کریمنل ایکٹ کیلئے پی سی بی کی تجاویز 77 صفحات پر مشتمل مگر پھر بھی ادھوری، آخر اس میں کیا کچھ بتایا گیا ہے؟ حیران کن تفصیلات سامنے آ گئیں

کریمنل ایکٹ کیلئے پی سی بی کی تجاویز 77 صفحات پر مشتمل مگر پھر بھی ادھوری، آخر ...
کریمنل ایکٹ کیلئے پی سی بی کی تجاویز 77 صفحات پر مشتمل مگر پھر بھی ادھوری، آخر اس میں کیا کچھ بتایا گیا ہے؟ حیران کن تفصیلات سامنے آ گئیں

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) فکسنگ کیخلاف قانون سازی کیلئے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی تجاویز ادھوری محسوس ہونے لگیں جس کے ابتدائی 14 صفحات کے بعد سابقہ واقعات، اپنا اینٹی کرپشن کوڈ اور سری لنکن قانون کو ہی شامل کرلیا جبکہ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان تجاویز کی بنیاد پر کوئی قانون بنانا انتہائی مشکل لگتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پی سی بی نے”لیجسلیشن آن دی پریوینشن آف کرپشن ان سپورٹس“ (کھیلوں کو بدعنوانی سے بچانے کیلئے قانون سازی) کے نام سے77 صفحات پر مشتمل تجاویز تیار کی ہیں جو گزشتہ دنوں وزیر اعظم عمران خان کو بھی پیش کی گئیں تاہم ابتدائی 14 صفحات میں پس منظر اور قانون بنانے کے حوالے سے تجاویز شامل ہیں اور اس کے بعد سابقہ فکسنگ واقعات اور بورڈ کا اپنا اینٹی کرپشن کوڈ موجود ہے، تقریباً 30 صفحات سری لنکا میں فکسنگ کیخلاف بننے والے قانون کے ہیں جس پر یہ تاثر مل رہا ہے کہ پی سی بی نے عجلت میں تجاویز تیار کیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ پی سی بی نے زیادہ کام کئے بغیر عجلت میں تجاویز تیار کیں اور اب حکومت اگر قانون سازی کا فیصلہ کرتی ہے تو اسے کرکٹ بورڈ کی تجاویز سے زیادہ مدد نہیں ملے گی، اس پر بہت محنت اور وقت لگے گا یوں یہ معاملہ پھر سرد خانے کی زینت بن سکتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) لائیو سٹریمنگ کیس کے بعد اپنی ”زیروٹالرنس“ پالیسی کا ثبوت دینے کیلئے بورڈ نے قانون بنانے کی باتیں کیں مگر اس کے مقابلے میں رکن قومی اسمبلی اقبال محمد علی کی تیار کردہ تجاویز زیادہ جامع ہیں۔

دوسری جانب ذرائع نے بتایا کہ ماضی میں سابق چیئرمین اعجاز بٹ اور نجم سیٹھی کے دور میں بھی پی سی بی نے فکسنگ کے خلاف قانون سازی کیلئے حکومت سے بات چیت کی تھی مگر پھر پیش رفت نہیں ہو سکی، البتہ اس بار وزیر اعظم عمران خان ہیں جو خود سپورٹس مین رہ چکے لہٰذا وہ قانون سازی کرانے میں مدد فراہم کر سکتے ہیں۔

مزید :

کھیل -