کابینہ اجلاسوں میں وزراء کس چیز کا رونا روتے ہیں ؟ سراج الحق نے ایسی بات کہہ دی کہ آپ بھی کہیں گے"بات تو سچ ہے"

کابینہ اجلاسوں میں وزراء کس چیز کا رونا روتے ہیں ؟ سراج الحق نے ایسی بات کہہ ...
کابینہ اجلاسوں میں وزراء کس چیز کا رونا روتے ہیں ؟ سراج الحق نے ایسی بات کہہ دی کہ آپ بھی کہیں گے

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ ملک میں حکمرانوں کی اہلیت کا بحران تمام بحرانوں کاسبب ہے،نئےپاکستان کےسبز باغ دکھانےوالوں نےعوام کو آٹے،سبزی،دال سےبھی محروم کر دیا ہے،وفاقی کابینہ کےہر دوسرے دن ہونےوالےاجلاس میں وزراءعوام کی نہیں اپنےمسائل کاروناروتےرہتے ہیں ، نااہل حکمرانوں کی کارکردگی آڈٹ رپورٹ بددعاؤں کی صورت میں سامنے آرہی ہے۔

منصورہ میں مرکزی ذمہ داران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ حکومت 22 ماہ میں اپنی تجارتی پالیسی نہیں بنا سکی،حکومت آج تک کسی ایک مجرم کوسزانہیں دلوا سکی ،احتساب کےنعرے سےہوا نکل گئی ہے،حکمرانوں کے پاؤں اکھڑ رہے اور اقتدار پر گرفت دن بدن کمزور ہورہی ہے،حکمران اپنی ناکامیوں کا اعتراف کر کے ان پر قابو پانے کی بجائے خود کو ناگزیر سمجھ رہے ہیں،حکومت نے ہوش کے ناخن نہ لیے اور اسی طرح تکبیر و غرو ر میں مبتلا رہی تو اس کے پاؤں تلے سےزمین کھسکتےدیرنہیں لگےگی،مہنگائی و بےروزگاری کےستائے عوام کسی نجات دہندہ کی راہ دیکھنے لگےہیں،جماعت اسلامی عوام کو بے یارو مدد گار نہیں چھوڑے گی،آئینی و پارلیمانی اداروں کے تقدس کو پامال کرنے والوں کا محاسبہ کیا جائے گا ۔

سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ ملک میں بڑھتی ہوئی بے چینی اور انتشار کے ذمہ دار خود حکمران ہیں جو اپنے وعدے پورے کرنے اور عوام کو ریلیف دینے کی بجائے پلس مائنس کے فارمولوں میں ا لجھے ہوئے ہیں،حکومت نے عوام پر بجلی گرانی کا منصوبہ بنالیا ہے،کراچی کے عوام کو بجلی کی فی یونٹ قیمت چودہ فیصد کا اضافہ ، مرے کو مارے شاہ مدار کے متراد ف ہوگا،آئی ایم ایف کے حکم پر ایک بار پھر بجلی تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ کیا جارہاہے،حکومت عوام کو ر یلیف دینے کی بجائے آئی ایم ایف کے مطالبات پورےکرنےمیں لگی ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ دنیا میں گندم پیدا کرنے والے آٹھویں اور گنا پیدا کرنے والے نویں ملک کو آج آٹے اور چینی کے بحران کا سامنا ہے،وزیراعظم کے نوٹس لینے کے بعد آٹا اور چینی مارکیٹ سے غائب ہونا شروع ہو گیا ہے،لوگ حکمرانوں سے نجات کے لیے دعائیں کر نے لگے ہیں ۔

مزید :

قومی -