ہم اپنا کام کب کریں گے؟

ہم اپنا کام کب کریں گے؟
ہم اپنا کام کب کریں گے؟

  

ہمارے ملک کی شان دنیا سے نرالی ہے۔ ہمارا مشغلہ دوسروں کے معاملات میں ناک گھسیڑنا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہر کوئی ہماری مرضی سے زندگی گزارے، ہر انسان پر فرض ہے کہ وہ اپنا عقیدہ ہم سے منظوری لیکر اپنائے، بلکہ گاہے گاہے ہم سے اپنے ایمان کی بھی تجدید کرواتا رہے۔ ملک کا سیاسی نظام کیا ہونا چاہیے اس کا فیصلہ ہم کریں، بلکہ ہر دو سال بعد ایک نیا تجربہ بھی ہماری لیبارٹری سے کروایا جائے۔ یہاں تک کہ لوگ لباس بھی ہماری پسند کا پہنا کریں۔ ہر کوئی اپنی مرضی دوسروں پر ٹھونسنے کی کوشش کرتا ہے۔ اپنی اصلاح کرنے کی بجائے دنیا بھر کے ناصح ہم ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ دوسرے اپنے خلوت کے مشاغل بھی ہم سے پوچھ کر اختیار کریں۔ کسی حجام کے پاس جائیں، اسے بال کاٹنے کا سلیقہ آتا ہو یا نہ آتا ہو، شیو بنانے کا ہنر ہو یا نہ ہو لیکن حکومت کی کارگزاری کے متعلق سب جانتا ہے۔ اور حکومت کو کیا کیا کرنا چاہیے سب اسے پتا ہے۔ کسی دکان کے اندر جا کر دیکھیں بھلے دکان میں کوئی چیز ڈھنگ سے نہ لگی ہو، گاہک سے بات کرنے کا علم ہو نہ ہو لیکن ملکی مسائل کے حل کا امرتا دھارا جیب میں رکھتا ہے۔ اور اگر کوئی دوسرا ہماری کسی غلطی کی نشاندہی کر دے تو یہ بہت بڑی سازش ہوگی کفر تک کے فتوے ہوں گے۔ جینا دوبھر کر دیں گے، کیونکہ ہم تو گنگا نہائے ہوئے ہیں نا! کسی فروٹ کی دکان پر چلے جائیں، جس فروٹ کا پوچھیں کہ میٹھا ہے؟ جی جی شہد کی طرح میٹھا ہے۔ پھر پوچھیں کہ کھا کر چیک کیا ہے؟ فوری طور پر چھری لیکر ایک دانا کاٹنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر یہ نشاندہی کر دیں کہ آپ کی چھڑی بہت گندی ہے تو پاس پڑے اس سے بھی گندے پانی میں دھوئیں گے اور پانی سے بھی گندے کسی کپڑے یا اپنی دھوتی سے خشک کریں گے اور فروٹ کاٹ کر آپ کو چکھا کر آپ سے میٹھے ہونے کا اعتراف بھی کروائیں گے۔ تاکہ آئندہ آپ کوئی سوال کرنے کی جرات نہ کر سکیں۔

مذہبی راہنما ہیں جو جی میں آئے اپنے مسلک کی تائید میں قصے سنائیں گے، اگر کوئی حوالہ پوچھ لیا جائے تو آپ کو گستاخ ہونے یا آپ پر کفر کا فتوی لگا دیں گے۔ بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی، بلکہ تباہی کا مقام تب آتا ہے جب لیڈر شپ کے دعویدار سیاستدان برادری کے نام پر، پیسے اور بدمعاشی کے زور پر انتخابات میں کامیاب ہونے کے بعد اپنا کام یعنی قانون سازی، مستقبل کی منصوبہ بندی اور مختلف شعبوں کی ملکی پالیسیاں ترتیب دینے کی بجائے اپنے اپنے علاقے کی گلیوں، نالیوں اور سڑکوں کے لیے فنڈز کا مطالبہ کریں گے اور مطلوبہ فنڈز نہ ملنے کی صورت میں بلیک میلنگ پر اتر آئیں گے۔ بات یہاں بھی ختم نہیں ہوتی، ملک میں افراتفری میں مزید اضافہ تب ہوتا ہے جب اعلی عدالتوں کے چیف جسٹس صاحبان اور جج صاحبان اپنے نیچے دیے کے نیچے اندھیرے کے مصداق عدالتی نظام درست کرنے اور لوگوں کو فوری انصاف دینے کی بجائے از خود نوٹس، ریمارکس کے نام پر دوسرے اداروں کے اندر کی بات کریں گے۔ ماضی قریب میں، این آر او، میمو گیٹ، ریکورڈک، سٹیل مل، ڈیم فنڈ اور مختلف ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں پر چھاپے اس کی مثالیں ہیں۔ اس ملک کا سب سے بڑا، سب سے گھمبیر اور سب سے پرانا مسئلہ یہ ہے کہ افواج پاکستان جس کا کام ملکی سرحدوں کی حفاظت ہے۔ ان کے بڑوں یعنی جرنیلوں کا خیال ہے کہ اس ملک کی سیاست، خارجہ اور داخلہ امور ان کے بغیر کوئی چلا ہی نہیں سکتا۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ جمہوریت وہی ہے جو ان کے حکم کے تابع ہو، ہمارے جرنیلوں نے ہمیشہ ڈنکے کی چوٹ پر جمہوریت کی حمایت کی ہے اور جمہوریت کی مضبوطی میں اپنا کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اسی لیے تو ہر دو یا تین سال بعد وہ جمہوریت کے پودے کو اکھاڑ کر دیکھ لیتے ہیں کہ اس کی جڑیں کتنی مضبوط ہو گئی ہیں؟

بات ادھر تک ہی رہتی تو شاید خیر ہوتی، اب تمام سیاستدان بشمول وزراء اعظم بھی یہ بات تسلیم کر چکے ہیں کہ ہمارا اقتدار فوجی جرنیلوں کے انتخاب کا مرہون منت ہے۔ اسی لیے تو موجودہ وزیراعظم صاحب نے یہ اعلان کیا ہے کہ ابھی تک(ان کے پاس) میرے سوا کوئی چوائس نہیں ہے۔ لہذا ہم کچھ بھی نہ کر کے بھی وزیراعظم رہیں گے۔ ادھر اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف صاحب نے بھی یہ اعتراف کرنے میں ذرا عار محسوس نہیں کی کہ میں تو لندن سے اسی سرکار کے اس اشارے پر آیا ہوں کہ سرکار کو ایک عدد وزیراعظم کی ضرورت ہے اور ان کی نگاہ کرم مجھ پر پڑ گئی تھی۔ لیکن لندن سے پاکستان کے سفر کے دوران ہی پتا نہیں سرکار کا موڈ کیوں بدل گیا ہے؟ انتخابات کے موقع پر ہر جماعت بالخصوص منظور نظر جماعت کی ٹکٹوں کے امیدوار بھی راولپنڈی کی طرف دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ بڑے گھر کی منظوری کے بنا ہمارا کوئی نہیں ہے۔

حاصل گفتگو یہ ہے کہ ہم سب اس زعم میں رہتے ہیں کہ ہم ہی عقل کل ہیں۔ جبکہ دنیا کی ترقی اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ ترقی مل جل کر باہمی صلاح مشورے اور اپنی اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے انجام دینے سے ہوتی ہے۔ اب بھی وقت ہے کہ ہم کچھ سیکھ لیں۔ تمام سیاسی جماعتیں اپنی جماعتوں کو خاندانی لمیٹڈ کمپنیوں کی بجائے جمہوری طریقے سے چلائیں۔ اور ملکی مفاد کے لیے تمام جماعتوں کو سر جوڑ کر جمہوریت کو مضبوط کرنا چاہیے۔ مائنس ون کے غلغلے سے نکل کر ایک نفی کی بجائے سب جمع ہوں۔ تاکہ ملک کو گھمبیر مسائل سے نکالا جا سکے اور بہادر جرنیلوں کو بھی ثابت کیا جا سکے کہ سیاستدان ملک کو چلا سکتے ہیں آپ ملکی سرحدوں پر توجہ مبذول کریں۔ اور اعلی عدالتوں کے سربراہان عدالتی نظام کی بہتری اور مضبوطی کی تجاویز سامنے لائیں تاکہ قانون ساز اس پر قانون سازی کا فریضہ انجام دے سکیں۔ تمام ریاستی ادارے اپنے اپنے کام پر توجہ دیں۔ یہی راستہ ہے ترقی اور ملک کی مضبوطی کا۔ میرا کالم کسی شخصیت یا کسی ادارے کے خلاف نہیں بلکہ بہتری کی تجاویز ہیں۔ اگر پھر بھی کسی پر گراں گزرے تو معذرت خواہ ہوں۔

مزید :

رائے -کالم -