پی آئی اے کی نجکاری نہیں تنظیم نو کی جار ہی، ساکھ بالکل متاثر نہیں ہوئی: غلا م سرور خان

پی آئی اے کی نجکاری نہیں تنظیم نو کی جار ہی، ساکھ بالکل متاثر نہیں ہوئی: غلا م ...

  

اسلام آباد(آئی این پی) وفاقی وزیر برائے ہوا بازی غلام سرور خان نے کہا ہے کہ حکومت پی آئی اے کی نجکاری نہیں بلکہ تنظیم نو کرنا چاہتی ہے۔ اسی وجہ سے اس کے جہازوں میں بھی اضافہ کیا جا رہا ہے۔کرونا وائرس کے باعث فضائی آپریشن کی معطلی کے سبب پی آئی اے کاماہانہ خسارہ بڑھ کر چھ ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ راولپنڈی میں وائس آف امریکہ کو انٹرویو میں غلام سرور خان نے کہا کہ پائلٹوں کے جعلی لائسنز کے تنازع کے سبب پی آئی اے کی ساکھ متاثر ہونے اور بحرانی صورتِ حال پیدا ہونے کی باتیں درست نہیں، کرونا وائرس کے باعث دنیا بھر میں فضائی آپریشن پہلے سے ہی معطل ہیں،پاکستان کو یہ موقع ملا ہے کہ پی آئی اے میں پائی جانے والی خامیوں کو درست کیا جا سکے۔ پائلٹس کے جعلی لائسنسوں کے حوالے سے بیان پر بعض حلقوں کی جانب سے بلا جواز تنقید کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی سانحے سے پہلے ہونے والے طیاروں کے حادثات سے قوم کو بے خبر رکھا جاتا تھا۔ ہم قوم کو اس بات سے باخبر رکھنا چاہتے ہیں کہ ماضی میں کیا کچھ غلط تھا اور کیا کچھ ہم ٹھیک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اْنہوں نے کہا کہ پاکستان کے 860 پائلٹوں میں سے 260 کے لائسنس مشکوک ہیں۔ غلام سرور خان نے کہا کہ قومی ایئر لائن میں غیر قانونی بھرتیوں پر پہلے سے کارروائی جاری تھی، بعض پائلٹوں اور عملے کو نوکری سے برخاست بھی کیا جا چکا ہے جسے سپریم کورٹ نے بھی سراہا۔ یورپین یونین کی ایئر سیفٹی ایجنسی (ایاسا) کی جانب سے پی آئی اے کا فضائی آپریشن کا اجازت نامہ معطل کیے جانے پر غلام سرور خان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل بھی قومی ایئر لائن کا یورپی ممالک کا فضائی آپریشن معطل ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں طیارہ حادثے کے بعد قومی ایئر لائن نے تمام جہازوں کی انٹرنیشنل انجینئرز سے سرٹیفکیشن حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور پائلٹس سمیت تمام تکنیکی عملے کی اسناد، تربیت اور ذہنی صحت کو جانچنے کا عمل شروع ہو گیا ہے۔پی آئی اے نے کسی کو خسارے کی بنا پر نوکری سے فارغ نہیں کیا ہے۔ حکومت نیو یارک میں پی آئی اے کی ملکیت 'روز ویلٹ ہوٹل' کو جوائنٹ وینچر کے طور پر چلانے پر کام کر رہی ہے۔

تنظیم نو

مزید :

صفحہ آخر -