بجٹ اور خسارہ

بجٹ اور خسارہ

  

بجٹ کسی بھی ملک کی آمدنی اور اخراجات کا تخمینہ ہوتے ہیں جیسے کسی تنخواہ دار یا کاروباری شخص کو پتہ ہوتا ہے کہ اس کا ماہانہ یا سالانہ خرچہ اتنا ہے اور اس کے اخراجات کتنے ہیں پھر وہ انہی اخراجات اور آمدنی کے درمیان اپنے منصوبے ترتیب دیتا ہے۔اگر کوئی انہونی ہو جائے یا کوئی ایسی مجبوری آن پڑے کے اسے ادھار لینا پڑے یا کسی سے قرضہ لینا پڑے تو پھر اس کے سارے سال کے منصوبے اتل پتھل ہو جاتے ہیں اور پھر اس ادھار کو چکانے یا پورا کرنے ہی کے لئے ساری تگ و دو کرنا پڑتی ہے۔ ایسا ہی کچھ پاکستان میں اس کے کرتا دھرتاؤں نے کر دیا ہے۔ پاکستان کا بجٹ مسلسل کئی سالوں سے خسارے میں چل رہا ہے۔سیدھی اور سادہ سی بات ہے کہ ہماری آمدنی ہمارے اخراجات کا ساتھ نہیں دے رہی جس کی وجہ سے ہمیں مسلسل خسارے کا بجٹ پیش کرنے کی عادت ہوتی جا رہی ہے۔ پھر اس کے علاوہ ایک اور نئی پخ پچھلے کئی عرصے سے بجٹ کا حصہ ہے کہ بجٹ پیش کرنے کے بعد منی بجٹ کی بھی رونمائی کی جاتی ہے جس کا مطلب ہے کہ مزید ٹیکس یا مزید آمدنی کیلئے عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ لادنا ہوتا ہے۔ اگر ہماری آمدنی ہمارے اخراجات کا بھار برداشت کرنے کے قابل ہو تو پھر حکومتوں کو منی بجٹ پیش کرنے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔ہوتا کیا ہے جوٹیکس یا ریلیف سالانہ بجٹ میں دیا جاتا ہے وہ منی بجٹ میں تبدیل کر دیا جاتا ہے یا تو مزید ٹیکس لگا دیئے جاتے ہیں اور اکثر دیکھا گیا ہے کہ سالانہ بجٹ میں دیا گیا ریلیف منی بجٹ میں ختم کر کے مزید ٹیکس بڑھا دیئے جاتے ہیں۔بنیادی طور پر منی بجٹ ہوتا ہی آمدنی بڑھانے کیلئے ہے کہ مزید ٹیکس لگا کر آمدنی بڑھائی جائے۔

کورونا وائرس کی وجہ سے پوری دنیا کی معیشت مشکلات کا شکار ہے اور کورونا پاکستان کیلئے تو کمر توڑ ثابت ہوا ہے۔1952 کے بعد پاکستان کی ترقی کرنے کی شرح پہلی بار منفی میں گئی ہے یعنی ہم ترقی معکوس کی جانب سفر کر رہے ہیں پیچھے کی جانب جا رہے ہیں۔اس سے قبل جیسے تیسے کسی نہ کسی طرح ہماری معیشت رینگ رینگ کر کچھ نہ کچھ سفر طے کر رہی رہی تھی لیکن اب ہمارا حال اس کیچوے جیسا ہو گیا ہے جو آگے جانے کی جستجو میں پیچھے کی جانب سرکتا جاتا ہے۔ کورونا سے قبل پاکستان کی شرح نمو تین فیصد کے حساب سے بڑھنے کی توقع تھی لیکن کورونا نے رہی سہی کسر بھی نکال دی ہے اور معیشت منفی میں چلی گئی ہے جس کا مطلب ہے کہ اس کو مثبت میں لانے کیلئے مزید نوکریاں، کاروبار، زراعت کی بڑھوتری کے منصوبے شروع کرنے ہوں گے لیکن بد قسمتی سے موجودہ حکومت کی دو سالہ کارکردگی کو سامنے رکھتے ہوئے کوئی امید نظر نہیں آ رہی۔ خان صاحب جب اقتدار میں آئے تھے تو انہوں نے بڑی بڑھکیں ماری تھیں کہ اگر وہ وزیراعظم بنے تو نہ وہ کسی کے سامنے کشکول لے کر قرضے مانگیں گے، نہ غریب عوام پر کوئی ٹیکس لگائیں گے اور نہ ہی پیٹرول کی قیمتوں میں غیر ضروری اضافہ کریں گے۔ دو سال ہو گئے ہیں ہمیں یہی سنتے ہوئے کہ پچھلی حکومتوں کا خسارہ پورا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن پچھلی حکومتوں میں تو پھر بھی ترقی کی شرح مثبت تھی اور اب خان صاحب کے دور میں ہم پیچھے کی جانب جا رہے ہیں۔

