ٹیچنگ ہسپتالوں سے ڈاکٹر مستعفی؟

ٹیچنگ ہسپتالوں سے ڈاکٹر مستعفی؟

  

۔

ہمارے سٹاف رپورٹر کی اطلاع کے مطابق پنجاب کے مختلف ٹیچنگ ہسپتالوں کے 48ڈاکٹروں نے ملازمتوں سے استعفے دے دیئے ہیں، اس کی تصدیق خود صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے یہ کہہ کر کی ہے کہ یہ سلسلہ جنوری سے جاری اور یہ ڈاکٹر بہتر ملازمتوں کے باعث مستعفی ہو رہے ہیں، تاہم مستعفی ہونے والے ڈاکٹر حضرات کا موقف ہے کہ وہ کورونا کے خوف کی وجہ سے نہیں، حفاظتی سامان کی عدم دستیابی اور سہولتیں نہ ہونے کی و جہ سے ملازمت چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ صوبائی وزیر صحت اور ڈاکٹروں کے اپنے اپنے موقف ہیں تاہم اصل مسئلہ تو ہسپتالوں میں مریضوں کے لئے علاج معالجے کی سہولتوں کا ہے کہ ان ہسپتالوں میں عملے کی کمی کا بار بار ذکر ہوتا ہے اور اب کورونا وبا کے پھیلاؤ کے بعد طبی عملے کی خدمات اور ضرورت کا بھی بار بار ذکر ہوتا ہے۔ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کی طرف سے مظاہرے بھی کئے گئے ہیں۔اب اگر سہولتوں کی عدم دستیابی یا کسی بھی اور وجہ سے ڈاکٹر ہی ملازمتیں چھوڑ کر جاتے رہے تو مزید کمی ہوگی۔ خود حکومت نے کورونا ہی کے باعث ایڈہاک بنیادوں پر بھی ڈاکٹروں سمیت طبی عملہ بھرتی کیا، اس عملے کو معاوضوں کی عدم ادائیگی کے حوالے سے شکایات ہیں، مزید اطلاع یہ بھی ہے کہ متعلقہ حکام نے ان 48 ڈاکٹروں کے استعفے بھی منظور کر لئے ہیں اور صوبائی وزیر صحت کا ردعمل بھی لاپروائی کا ہے۔ موجودہ حالات میں جب صحت کے حوالے سے طبی عملے اور سہولتوں میں کمی کی شکایات پائی جاتی ہیں تو ایسے معاملات کا پیش آنا نیک شگون نہیں، صوبائی حکومت کو لاپروائی کی بجائے، تشویش سے معاملہ دیکھنا چاہیے کہ عوام کی زندگیوں کا سوال ہے۔ یوں بھی اطلاع کے مطابق شعبہ صحت میں بہت اصلاحات کی ضرورت ہے۔ صوبائی حکومت نے شعبہ صحت کے بجٹ میں اضافے کا بھی ذکر کیا جبکہ ماہرین یہ تسلیم نہیں کرتے ان کے مطابق گزشتہ مالی سال کی نسبت رواں سال کے بجٹ میں کم رقم مختص کی گئی ہے۔ یوں بھی آبادی کے تناسب اور مریضوں کی تعداد کے حوالے سے نئے ہسپتالوں کی ضرورت ہے، ایسی صورت میں تو مزید طبی عملے کی ضرورت ہو گی، چہ جائیکہ پہلے سے موجود لوگ ملازمت چھوڑ کر جاتے رہیں۔

مزید :

رائے -اداریہ -