اِس لئے کہ بچی خوش شکل اور فوٹو جینک تھی، جب بھی اس سے پوچھا جاتا کہ بڑی ہو کر وہ کیا بننا پسند کرے گی، تو فوراً کہتی، مَیں نے فیشن ڈیزائنر بننا ہے۔

دُرِ شہوار بٹ کشمیری النسل ہے اور لاہور سے تعلق رکھتی ہے۔ اس کے والد صفدر بٹ شہر کے نامور تاجر ہیں۔ دُرِ شہوار عالمی سطح پر تسلیم شدہ فیشن ڈیزائنر اور مصور ہے۔لاہور گرائمر سکول سے اے لیول کا امتحان پاس کرنے کے بعد پاکستان انسٹیٹیوٹ آف فیشن اینڈ ڈیزائن میں داخلہ لے لیا،مگر شدید خواہش تھی کہ فیشن انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (FIT) نیو یارک سے تعلیم حاصل کی جائے۔ والدین ہمت بڑھانے والے تھے۔والدہ نے ہر مرحلے میں ساتھ دیا،چنانچہ ایک کے بعد دوسری سعی میں FIT میں داخلہ لینے میں کامیاب ہو گئی۔ یوں اسے اپنے خواب کی تعبیر مل گئی۔ حال ہی میں FIT سے فیشن ڈیزائن میں گریجوایشن کی ہے۔خوش ہے کہ دو سال بعدBFA کی ڈگری بھی مل جائے گی۔

دُرِ شہوار فیشن ڈیزائننگ میں اپنی خواہشوں، مشاہدات اور تجربوں کے ساتھ انقلابی تبدیلیاں لانے کی خواہش مند ہے۔ امید ہے کہ یہ ہونہار لڑکی دُنیائے فیشن میں اپنے وطن کا اور اپنا نام روشن کرے گی۔بلاشبہ دُرِ شہوار کی شخصیت لگن، استقامت اور ہمت کی ایک قابل ِ تقلید مثال ہے۔

دُرِ شہوار سے ایک حالیہ ملاقات میں بہت سی باتیں ہوئیں۔ گذری یادوں کے باغیچہ میں اُترے اور کتنے ہی دلچسپ واقعات کی خوشبوؤں سے لطف اندوز ہوئے۔

بہت سے سوال کا جواب دیتے ہوئے دُرِ شہوار نے بتایا۔

ناصرہ آپی! آپ جانتی ہی ہیں کہ مجھے فیشن ڈیزائننگ کا کس قدر شوق تھا۔ گھر کی دیواروں پر نقش و نگار بنانے سے لے کر آرٹ کے مقابلوں میں سندیں حاصل کرنے تک مَیں نے ایک طویل سفر طے کیا ہے۔بچپن میں مجھے گڑیوں کا شوق تھا، لیکن مَیں اُن کے کپڑوں پر زیاہ توجہ دیتی تھی۔ امی اور خالائیں جب بھی بازار یا کپڑوں کی مارکیٹ کو جاتیں، مَیں اُن کے ساتھ ہو لیتی تھی۔ کپڑں کے رنگ اور پیرہنوں کی جاذبیت مجھے اپنی جانب کھینچتی تھی۔مَیں بہت غور سے اس بحث کو سنتی جو میری والدہ اور درزیوں کے بیچ ہوا کرتی تھی۔ امی اپنے لباس کے بارے میں ایسی مفصل ہدایات دیتیں کہ درزیوں کے پسینے چھوٹ جاتے تھے۔اس نوعیت کے مشاہدوں نے میرے اندر کی تخلیقی صلاحیتوں کو جلا بخشی اور مجھے نت نئے تجربات کی راہ سجھائی۔

اے لیول کے پہلے سال میں سکول کے ایک وفد کے ساتھ مجھے امریکہ جانے کا اتفاق ہوا۔ مقصد ناسا (NASA) کے جانسن خلائی سٹیشن کا مطالعاتی دورہ تھا۔ہم نے امریکہ کے چار بڑے شہر گھومے، جن میں نیو یارک بھی شامل تھا۔ بس وہیں پر فیشن انسٹیٹیوٹ اینڈ ٹیکنالوجی(FIT) نے میرا دِل اپنی مٹھی میں کر لیا۔ اے لیول کے بعد مَیں نے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف فیشن اینڈ ڈیزائن میں داخلہ لے لیا، جہاں مجھے بہترین اساتذہ اور پُرخلوص دوست ملے۔مَیں نے تین سمسٹرز پڑھے تھے کہ مجھےFIT نیو یارک میں داخلہ مل گیا۔مجھے بے انتہا خوشی ہے کہ مَیں نے دُنیا کی بہترین فیشن ڈیزائننگ کی درسگاہوں میں سے ایک سے گریجوایشن کی ہے۔ دو سال کے بعد مجھے BFA کی ڈگری مل جائے گی۔