جب تحریک انصاف اپوزیشن میں تھی تو اکثر اسد عمر بیان دیا کرتے تھے کہ ہماری فی کس آمدنی تین دہائیاں قبل بنگلہ دیش کے مقابلے میں اسی گنا زیادہ تھی جو کم ہو کر برابر آ گئی ہے۔ وہ بنگلہ دیش جس کی وہ مثالیں دیا کرتے تھے ان دو سالوں میں مزید پاکستان سے آگے نکل چکا ہے لیکن یہ دو سالوں میں مثالوں کے علاوہ عملی کام نہ کر سکے۔ ڈالر کی بڑی مثالیں دیا کرتے تھے خان صاحب کہ جب ڈالر کی قیمت بڑھتی ہے تو سرمایہ داروں اور اشرافیہ کو فائدہ ہوتا ہے ن لیگ کے دور میں ڈالر 102 کا آج ایک 167 سے زائد کاہو چکا ہے۔ سونا گزشتہ دور حکومت میں چالیس سے پچاس ہزار کے درمیان تھا اب اس کی قیمت بھی ایک لاکھ روپے فی تولہ سے زائد ہو چکی ہے۔ ترقی کی شرح گزشتہ ادوار میں چھ فیصد کی حدوں کو چھو رہی تھی اب ما شاء اللہ منفی میں جا رہی ہے۔ چینی گزشتہ دور حکومت کے بیشتر عرصہ میں پچاس روپے کے قریب رہی اور اب چینی نوے روپے کلو کے حساب سے بک رہی ہے۔ آٹا جو گزشتہ ادوار میں 38 روپے سے لے کر چالیس روپے کے درمیان تھا اب اس کی فی کلو کی قیمت ساٹھ روپے کے قریب پہنچ چکی ہے۔ افراط زر کی شرح صرف 3.4 فیصد تھی جو بڑھ کر 16 فیصد سے زائد ہو چکی ہے۔ الغرض کس کس چیز کا ذکر کریں آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے یہ حکومت اپنے تمام تر دعوؤں کے باوجود بھی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے میں ناکام ہو چکی ہے۔ کیوں کہ پاکستان کا سابق بازو مشرقی پاکستان موجودہ بنگلہ دیش ترقی کی کلانچیں بھرتا ہوا اقوام عالم میں مقام بناتا جا رہا ہے جب کہ ہم ماضی کے حکمرانوں کے قصے سنا کر مستقبل سنوارنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔

پاکستان میں بارہ موسم، پہاڑ،دریا اورسمندر سنا سنا کر ہمیں بتایا جاتا تھا کہ یہ سب کچھ ہوتے ہوئے ہم کیسے پیچھے رہ گئے ہیں۔ سن لیں بنگلہ دیش کا بجٹ پاکستان کے بجٹ سے 26 فیصد زیادہ ہے، اس کے زر مبادلہ کے ذخائر تیس ارب ڈالر سے زائد ہیں جبکہ ہمیں اپنے تیرہ ارب ڈالرز کے ذخائر کو بھی قابو میں رکھنے کیلئے بیرونی قرضہ لینا پڑ رہا ہے اور ان تیرہ میں سے بھی چھ ارب ڈالرز ہم نے گروی لئے ہوئے ہیں یعنی ہم دوسروں کے پیسے کو اپنا بنا کر سودا بیچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم زرخیز زمینیں ہونے کے باوجود زراعت میں بھی بنگلہ دیش سے پیچھے ہیں۔ہم گندم پیدا کرنے میں دنیا کے پہلے دس ممالک میں ہیں لیکن غریب عوام کو آٹا ملنا مشکل ہے اور کسان کو اس کی اصل قیمت بھی دینے میں ناکام ہیں۔ کپاس پیدا کرنے والے بڑے ممالک میں ہم شامل ہیں لیکن ٹیکسٹائل کی صنعت بنگلہ دیش کی ترقی کر رہی ہے۔ چاول پیدا کرنے میں ہمارا شمار پہلے دس ممالک میں ہے لیکن ایکسپورٹ میں ہم کہیں نظر نہیں آتے۔ کہنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ مسئلہ وسائل کی فراہمی یا عدم فراہمی کی بجائے افراد کی نا اہلی اور اہلیت کا ہے جب تک ہم اہل افراد کے ہاتھ باگ ڈور نہیں دیں گے تب تک یہ خسارے کا بجٹ ہی ہمارا مقدر بنتا رہے گا۔

مزید :

رائے -کالم -