عذیر بلوچ کو سینٹرل جیل میں قائم انسداد دہشتگردی عدالت میں کس طرح پیش کیا گیا ؟ بڑی خبر آ گئی

عذیر بلوچ کو سینٹرل جیل میں قائم انسداد دہشتگردی عدالت میں کس طرح پیش کیا گیا ...
عذیر بلوچ کو سینٹرل جیل میں قائم انسداد دہشتگردی عدالت میں کس طرح پیش کیا گیا ؟ بڑی خبر آ گئی

  

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن )کراچی کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے تاجر کے اغواءبرائے تاوان اور قتل کے کیس میں لیاری گینگ وار کے سرغنہ عذیر بلوچ پر فردِ جرم عائد کر دی ہے ۔

تفصیلات کے مطابق عذیر بلوچ کو سینٹرل جیل میں قائم انسدادِ ہشت گردی کی عدالت میں چہرہ ڈھانپ کر اور ہتھکڑی لگاکر پیش کیا گیا اور اس موقع پر عدالت میں رینجرز کی بھاری نفری تعینات تھی۔کمرہ عدالت میں پیشی کے دوران فاضل جج نے عذیر بلوچ کو فرد جرم پڑھ کر سنائی جس میں بتایا کہ آپ پر عبدالصمد کے اغواءبرائے تاوان اور قتل کا الزام ہے، آپ نے 10لاکھ روپے تاوان طلب کیا اور 70ہزار روپے لینے کے باوجود تاجر کو قتل کیا۔

بعدازاں معزز جج نے عذیر بلوچ سے استفسار کیا کہ کیا آپ اپنا جرم قبول کرتے ہیں؟ جس پر کٹہرے میں موجود عذیر بلوچ نے نفی میں سر ہلا کرصحت جرم سے انکارکیا۔عدالت نے عذیر بلوچ کے انکار پر انویسٹی گیشن آفیسر (آئی او) اور گواہان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر گواہان کو پیش کرنے کا حکم دیا۔اس مقدمہ میں عذیر بلوچ کے بھائی زبیر بلوچ و دیگر ملزمان بھی گرفتار ہیں جس پر پہلے ہی فرد جرم عائد کی جاچکی ہے۔

مزید :

قومی -