سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کا ایس او پیز پر عملدرآمد کے حوالے سے تفصیلی جائزہ

سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کا ایس او پیز پر عملدرآمد کے حوالے سے تفصیلی جائزہ

  

پشاور(سٹاف رپورٹر)سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ خیبر پختونخوا سید جمال الدین نے ڈیرہ اسماعیل خان میں قائم مختلف کارخانوں اور صنعتی یونٹس کا دورہ کیا اور ایس او پیز پر عملدرآمد کے حوالے سے تفصیلی جائزہ لیا جبکہ ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے پر ایم ایس کیمیکلز کو پچاس ہزار کا جرمانہ اور مستقبل میں عملدرآمد نہ کرنے کی صورت میں کارخانہ سیل کرنے کی تنبیہ جاری کی گئی۔ تفصیلات کے مطابق چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا کی ہدایات کے تحت پر سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ سید جمال الدین نے ڈیرہ اسماعیل خان کے ایک روزہ دورہ کے موقع پر مختلف کارخانوں اور صنعتی یونٹس جن میں چشمہ گھی ملز، ایم ایس کیمیکلز، باہو فلور ملز اور چشمہ شوگر ملزI-شامل ہیں کے معائنے کئے اور کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے تدارک کیلئے حکومت کی جانب سے وضع کردہ ایس او پیز پر عملدرآمد کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر اسسٹنٹ ڈائریکٹر انڈسٹر یز عارف اللہ بھی انکے ہمراہ تھے۔سید جمال الدین نے دیگر کارخانوں اور صنعتی یونٹس میں احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد کو تسلی بخش قرار دیا جبکہ ایم ایس کیمیکلز کے معائنے کے دوران ایس او پیز کی مکمل خلاف ورزی پائے جانے پر موقع پر پچاس ہزار کا جرمانہ عائد کیا اور سختی سے متنبہ کیا کہ اگر دوبارہ غفلت کا مظاہرہ کیا گیا تو کارخانے کو سیل کر دیا جائیگا۔انہوں نے دیگر تمام کارخانوں اور صنعتی یونٹس کے مالکان کو بھی ہدایت کی کہ تمام تر ایس او پیز بالخصوص ماسک کا استعمال، سماجی دوری برقرار رکھنا، ہاتھوں کے بار بار دھونے، سینیٹائزیشن اور ڈس انفیکشن سپرے پر مکمل عملدرآمدکیا جائے تاکہ نہ صرف اپنے بلکہ یہاں کام کرنے والے ورکرز اور دیگر متعلقہ افراد کے تحفظ کو بھی ہر صورت یقینی بنایا جائے۔انہوں نے اسسٹنٹ ڈائریکٹر انڈسٹریز کو ہدایت کی کہ شیڈول کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان میں قائم تمام کارخانوں، صنعتی یونٹس، سمال انڈسٹریز، وغیرہ کے دورے کریں اور ایس او پیز کی خلاف ورزی کی صورت میں سخت اقدامات اٹھائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے لوگوں کی تکالیف کے ازالے کیلئے لاک ڈاؤن میں نرمی اور صنعتی یونٹس کو دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کیا گیااسلئے عوام اور فیکٹریز مالکان کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ تمام تر ایس او پیز پر مکمل عملدرآمد کریں کیونکہ اب تک کورونا وائرس کا علاج دریافت نہ ہونے کے باعث احتیاطی تدابیر ہی واحد علاج ہیں اور ہم نے بحیثیت قوم نہ صرف ملکر اس آفت کا مقابلہ کرنا ہے بلکہ انشاء اللہ بہت جلد اسے شکست سے بھی دوچار کرنا ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -