مہمند، عمائدین کا خاصہ دارتنخواہوں کی بندش کیخلاف غلنئی میں دھرنا

مہمند، عمائدین کا خاصہ دارتنخواہوں کی بندش کیخلاف غلنئی میں دھرنا

  

مہمند(نمائندہ پاکستان)مہمند، قومی مشران کا خاصہ دار تنخواہوں کی بندش کے خلاف غلنئی میں احتجاجی دھرنا، مہمند گرینڈ جرگہ کے سرکردہ عمائدین، ممبران صوبائی اسمبلی، سیاسی قائدین اور فلاحی تنظیموں کی شرکت۔ قیام پاکستان کے بعد قبائیلی مشران کوملک اور علاقے کی حفاظت کے لئے جانی و مالی قربانیوں کے اعتراف میں اعزازی خاصہ داردئیے گئے تھے۔ انضمام کے یک طرفہ فیصلے کے بعد علاقے کے رسم و رواج اور زمینی حقائق سے نا اشنا پولیس افسران نے قومی مشران کے اعزازات واپس لینے کا نامناسب اور ظالمانہ فیصلہ کیا ہے۔ جس پر مہمند قبائل سراپا اختجاج ہیں۔ تین روز تک تنخواہیں بحال نہ کی گئی تو ضلع مہمند میں روڈ بند کرنے کے علاوہ وزیراعلیٰ ہاؤس اور صوبائی اسمبلی کے سامنے قبائیلی مشران ممبران صوبائی اسمبلی کے ہمراہ شدید اختجاج شروع کرینگے۔ انضمام کے نام پر دھوکہ کیا گیا ہے۔ حکومت صدیوں سے قائم قبائیلی نظام کو مزید نہ چھیڑے۔ ان خیالات کا اظہار قبائیلی ضلع مہمند کے ہیڈکوارٹر غلنئی میں تمام اقوام کے سرکردہ قبائیلی مشران کی کال پر قومی مشران کو طویل خدمات اور سویلین شہداء کی قربانیوں کے اعتراف حکومت کی منظور کردہ سپیشل مراعات خاصہ دارتنخواہوں کی بندش کے خلاف اختجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے ضلع مہمند پی کے 103 سے منتخب ممبر صوبائی اسمبلی نثار مومند، پی کے 104 ایم پی اے ملک عباس رحمان، مہمند سیاسی اتحاد کے صدر اور امیر جے یو آئی مولانا محمد عارف حقانی، جماعت اسلامی فاٹا کے نائب امیر محمد سعید خان، پی پی پی کے سابق امیدوار صوبائی اسمبلی ارشد بختیار اور ضلع مہمند کے تمام اقوام کے نمائندہ مشران ملک فیاض خویزئی، ملک نادرمنان کوڈاخیل، ملک صاحب داد حلیمزئی، ملک عطاء اللہ ترکزئی،میر افضل مہمند، ملک اقرار برہان خیل،ملک حاجی صاحب خان امبار، ملک بدری زمان پڑانگ غار، ملک زیارت گل اتمرخیل، ملک سلیم سردار، ملک اعجاز خان، ملک اسرائیل صافی اور دیگر نے کہا کہ قبائیلی عوام کو سبز باغ دکھا کر انظمام کے نام پر ایک بڑا دھوکہ ہوا ہے۔ کیو نکہ بنیادی سہولیات فراہمی اور ترقی دینے کی بجائے فاٹا کے وسائل کو صوبائی حکومت ہڑپ کررہی ہے۔ دو سال گزرنے کے بعد صرف پولیس اور عدالت کو لایا گیا ہے جس سے قبائیلی عوام مزید پریشان اور مشکلات میں پھنس گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لیویز اور خاصہ دار کو خیبرپختونخواہ پولیس کے ماتحت کرکے اب پولیس حکام قبائیلی مشران کو قیام پاکستان کے بعد سے اب تک علاقے کی جغرافیائی سرحدات کی حفاظت اور اندرونی امن و امان بحال رکھنے اور حکومتی رٹ بحالی میں سویلین افراد کی جانی قربانیوں کے اعتراف میں شہداء کے خاندانوں کو ملنے والی سپیشل خاصہ داروں کی تنخواہوں کو عصب کرنے کے درپے ہوچکی ہے۔ جس سے قبائیلی علاقے میں پولیس کے خلاف نفرت اور ناپسندیدگی کا ماحول پیدا ہوگیا ہے۔ مقررین نے کہا کہ آئی جی پولیس اور دیگر حکام فوری طور پر اس ظالمانہ فیصلے کو واپس لے کر قومی مشران اور شہداء کے خاندانوں کے مراعات بحال کریں۔ بصورت دیگر9جولائی کو قبائیلی ضلع مہمند کے تمام اقوام کے قومی مشران ہزاروں ہم قبیلہ افراد کے ہمراہ غلنئی میں روڈ بند کرنے کے علاوہ ممبران صوبائی اسمبلی کی قیادت میں وزیر اعلیٰ ہاؤس اور صوبائی اسمبلی کے سامنے اختجاج شروع کرکے ظالمانہ فیصلہ واپس لینے تک دھرنا دینگے۔ اور امن و امان کی صورتحال خراب ہونے اور کسی نقصان کی ساری ذمہ داری خیبر پختونخواہ پولیس حکام پر ہوگی۔ دھرنے کے شرکاء نے ممبران صوبائی اسمبلی ملک عباس رحمان، نثار مومند اور مہمند سیاسی اتحاد کے ہمراہ ہیڈکوارٹر ہسپتال غلنئی سے مہمند پریس کلب تک احتجاجی واک کیا اور پولیس کی جانب سے قبائیلی رسم و رواج سے متصادم اقدامات کے خلاف نعرہ بازی کی۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -