آئی ایم سی کی طرف سے قومی فاتحین کے ناموں کا اعلان

آئی ایم سی کی طرف سے قومی فاتحین کے ناموں کا اعلان

  

کراچی(پ ر) انڈس موٹر کمپنی نے کمپنی کے ہیڈ آفس میں ٹویوٹا ڈریم کار آرٹ 2020 کے 14 ویں مقابلے کے نیشنل جیوری ایونٹ کا انعقاد کیا جس میں پاکستان بھر سے بچوں کی طرف سے بھیجے گئے علاقائی اور قومی سطح کے آرٹ ورکس کا انتخاب کیا گیا۔ ٹویوٹا ڈریم کار آرٹ مقابلہ جو 2004 سے ٹویوٹا موٹر کارپوریشن کی طرف سے ہر سال منعقد کیا جاتا ہے ایک عالمی سطح کا مقابلہ ہے اور 16سے کم عمر کے بچوں کیلئے دنیا کے بڑے ڈرائنگ مقابلوں میں سے ایک ہے۔ مقابلہ کا مقصد بچوں کو مستقبل کیلئے متحرک کرنا اور اپنے ڈریم کار کے تصور کا اجاگر کرنے کیلئے ان کی حوصلہ اور ان میں جدت پسندی اور تخلیقی استعدار کار میں اضافہ کرنا ہے۔ یہ مقابلہ ایسے بچوں کی اہمیت کا اجاگر اور ان کی حوصلہ افزائی کرتا ہے جو زندگی میں کچھ نہ کچھ کرنے کا خواب رکھتے ہیں گزشتہ سال دنیا بھر سے 86 ممالک سے 959,000 آرٹ ورک موصول ہوئے تھے جن میں سے صرف پاکستان سے 48 421 آرٹورک موصول ہوئے۔ پاکستان سب زیادہ آرٹ ورک موصول کرنے والے ممالک میں تیسرا نمبر پر ہے۔

رواں سال آئی ایم سی کو پاکستان بھر سے 46 ڈیلر شپس کے نیٹ ورک کے ذریعے تین کیٹگریوں یعنی8 سال سے کم، 8 تا11 اور 12تا15 سال اور رائل کیٹگری کے اضافہ کے ساتھ 49,900 آرٹ ورک وصول ہوئے۔قومی مقابلے کا مفنرد فیچر جو خصوصی بچوں اور اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے کہ ہم ایسے معاشرے کی تشکیل پر یقین رکھتے ہیں جس میں تمام افراد کی شمولیت ہو۔ اس کیٹگری میں گزشتہ کئی سالوں سے نہ صرف فعال شرکت ہوئی بلکہ شرکاء کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا اور عوام کی طرف سے اس کیٹگری کو بہت سراہا گیا۔ پانچ رکنی آزاد جیوری پنیل ماہرین تعلیم، پینٹرز اور بصری فنکاروں بشمول مہر آفروز، پینٹر، پرنٹ میکر اور انڈس ویلی سکول آف آرٹس اینڈ آرکیٹکچر، نوریہ شیخ نبی، اسسٹنٹ پروفیسر فیکلٹی آف فائن آرٹس، انڈس ویلی سکول آف آرٹ اینڈ آرکیٹکچر، عالیہ یوسف ماہر تعلیم اور سرامک آرٹسٹ، آفان بھاگ پتی، آرٹ ایجوکیٹر انڈ وژول آرٹسٹ اور محمد ذیشان، آرٹ ایجوکیٹراینڈ وژول آرٹسٹ پر مشتمل تھا۔. جیوری نے علاقائی اور قومی سطح پر کامیاب امیدواروں کا انتخاب کیا اور پاکستان کی نمائندگی کرنے والے 9آرٹ ورکس کو شارٹ لسٹ کیا جوجاپان میں ہونے والے عالمی مقابلے میں حصہ لیں گے۔ جیتنے والے 30ٹاپ امیدواروں کو گرینڈ پرائز کے طور پر جاپان بھیجا جائے گا جس کا سارا خرچہ ٹویوٹا موٹر کارپوریشن کیطرف سے فراہم کیا جائے گا۔ آئی ایم سی ان بچوں کو دنیا بھر کے بچوں سے زندگی میں ایک بار ملنے کا موقع اور جاپان کی ثقافت اور مہمان نوازی کے تجربے کی پیش کش کرتی ہے۔اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے، سی ای او، انڈس موٹر علی اصغر جمالی نے سی ای او ایوارڈ کیلئے ڈرا کرتے ہوئے کہا ”گزشتہ کئی برسوں میں مقابلے کا دائرہ کار کافی وسیع ہو گیا ہے اور پاکستان بھر سے ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے بچوں تک اس مقابلے کی رسائی ہوئی ہے۔ ہمارے بچوں کا تخیل حیرت زدہ کرنے میں کبھی ناکام نہیں ہوا اور اس سال ہمارے بچوں نے کمال ٹیلنٹ کا مظاہر کیا ہے اور مجھے امید ہے کہ یہ بچے اس سال بھی عالمی فاتح ہوں گے۔“ پاکستان 2010,2011, 2013 میں ایک ایک بار جبکہ 2019 میں دوبار فاتح رہ چکا ہے۔

مزید :

کامرس -