ارسطو محقق ہونے کے علاوہ نہایت ہی اچھا معلم بھی تھا،سیاسی ناموری کی تلاش میں مقدونیہ کا سفر بھی کیا

ارسطو محقق ہونے کے علاوہ نہایت ہی اچھا معلم بھی تھا،سیاسی ناموری کی تلاش میں ...
ارسطو محقق ہونے کے علاوہ نہایت ہی اچھا معلم بھی تھا،سیاسی ناموری کی تلاش میں مقدونیہ کا سفر بھی کیا

  

تحریر: ملک اشفاق

قسط: (3)

 یہ تھا وہ ہنگامہ پرور مقام جہاں ارسطو کو علمِ و دانش کی روشنی میں صلح و آشتی کا پیغام دینے کےلئے مدعو کیا گیا تھا لیکن یہ سب بے فیض تھا۔ فلپ ایک عرصے سے تمام دنیا کو فتح کرنے کے خواب دیکھ رہا تھا۔ اپنے سامراجی خواب کے پہلے حصے کی تکمیل کےلئے اس نے یونانی ریاستوں پر حملہ کر دیا اور یکے بعد دیگرے سب کو ہضم کرلیا۔ بالکل اسی طرح جیسے ہٹلر نے یورپ میں1938-40ءمیں کیا تھا۔ فلپ نے ان ریاستوں کو تحفظ کا یقین دلا کر انہیں خاموش کر دیا تھا۔ فلپ کے مرنے کے بعد سکندر، ارسطو کا شاگرد، نظریاتی فلسفہ سے قطع تعلق کرکے اپنے باپ کے خوابوں کو عملی جامہ پہنانے کےلئے میدان میں کود پڑا۔ پہلے تو اس نے یونانیوں کے خلاف اپنے باپ کی نامکمل معرکہ آرائیوں کو مکمل کیا پھر باقی ماندہ دنیا کو فتح کرنے کی غرض سے فوج ساتھ لے کر چل نکلا۔ اپنے ہمراہ مغربی فلسفی کالس تھے نزد کو لے لیا۔ تاکہ وہ اس کی تیز رفتاری کے خلاف مہمیز کا کام دے کالس تھے نزد ارسطو کا شاگرد اور بھتیجا تھا۔ بدقسمتی سے وہ سکندر کی تندی و تیزی کو قابو میں نہ رکھ سکا، نتیجتاً قتل کر دیا گیا۔ اس نوجوان فلسفی نے سکندر کو دیوتا ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ اس طرح سکندر کے غصے کی بھینٹ چڑھ گیا۔

 ایک بار ارسطو پر ایسا موقع آیا کہ اسے اپنے ہی ذرائع پر اکتفا کرنا پڑا۔ وہ سیاسی ناموری کی تلاش میں مقدونیہ گیا۔ لیکن ایک دل شکستہ سیاستدان اور عاقل تر فلسفی ہو کر ایتھنز میں واپس چلا گیا۔ اب اسے عملی زندگی کا کافی تجربہ حاصل ہوگیا تھا۔ اس لیے اس نے اپنی باقی ماندہ زندگی کو مطالعہ کےلئے وقف کر دینے کا فیصلہ کیا۔

 یہ اس کی خوش قسمتی تھی کہ وہ اس قابل تھا کہ وہ اپنے مطالعہ کو وسیع پیمانہ پر جاری کر سکتا تھا۔ اس کے اپنے سرمائے کے علاوہ شاہ فلپ نے بھی 8 ہزار ٹیلنٹ جس کی موجودہ قیمت تقریباً 1 کروڑ 20 لاکھ کے برابر ہوتی ہے، سائنسی تحقیقات کےلئے ارسطو کو دیئے تھے۔ اس رقم سے ارسطو نے تقریباً ایک ہزار مدد گاروں کی خدمات حاصل کیں اور انہیں دنیا کے ہر حصے میں بھیجا تاکہ فلسفہ اور سائنس کے ایک جامع قاموس العلوم کےلئے مواد اور مثالیں جمع کی جا سکیں۔

