میرے باپ کا برتاﺅ ہمارے ساتھ سخت تھا، میری ریہرسل سے ہٹ کر دوسرے معاملات پر پٹائی ہوتی

 میرے باپ کا برتاﺅ ہمارے ساتھ سخت تھا، میری ریہرسل سے ہٹ کر دوسرے معاملات پر ...
 میرے باپ کا برتاﺅ ہمارے ساتھ سخت تھا، میری ریہرسل سے ہٹ کر دوسرے معاملات پر پٹائی ہوتی

  

مترجم:علی عباس

قسط: 9

باپ نے جلد ہی ہماری گلُوکاری کے مقابلوں کے لئے تربیت شروع کر دی۔ وہ ایک عظیم اُستاد تھا اور اُس نے ہمارے ساتھ کام کرتے ہوئے اپنا بہت سارا وقت اور پیسہ صرف کیاتھا۔ صلاحیت خدا کی طرف سے ودیعت کردہ تحفہ ہے لیکن باپ نے ہمیں سکھایا کہ اُس سے کیونکر بہتر نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ ہم میں شوبز کے لئے درکار کچھ صلاحیتیں موجود تھیں۔ہمیں پرفارم کرنے سے لگاﺅ تھا اور ہم نے اپنا سب کچھ تیاگ دیا۔ وہ ہر روز ہماری سکول سے چھٹی کے بعد گھر میں بیٹھ جاتا اور ہماری تیاری کراتا۔ ہم اُس کے لئے پرفارم کیا کرتے اور وہ ہمیں ہماری خامیوں کے بارے میں بتاتا۔ اگر کوئی گڑبڑ کرتا تو وہ اُس کی پٹائی کیا کرتا۔ اکثر اوقات بیلٹ یا سوئچ کو بطور ہتھیار استعمال کیا جاتا۔ میرے باپ کا برتاﺅ ہمارے ساتھ سخت تھا۔۔۔ بہت سخت۔ مارلن ہر وقت مشکل میں گرفتار رہتا۔ میری ریہرسل سے ہٹ کر دوسرے معاملات پر پٹائی ہوتی۔ باپ میرے جذبات کو مشتعل کر دیتا اور میں اُس پر جوابی حملہ کرنے کی کوشش کیا کرتا۔ میں جوتا اُٹھاتا اور اُس کی طرف اُچھالتا یا صرف لڑنے کی کوشش کرتااور اپنے باز و لہراتا۔ یہی وجہ تھی کہ میرے تمام بھائیوں کی مشترکہ طور پر جتنی ڈانٹ ڈپٹ ہوتی، اُس سے زیادہ مجھے اپنے باپ کے غصے کا نشانہ بننا پڑتا۔ میں صرف جوابی کارروائی کرتا اور میرا باپ مجھے مارنے کے درپے ہو جاتا، وہ مجھے رُلا دیتا، ماں نے مجھے بتایا تھا کہ میں اُس وقت بھی غصے سے ہاتھ پیر چلاتا تھا جب میںبہت چھوٹا تھا لیکن یہ یاد وقت کی گردش نے محو کر دی ہے۔ مجھے یاد ہے کہ میں اُس سے بچنے کے لئے میزوں کے نیچے چھُپ جاتا تھا اور اُسے مزید طیش دلاتا تھا۔ ہمارا باہمی تعلق عجیب و غریب نوعیت کا تھا۔

ہم وقت کا بیش تر حصہ ریہرسل میں مصروف رہتے۔ رات کے پچھلے پہر ہمیں کھلونوں کے ساتھ وقت گزارنے اور کھیل کود کی فرصت نصیب ہوتی۔ ہم عموماً چھپن چھُپائی کھیلتے اور رسی پھلانگتے لیکن اس کے لئے زیادہ وقت نہیں ہوتا تھا۔ہم دن کا بیش تر حصہ کام میں مصروف رہا کرتے۔ مجھے یاد ہے کہ جب اچانک میرا باپ گھر میں داخل ہوا تھا تو ہم افرا تفری میں بھاگنے لگے تھے چونکہ وقت پر ریہرسل شروع نہ کرنے کے باعث ہم مشکل میں پھنس سکتے تھے۔

ان حالات کے باوجود ماں ہمیشہ ہماری معاون رہی۔ وہ اولین ہستی تھی جس نے ہماری صلاحیت کا اندازہ لگایا تھا اور وہ ہمیں ہماری صلاحیتوں کا ادراک کرانے کے لئے مستقل طور پر ہماری مدد کرتی رہی۔ یہ تصور کرنا محال ہے کہ اُس کی محبت اور مثبت رویے کے بغیر ہمارا مستقبل کیا ہوتا۔ وہ طویل ریہرسلوں کے باعث ہمارے اوپر طاری ہونے والی تھکن کے باعث پریشان رہا کرتی لیکن ہم اپنی بہترین صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے اور حقیقتاً ہمیں موسیقی سے محبت تھی۔

گیری میں موسیقی کی خاص اہمیت تھی، ہمارے اپنے ریڈیو سٹیشن اور نائٹ کلب تھے اورایسے لوگوں کی کمی نہیں تھی جو وہاں کام کرنا چاہتے تھے۔ باپ ہماری ہفتے کی شام کو ہونے والی ریہرسلوں کو مکمل کرنے کے بعد مقامی شو دیکھنے چلا جاتا حتیٰ کہ اکثر شکاگو میں ہونے والی پرفارمنس دیکھنے کے لئے روانہ ہو جاتا تھا۔ وہ ہمیشہ ایسی چیزوں کی تلاش میں سرگرداں رہتا جنہیں بروئے کار لاتے ہوئے وہ ہمارے بہتر مستقبل کی بنیاد رکھ سکتاتھا۔ وہ گھر واپس آکر ہمیں بتاتا کہ اُس نے کیا دیکھاہے اور کون کیا کر رہا ہے۔ وہ ہمیں ہر اہم پیش رفت سے آگاہ کرتا رہتا، خواہ وہ مقامی تھیٹر کے زیرِ اہتمام ہونے والے مقابلے ہوتے جن میں ہم شریک ہو سکتے تھے یا ریڈ کارپٹ تقریبات جن میں فلمی دنیا کے چمکتے ستارے شریک ہوتے ہیں اور اکثر ہم اُن کے ملبوسات اور حرکات کو اپنانے کی کوشش کیا کرتے تھے۔ کئی بار ایسا ہوا کہ ہم اتوار کو گرجا گھر سے واپس لوٹ آئے لیکن باپ نظر نہیں آیا لیکن جیسے ہی میں گھر کے اندر پہنچا، اُس نے مجھے بتایا کہ گزشتہ رات اُس نے کیا دیکھا۔ وہ مجھے یقین دلاتا کہ اگر میں کوشش کروں تو جیمز براﺅن کی طرح ایک ٹانگ پر ناچ سکتا ہوں۔ میں گرجا گھر سے تازہ دم ہو کر واپس لوٹا تھا اور شوبزنس کی چکا چوند میں واپس آچکا تھا۔(جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -