پاکستانی میڈیا اور مغربی تہذیب!

پاکستانی میڈیا اور مغربی تہذیب!

  

پاکستانی میڈیا ہر لحاظ سے ایک بھرپور انڈسٹری ہے جو عوام کو ہر شعبہ چاہے وہ سیاست ہو، تفریح ہو یا پھر بین الاقوامی معیشت یا تفریح کی خبریں،باخبررکھتا ہے۔کہا جاتا ہے کہ کسی بھی ملک کا میڈیا اپنے ملک کی ثقافت کی عکاسی کرتا ہے مگر ہمارے ہاں گنگا ا لٹی بہتی ہے۔ پہلے پہل پاکستانی میڈیا،بھارتی تہذیب کی عکاسی کرتا رہا۔ ان کی فلمیں، ڈرامے اور مختلف قسم کے دیگر تفریحی پروگرام ہماری اپنی ثقافت پر چھائے اسے ماند کرتے رہے۔مگر چیف جسٹس(ریٹا یرڈ) ثاقب نثار نے بھارتی میڈیا پر پابندی لگا دی جس کی وجہ سے پاکستانی میڈیا کو اپنی ثقافت اور فلم انڈسٹری کو فروغ دینے کا موقع ملا۔مگر بات یہیں ختم نہیں ہوتی، پاکستانی میڈیا پربھارتی میڈیا سے بھی زیادہ غلبہ مغربی میڈیا اور اس کی تہذیب کا ہے۔ زندگی کے ہر پہلو میں مغربی تہذیب ہم سے آگے ہے،نا صرف ہمارا میڈیا بلکہ ہم خود ان جیسے بننا چاہتے ہیں۔

پاکستانی میڈیا مغربی تہذیب کو اس قدر ہماری ٹی۔وی اسکرینز پر دکھا رہا ہے جس کی وجہ سے ہماری موجودہ اور آنے والی نسلیں اسی کو ہی اعلیٰ و ارفع سمجھتی ہیں اور یہ بات ہماری تہذیب اور ثقافت کی بقا کے لیے لمحہئ فکریہ ہے۔ مغربی ثقافت کے پہلو ہمارے معاشرے میں جا بجا نظر آتے ہیں،خواہ وہ ہمارا لباس ہو، عمارات ہوں، غذا یا پھر بالخصوص ہماری زبان، ہم اپنی زبان کی بجائے مغربی زبان کو ترجیح دیتے ہیں اور بولنا فخر سمجھتے ہیں۔ان سب میں قصور ہمارے میڈیا کا ہے جو اس قدر مغربی میڈیا،ان کی تہذیب و ثقافت اور پہناوے کو فروغ دیتا ہے۔ اگر ہم اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو ہمیں مغربی ثقافت کا عکس نظر آتا ہے اور پاکستانی تہذیب و ثقافت کہیں دکھائی نہیں دیتی ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارے ملک و قوم کی ثقافت کوہمارا میڈیا اپنا نصب العین سمجھ کرزیادہ سے زیادہ فروغ دے۔اگر کسی ملک کا میڈیا چاہے تو اپنے ملک کے وقار کو اس ملک کی عوام یابین الاقوامی سطح پر ابھار سکتا ہے اور چاہے تو اسے گرا بھی سکتا ہے اور بالخصوص آج کل کے دور میں جب سوشل میڈیا عروج پر ہے اور نہ صرف میڈیا بلکہ لوگ بھی سوشل میڈیا کا حصہ بنتے جا رہے ہیں اس لیے پاکستانی میڈیا اور عوام کو مل کر پاکستان کی تہذیب و ثقافت کو قابلِ ذکر بنائیں اور بین الاقوامی سطح پربھی فروغ دینا چاہیے تاکہ پاکستان کی اصل تصویر ابھر کر دنیا کے سامنے آئے۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -