کراچی، تاجروں کا کے الیکٹرک کیخلاف دھرنے کا اعلان، 48گھنٹے کا الٹی میٹم

کراچی، تاجروں کا کے الیکٹرک کیخلاف دھرنے کا اعلان، 48گھنٹے کا الٹی میٹم

  

کراچی (این این آئی)کراچی میں بدترین بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور تجارتی مراکز میں بجلی کی غیر اعلانیہ بندش پر تاجر برادی چراغ جلاکر احتجاج کریں گے، تاجروں کا 48 گھنٹے کا الٹی میٹم، تاجروں نے کے الیکٹرک کے خلاف شہر کی سڑکوں پردھرنے دینے کا اعلان کردیا،چیف جسٹس آف پاکستان سوموٹو ایکشن لے کر کے الیکٹرک کو ظلم سے روکیں۔تفصیلات کے مطابق کراچی میں بجلی کی بندش اور کاروباری علاقوں میں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کے خلاف آل کراچی انجمن تاجران، طارق روڈ وبہادر آباد ٹریڈرز الائنس، صدر الائنس مارکیٹس ایسوسی ایشن، ایم اے جناح روڈ ٹریڈرز الائنس اور دیگر تاجروں کا اجلاس طارق روڈ ٹریڈرز الائنس کے صدر الیاس میمن کی زیرصدارت ہوا۔ اجلاس میں تاجر رہنماء سلیم انڑ، رفیق جدون، عمران باغپتی، ناصر محمود ، عبدالصمد خان اور دیگر نے شرکت کی۔ اس موقع پر الیاس میمن نے کہا کہ پہلے ہی کراچی کے تاجر مہنگی بجلی کی وجہ سے پریشان ہیں اس وقت پورے ایشیا ء میں پاکستان لوگ ہی سب سے زیادہ مہنگی بجلی استعمال کررہے ہیں جبکہ قوت خرید سب سے کم ہے اس کے باوجود حکومت کی جانب سے بجلی کے نرخوں میں مزید 2.89 روپے کا اضافہ کردیا گیا ہے جس پر دیگر ٹیکس لگنے کے بعد یہ اضافہ 5 فی یونٹ ہوجائے گا جو پاکستانی عوام کے ساتھ ظلم ہے جتنے لوگ کرونا سے ہلاک نہیں ہونگے کے الیکٹرک کے ظلم سے ہونگے اور اس سے تاجروں کے کاروباری اخراجات میں اضافہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اس وقت شہر کے تجارتی علاقوں میں 3 سے 4گھنٹے تک غیر اعلانیہ بجلی کی بندش کی جارہی ہے جس کی وجہ سے گاہکوں نے مارکیٹوں میں آنا بند کردیا ہے جبکہ لاک ڈاؤن میں کاروباری بندش کے دوران بھی بجلی کے بلوں میں کمی کے بجائے اضافہ ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاجر برادری کے الیکٹرک کو 48 گھنٹے کو وقت دے رہی ہے، کے الیکٹرک فوری طور پر شہر بھر میں جاری لوڈ شیڈنگ کے سلسلے کو ختم کرے اور انفرااسٹرکچربالخصوص بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت اور ترسیل کے نیٹ ورک کو بہتر بنانے پر توجہ دے جو انتہائی بری حالت میں ہے۔انہوں نے کہاکہ کے الیکٹرک کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے شہر کے تمام تجارتی علاقوں اور ساتوں صنعتی زونز میں ہر روز ہی کئی گھنٹوں تک غیر اعلا نیہ لوڈ شیڈنگ اور بجلی معطلی کا سلسلہ جاری ہے۔ الیاس میمن نے کہا کہ کے الیکٹرک کو حد سے زیادہ لوڈ شیڈنگ کرنے اور 2005 میں کے ای ایس سی کی نجکاری سے آج تک بلاتعطل بجلی کی فراہمی یقینی بنانے میں ناکام رہی ہے لہٰذا 2023 ء میں ہونے والے معاہدے میں کے الیکٹرک کی موجودہ اجارہ داری کو ختم کیا جا ئے۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ 48 گھنٹوں کے بعد کراچی کے تاجروں کی جانب سے احتجاج شروع کیا جائے گا اس حوالے سے تاجر تجارتی مرکز میں دیے اور چراغ جلائیں گے اور مارکیٹوں کے باہر کے الیکٹرک کے خلاف دھرنے دیے جائیں گے۔ انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل کی کہ وہ سوموٹو ایکشن لے کر کے الیکٹرک کو کراچی سے ہونے والے ظلم سے روکیں۔

مزید :

صفحہ آخر -