مکمل ڈس انفیکشن سے قبل بس نہیں چلائی جائے گی،نشستوں میں فاصلہ ہو گا

    مکمل ڈس انفیکشن سے قبل بس نہیں چلائی جائے گی،نشستوں میں فاصلہ ہو گا

  

لاہور(ڈو یلپمنٹ سیل)رواں برس حج سیزن سے متعلق رہائشی عمارتوں کے حوالے سے بھی ہدایات شامل ہیں، خاص طور پر استقبالیے پر کام کرتے وقت اور مہمان خانے میں داخل ہونے سے پہلے عملے کا ماسک پہننا لازمی ہوگا۔اس کے ساتھ ہی مہمانوں کو اپنے کمرے سے باہر رہنے کے اوقات کے دوران ماسک پہننا لازمی ہوگا۔دیگر ہدایات میں سطحوں کی باقاعدہ اور شیڈول کے مطابق صفائی، زیادہ رابطے کے مقامات پر توجہ خاص طور پر دن کے دوران، جیسا کہ استقبالیہ اور انتظار گاہوں، دروازوں کے ہینڈلر، کھانے کی میز، سیٹ ریسٹس اور لفٹس کی صفائی یقینی بنانا شامل ہیں۔کھانے کی جگہوں سے متعلق جاری کردہ ہدایات اور قواعد و ضوابط میں پینے کا پانی اور آب زم زم کو انفرادی یا ایک مرتبہ استعمال ہونے والے برتنوں میں پینا شامل ہے۔اس کے ساتھ ہی مکہ مکرمہ کے مقدس مقامات سے تمام فریج ہٹادیے یا بند کردیے جائیں گے اور کھانے کو عازمین کو انفرادی طور پر تیار شدہ اور پیک خوراک تک محدود کیا جائے گا۔ورکرز کے لیے باقاعدگی سے اور بار بار کم از کم 40 سیکنڈز تک ہاتھ دھونا اور صابن اور پانی نہ ہونے کی صورت میں 20 سیکنڈز تک سینیٹائزر استعمال کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔حج کے دوران ہر گروہ کے لیے بس مختص ہوگی اور ہر حاجی کے لیے ایک نشست نمبر مقرر کیا جائے، کسی حاجی کو بس میں کھڑے ہونے کی اجازت نہیں ہوگی اور خاندانوں کو ایک ساتھ بیٹھنے کی اجازت ہوگی۔ہر مسافر کیبن میں ہینڈ سینیٹائزر اور سینیٹری پیپرز فراہم کیے جائیں گے، ہر کمپارٹمنٹ میں کم از کم 3 ڈس انفیکٹنٹس تقسیم اور نصب کیے جائیں گے۔ہدایات کے مطابق بس میں مسافروں کی تعداد مجموعی صلاحیت کے 50 فیصد سے زیادہ نہیں ہوگی، مجوزہ پالیسی کے ذریعے سماجی فاصلے کو برقرار رکھا جائے اور ہر مسافر کے درمیان کم از کم ایک نشست خالی چھوڑی جائے گی۔جن عازمین کے کورونا وائرس سے متاثر ہونے کا شبہ ہونے پر انہیں مکمل طبی معائنے کے بعد حج کی اجازت دی جائے گی اور انہیں مشتبہ کیسز کے مخصوص گروہوں میں شامل کیا جائے گا، ان کی حالت کو دیکھ کر متعلقہ رہائش گاہ اور الگ ٹریکس کی بسیں مختص کی جائیں گی۔علاوہ ازیں وقایہ کے قواعد و ضوابط میں ہدایت کی گئی ہے کہ وائرس کی علامات (بخار، کھانسی، زکام، گلے میں سوزش اور چکھنے اور سونگھنے کی حس اچانک ختم ہونے) کی صورت میں کسی اہلکار کو علامات ختم ہونے کے بعد ڈاکٹر کی جانب سے صحت مند قرار دینے تک کام کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ہدایات کے مطابق اے ٹی ایمز، ٹچ-اسکرین گائیڈز اور وینڈنگ مشینز کے برابر میں سینیٹائزرز لازمی رکھے جائیں گے جبکہ کورونا وائرس کی ممکنہ منتقلی میں کمی کے لیے تمام مطبوعہ میگزین اور اخبارات ہٹادیے جائیں گے۔

ڈس انفیکشن

مزید :

صفحہ اول -