اور اب امریکہ نے بھی ٹک ٹاک بین کرنے پر غور شروع کر دیا، ساتھ ہی موبائل ایپ کے بارے میں انتہائی خطرناک دعویٰ بھی کر دیا

اور اب امریکہ نے بھی ٹک ٹاک بین کرنے پر غور شروع کر دیا، ساتھ ہی موبائل ایپ کے ...
اور اب امریکہ نے بھی ٹک ٹاک بین کرنے پر غور شروع کر دیا، ساتھ ہی موبائل ایپ کے بارے میں انتہائی خطرناک دعویٰ بھی کر دیا

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت اور آسٹریلیا کے بعد اب امریکہ نے بھی ٹک ٹاک پر پابندی عائد کرنے پر غور شروع کر دیا۔ امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو سے فوکس نیوز پر انٹرویو کے دوران سوال پوچھا گیا کہ کیا امریکی حکومت ٹک ٹاک اور دیگر ایپلی کیشنز پر پابندی عائد کرنے پر غور کر رہی ہے؟ اس کے جواب میں مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ ”جہاں تک امریکی شہریوں کے فونز میں انسٹال چینی ایپلی کیشنز کی بات ہے تو میں اس ایک ایپ(ٹک ٹاک)کے متعلق بتانا چاہوں گا کہ اس پر پابندی کا معاملہ زیرغور ہے۔“

مائیک پومپیو نے امریکی شہریوں کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ ”کوئی شہری اگر چاہتا ہے کہ اس کی ذاتی معلومات چینی کمیونسٹ پارٹی کے ہاتھوں میں جائیں تو وہ ٹک ٹاک اپنے فون میں انسٹال کر لے اور جو یہ نہیں چاہتا، وہ اس ایپلی کیشن سے دور رہے۔ “ رپورٹ کے مطابق اس معاملے پر ٹک ٹاک کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ ”ٹک ٹاک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ایک امریکی شہری ہیں، اس کے علاوہ سیفٹی، سکیورٹی، پراڈکٹ، پبلک پالیسی اور دیگر شعبوں میں کلیدی پوسٹس امریکی شہری فائز ہیں، چنانچہ یہ کہنا کہ ٹک ٹاک پر امریکی شہریوں کا ڈیٹا محفوظ نہیں ہے، سراسر غلط ہے۔ صارفین کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے۔ ہم نے کبھی چینی حکومت کو کسی صارف کا ڈیٹا مہیا کیا ہے نہ کبھی حکومت نے ہم سے مانگا ہے۔“

مزید :

بین الاقوامی -