 ارسطو ایک محقق ہونے کے علاوہ ایک نہایت ہی اچھا معلم بھی تھا۔ اکیڈمی کی صدارت سے محرومی کا اسے اب بھی صدمہ تھا لہٰذا اس نے اس کے مقابلے میں ایک درس گاہ لائسیم قائم کی جو اس کنج میں واقع تھی جو اپولولائی سی لیں لینے بھیڑیوں سے بھیڑوں کی حفاظت کرنے والے دیوتا کے نام منسوب تھا۔ اس مقام پر اس نے طلباءکو اس غرض سے جمع کیا کہ وہ بھی جہالت کی درندگی کا مقابلہ کر سکیں۔ اس کا معمول تھا کہ صبح کے وقت اعلیٰ جماعت کے طلباءکو فنی تعلیم دیتا اور سہ پہر کو دوسرے لوگوں کو عام فہم زبان میں درس دیتا تھا۔

 ارسطو کے معاصرین نے اس کے لیکچر دینے کی منظر کشی بہت ہی اچھے الفاظ میں کی ہے گنجا، توند نکلی ہوئی، نمائش کی حد تک خوش پوش، پتلی ٹانگیں، باریک بین نظریں، تیز زبان، بچپن کی لکنت ہنوز موجود، یہ تھا ارسطو، جو اپنے سامعین کو کبھی خوشامدانہ لہجے میں توکبھی ڈانٹ ڈپٹ کے انداز میں علم و ہدایت کا راستہ دکھاتا تھا۔ طبعاً وہ اضطراب پسند تھا۔ اطمینان کے ساتھ بیٹھ کر تقریر نہیں کر سکتا تھا۔ خصوصاً صبح کے وقت جب طلباءکی تعداد مختصر سی ہوتی تھی تو وہ طلباءکے ساتھ ستونوں کے درمیان چہل قدمی کرتا ہوا اپنے خیالات کا اظہار کرتا اور سوالات کے جوابات دیا کرتا تھا۔ اس لیے اس کے مدرسہ لائسیم کا نام مشائی مدرسہ پڑا اور اس کا فلسفہ نظامِ مشائی کہلایا۔ اب ذرا آیئے ارسطا طالیسی نظام فلسفہ کی چند نمایاں جھلکیاں دیکھنے کےلئے اس کے مدرسہ کے چند اجلاسوں میں شرکت کریں۔ علاوہ اس کے ضخیم سائنسی تجربات بھی بہت دلچسپ ہیں۔ لیکن ان کی حیثیت ایک منظم خیالات کی ترکیب کے بجائے غیر مربوط حقائق کی فہرست سے زیادہ نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ارسطو کا دماغ ناپختہ تھا بلکہ اس کی وجہ مناسب ذرائع اور آلات کی کمی تھی۔ وہ دور بین کی مدد کے بغیر کائنات کی وسعت کا اندازہ نہیں لگا سکتا تھا اور بغیر خوردبین کے جزولاتبخیری تک اس کی پہنچ نہیں ہو سکتی تھی۔ انہی خامیوں کی وجہ سے آج ارسطو کا فلسفہ سائنس عملی فائدہ مندی کی بجائے تاریخی دلچسپی زیادہ رکھتا ہے۔

 ہم جب ارسطو کے قیاسی فلسفہ پر غور کرتے ہیں تو ہم اپنے آپ کو اس فلسفہ کے زیادہ قریب پاتے ہیں۔ اس نے 3 موضوعات پر بحث کی ہے۔ یہ موضوعات جس طرح ارسطو کے عہد میں لوگوں کےلئے اہم تھے اسی طرح موجودہ نسل کےلئے بھی اہم ہیں۔ یہ موضوعات خدا، ریاست اور انسان ہیں۔ فطرت خداوندی کیا ہے؟ ریاست کےلئے بہترین طرزِ حکومت کون سا ہے؟ انسان کےلئے بہترین اطوار کون سے ہونے چاہیں؟ اس نے کتاب مابعدالطبیعات میں عاداتِ خداوندی، سیاسیات میں طرزِ حکومت اور اخلاقیات میں انسانی اطوار پر تفصیلی بحث کی ہے۔ آیئے اب ارسطو کی تصانیف کے بارے میں تھوڑی بہت روشنی ڈالیں۔(جاری ہے )

نوٹ :یہ کتاب ” بک ہوم “ نے شائع کی ہے ، جملہ حقوق محفوظ ہیں (ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -