ایم ڈی پارکوں کی تقرری میں دانستہ تاخیر، ادارے کی ساکھ داؤ پر لگ گئی

  ایم ڈی پارکوں کی تقرری میں دانستہ تاخیر، ادارے کی ساکھ داؤ پر لگ گئی

  

کراچی (اکنامک رپورٹر) بروقت ایم ڈی پارکو کی تقرری سے موجودہ حکومت کو پیٹرول بحران اور شدید ترین تنقید کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ پیٹرولیم سیکٹر کے باخبر ذرائع کے مطابق ایم ڈی پارکو کی تقرری میں دانستہ تاخیر نے قومی ادارے کی ساکھ کو ناصرف شدید ترین نقصان پہنچایا ہے بلکہ بیرونی سرمایہ کاری پر بھی کاری ضرب لگائی ہے۔ واضح رہے کہ پارکو ملک کی سب سے بڑی آئل ریفائنری ہے جس میں حکومت پاکستان کا 60فیصد جبکہ ابوظہبی گروپ کی 40فیصد حصہ ہے جبکہ ر یفائنری کے ایم ڈی اور ڈی ایم ڈی کا تقرر پاکستان کی جانب سے کیا جاتا ہے اور یہ ادارہ حالیہ پیٹرول بحران کو حل کرنے میں ایک اہم کردار ادا کرسکتا تھا، لیکن گذشتہ حکومتوں کی طرح وزارت پیٹرولیم میں موجود چند عناصر اپنے ذاتی مفاد کے لیے ادارے اور حکومت کی ساکھ سے مسلسل کھیل رہے ہیں اور وہ ایم ڈی کی تقرری میں ناصرف تاخیری حربے استعمال کررہے ہیں بلکہ میرٹ کی بھی دھجیاں بکھیررہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق موجودہ ایم ڈی جن کی عمر 72 سال ہے اور وہ بارہا ملازمت میں توسیع لے چکے ہیں، ان کی جگہ نئے ایم ڈی پارکو کی تقرری کے لیے کام کا آغاز گذشتہ سال کردیا گیا تھا اور اس بات کا اصولی فیصلہ کیا گیا تھا کہ نئے ایم ڈی کی تقرری میرٹ پر ہوگی۔ ذرائع کے مطابق امیدواروں کی شارٹ لسٹنگ کے لیے سیادات حیدر مرشد کمپنی کنسلٹنٹ مقرر کیا گیا، اس کمپنی نے 14 امیدواروں کے انٹرویو کے بعد تین نام فائنل کیے ہیں، جن میں موجودہ ڈی ایم ڈی شاہد محمود خان، محمد یعقوب ستار اور اسلم پرویز جنجوعہ کے نام شامل تھے، جبکہ اس شفاف عمل میں رخنہ ڈالنے اور اپنے مفادات کو فوقیت دیتے ہوئے وزارت توانائی کے پیٹرولیم ڈویژن نے احسن خان، اکبر علی خان اور زوار حیدر کے نام مزید شامل کردیے اور سمری کا بینہ کی منظوری کیلئے ارسال کردی جس کو وزیراعظم سیکریٹریٹ بھی بھیجا گیا۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم آفس اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن مذکورہ تینوں ناموں پر اعتراض اٹھا کہ تینوں افراد کے انٹرویو بھی نہیں ہوئے، پھر پیٹرولیم ڈویژن تینوں ناموں کو شامل کرنا اپنا حق کیوں سمجھتی رہی، جبکہ 12مئی 2020 کی پیٹرولیم ڈویژن نے اس معاملے کو مزید طول دینے کے لیے موقف اختیار کیا کہ ہم کنسلٹنٹ کی میرٹ لسٹ کو حتمی تصور نہیں کرتے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ابوظہبی گروپ شاہد محمود خان جبکہ مشیر پیٹرولیم احسن خان کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ اس رسہ کشی میں 9ماہ کا طویل عرصہ گذر چکا ہے اور اسی دوران پیٹرول بحران نے بھی سر اٹھایا اور حکومت کو نجی کمپنیوں کی بلیک میلنگ میں آکر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ کرنا پڑا جبکہ اپوزیشن اور عوام کی شدید ترین تنقید کا سامنا کرنا پڑا، حالانکہ پارکو حالیہ پیٹرول بحران میں اہم کردار ادا کرسکتا تھا اور ملک میں ٹوٹل پارکو کے نام سے اسکے پیٹرول پمپس بھی موجود ہیں۔ وزیراعظم پارکو کے اہم ڈی کی تقرری میرٹ پر کردیتے تو ان کی حکومت کو ان مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑتا بعض وزیراعظم عمران خان کو چاہیے کہ وہ ایسے حساس معاملات کو اپنی زیرنگرانی حل کروائیں تاکہ حکومت کو خفت کا سامنا نہ کرنا پڑے اور اگر ان معاملات سے پہلو تہی کی جاتی رہی تو حکومت مزید تنقید کی زد میں آسکتی ہے۔

مزید :

صفحہ آخر -