صدارتی انتخابات بدستور بالواسطہ ہونگے، امریکی سپریم کورٹ کا فیصلہ

صدارتی انتخابات بدستور بالواسطہ ہونگے، امریکی سپریم کورٹ کا فیصلہ

  

واشنگٹن (اظہر زمان، بیوروچیف)امریکی سپریم کورٹ نے اپنے ایک اہم فیصلے کے ذریعے صدر کو پاپولر ووٹ کے ذریعے براہ راست چننے کے طریقے کو رد کردیا۔ ایک تازہ حکم کے مطابق امریکہ کے صدارتی انتخابات بدستور الیکٹورل کالج کے بالواسطہ طریقے کے مطابق ہوتے رہیں گے۔ سپریم کورٹ نے صدارتی انتخابات کے موجودہ الیکٹورل کالج کے نظام کو تبدیل کرنے کی درخواست کو مسترد کر دیا۔ اپنے فیصلے میں سپریم کورٹ نے وضح کردیا کہ وفا ق کی تمام ریاستوں کو آبادی کے تناسب سے الیکٹورل کالج کے جتنے ارکان مختص کئے گئے ہیں وہ تمام ریاست کی اتھارٹی کے مطابق کئے گئے عہد کے تحت ووٹ دینے کے پابند رہیں۔ یاد رہے صدر کے چناؤ کیلئے ملک بھر سے تمام ریاستوں میں تمام رجسٹرڈ ووٹرز ریاست کو الاٹ کئے گئے کوٹے کے مطابق الیکٹورل کالج کے ارکان منتخب ہوتے ہیں۔ اس طرح جب کل 538ارکان کا چناؤ ہوتا ہے تو واضح ہو جاتا ہے کہ کونسا صدارتی امیدوار منتخب ہوگا، حالانکہ الیکٹورل کالج کے یہ ارکان دسمبر میں ووٹ ڈال کر صدر کو منتخب کرتے ہیں لیکن ووٹنگ کی یہ کارروائی محض رسمی ہوتی ہے کیونکہ ریاستوں سے آنیوا لے یہ ارکان پارٹیوں کے نمائندے ہوتے ہیں۔ یہاں ایک آئینی شگاف تھا کہ کیا یہ ارکان اپنے عہد کے برعکس ووٹ ڈال سکتے ہیں یا نہیں۔ سپریم کو ر ٹ نے واضح کر دیا ہے کہ یہ ارکان ریاستی اتھارٹی کیخلاف ووٹ نہیں ڈال سکتے۔ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ تمام ججوں کا متفقہ ہے۔ خاتون جسٹس ایلینا کاغن نے فیصلہ لکھا ہے کہ الیکٹورل کالج کے ارکان کو اگر اپنے مینڈیٹ سے ہٹ کر ووٹ دینے کا اختیار دیدیا جائے تو اس سے بحران پیدا ہوسکتا ہے۔ جج نے لکھا ہے کہ آئین میں ابہام نہیں کیونکہ وہ ریاستوں کو اپنے اختیارات استعمال کرنے کا پورا اختیار دیتا ہے۔

امریکی سپریم کورٹ

مزید :

صفحہ اول -