ناصرہ آپی! دورانِ تعلیم مَیں نے بہت محنت کی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ محنت کے بغیر آپ اپنے ہدف تک نہیں پہنچ سکتے۔محنت ہی کے سبب مَیں FIT میں ایک ہر دلعزیز اور قابل ِ تعریف طالب علم کے طور پر مشہور ہوئی۔ افسوس اِس بات کا ہے کہ ہمارے مُلک میں انعام، ناموری اور جیت ہی کی قدر کی جاتی ہے، جبکہ محنت، ہنر اور مہارت کو کم تر سمجھا جاتا ہے۔

مَیں نے محنت، ہنر اور مہارت پر توجہ دی اور آج تین سال کے عرصہ کے بعد مَیں خود میں بے شمار مثبت تبدیلیاں محسوس کر رہی ہوں۔ وقت کے ساتھ ساتھ مَیں نے باتوں پر نہیں، بلکہ اعتماد اور محنت پر اپنی شخصیت کی بنیاد رکھی ہے۔اپنی تعلیم کے دوران دُنیا بھر میں بہت سے لوگوں سے مَیں ملی ہوں،تاہم ان افراد کی مَیں ہمیشہ تعریف کرتی ہوں،جنہوں نے مجھے ہمت و حوصلہ دیا،میرے کام کو سراہا اور مجھے میرے ہنر میں آگے بڑھنے میں میری مدد کی۔

مَیں خوش ہوں کہ مجھے نیو یارک کے بہترین فیشن ڈیزائنرز کے ہاں اِنٹرن شپ کرنے کا موقعہ ملا ہے۔مَیں نے فیشن کے معروف رسالوں ”ووگ“ اور ”کونڈا نِسٹے“ کے لئے بھی کام کیا ہے۔ آٹھ نو ماہ مَیں نے نامور فیشن ڈیزائنر ٹاڈ تھامس کے ساتھ کام کیا جو مشعل اوباما، کار داشیان، جینفر لوپز اور ماریا کیری کے لباس تیار کرتا ہے۔ میرے لئے فخر کی بات تھی کہ میرا کامFIT میں نمایاں طور پر عیاں اور سراہا گیا۔

میرا مطمع نظر ہے کہ مَیں ایسے پہناؤے ڈیزائن کروں جو بامقصد ہوں،جن کا مقابل کوئی نہ ہو اور جو سماجی اور مذہبی تقاضوں پر پورا اُترتے ہوں۔

ناصرہ آپی! مجھے فخر ہے کہ مَیں نے ٹاڈ تھامس کو اپنی رائے سے متاثر کیا کہ وہ مسلمان خواتین کے حجاب اور قدرے ڈھیلے ڈھالے لمبے پہناوے ڈیزائن کرے۔ نئے کپڑوں کی خریداری اور لگژری اشیاء اکٹھی کرنا میرا مشغلہ ہے۔مجھے سیاہ رنگ اور نیلے رنگ کے سبھی شیڈ پسند ہیں۔انہی رنگوں میں لباس ڈیزائن کرنے کو مَیں عموماً ترجیح دیتی ہوں۔ میرے پسندیدہ ڈیزائنر میں گیونچی،ٹام فورڈ، سینٹ لارین اور اِلف لارین قابل ِ ذکر ہیں۔ اپنا برانڈ میں جلد ہی متعارف کراؤں گی جو مشرق اور مغرب کا بہترین امتزاج ہو گا اور فیشن کی جمالیات کے اصولوں کے عین مطابق ہو گا۔

مَیں ربِ کریم سے دُعا مانگتی ہوں، کہ وہ مجھے فراست عطا فرمائے کہ مَیں ایسے لباس ڈیزائن کر سکوں جو دُنیا بھر میں مقبول ہوں۔ مَیں کسی ایک فرد یا گروہ کی پسند کے لئے کام کرنا نہیں چاہتی، بلکہ عالمگیر سطح پر اپنے فن کی پذیرائی چاہتی ہوں۔ میری خواہش ہے کہ میرے وطن کی خواتین تعلیم حاصل کریں اور اپنے مُلک کی ترقی اور بہتری کے لئے صف ِ اول میں جگہ پائیں۔

ناصرہ آپی! مَیں بہت خوش ہوں کہ جو کچھ مَیں چاہتی تھی مَیں نے پا لیا۔ فیشن ڈیزائننگ کی دُنیا میں جس میں مَیں نے قدم رکھا ہے ایسی تبدیلیاں لانے کا عزم رکھتی ہوں جو مستقل بنیادوں پر ہوں اور عام لوگ بھی جن سے استفادہ کر سکیں۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -