4 وائسرائے کون تھے ،ان کے عہد میں ہندوستان اور ہندوستانیوں پر کیا گزری ؟

4 وائسرائے کون تھے ،ان کے عہد میں ہندوستان اور ہندوستانیوں پر کیا گزری ؟
4 وائسرائے کون تھے ،ان کے عہد میں ہندوستان اور ہندوستانیوں پر کیا گزری ؟

  

مصنف : ای مارسڈن 

 لارڈ الگن (1862ءسے 1863ء) دوسرے وائسرائے تھے وہ جس سال ہندوستان تشریف لائے اس سے اگلے ہی سال 1863ءمیں 51 سال کی عمر میں فوت ہو گئے۔ اس لیے وہ رعایا کی بہتری کی غرض سے جو کچھ ارادے اپنے دل میں لے کر ہندوستان آئے تھے انہیں پورا نہ کر سکے۔ انہوں نے آگرہ میں ایک دربار منعقد کیا اور ملکہ معظمہ کی حسبِ ہدایت شمالی ہند کے والیانِ ریاست کو جو اس دربار میں شریک ہوئے تھے۔ یہ بتایا کہ ملکہ معظمہ کو ان کی بہتری کی کس درجہ فکر ہے اور انکی بہتری سے متعلق کیسے کیسے خیالات اپنے ذہن مبارک میں رکھتی ہیں اور ان کی کیسی خیر اندیش ہیں اور ملکہ ممدوح کی طرف سے یہ امید ظاہر کی کہ والیان ریاست اپنی اپنی ریاستوں پر نہایت عمدگی سے حکمرانی کریںگے اور اپنی رعایا کو ہر طرح خوش رکھیں گے۔

 اسی سال دوست محمد والیٔ افغانستان کا انتقال ہو گیا۔ وہ ایام غدر میں گورنمنٹ برطانیہ کا نہایت وفادار دوست رہا تھا۔ دوست محمد کی وفات پر اس کے چھوٹے بیٹوں میں سے ایک نے تخت پر قبضہ کر لیا۔ اس شخص کا نام شیر علی تھا۔ شیر علی نے تخت پر قابو پاتے ہی اپنے بڑے بھائی افضل خاں کو جو تخت کا حقیقی وارث تھا گرفتار کر کے جیل خانے میں ڈال دیا۔

 سرجان لارنس (1864ءسے 1869ءتک) تیسرے وائسرائے تھے۔ انہوں نے ایام غدر میں پنجاب چیف کمشنر کی حیثیت سے نہایت عقلمندی اور خوش اسلوبی سے حکومت کی تھی۔ وہ ایک جری سپاہی اور مستقل مزاج وراستی پسند حکمران تھے۔ تزک و احتشام کا آپ شوق نہ رکھتے تھے۔ جتنا کہ محبت اور شفقت کا۔ وہ اپنی رعایا سے نہایت مہربانی کے ساتھ پیش آتے تھے اور ان کی بہتری کے لیے جو کچھ ہو سکتا تھا اس میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کرتے تھے۔

 انکے عہد میں راجہ بھوٹان سے ایک مختصر سی جنگ ہوئی۔ بھوٹان ہندوستان کے شمال و مشرق میں اور نیپال کے مشرق میں ایک چھوٹا سا ملک ہے۔ یہ راجا ہندوستان کے چند باشندوں کو اپنا غلام بنانے کے لیے جبراً پکڑ کر لے گیا تھا۔ اس لیے اس کو شکست دے کر غلاموں کو آزاد کرایا گیا اور اس کے ساتھ عہد نامہ کیا گیا۔

 افغانستان میں دوست محمد خاں کے سب سے بڑے بیٹے افضل خاں کو اس کے بیٹے عبدالرحمن نے قید سے رہائی دلا کر تخت پر بٹھایا۔ شیر علی بھاگ گیا مگر افضل خاں تخت پر بیٹھنے کے بعد جلد ہی فوت ہو گیا۔ اس لیے شیر علی پھر آ کر امیر بن بیٹھا۔ سرجان لارنس نے نہایت دانشمندی اور دور اندیشی سے افغانستان کے جھگڑوں میں دست اندازی کرنے سے انکار کر دیا اور افغانوں کو آپس میں جنگ و جدل کر کے نپٹ لینے کے لیے آزاد چھوڑ دیا۔ 

 1866ءمیں اڑیسہ میں نہایت خوفناک قحط پڑا۔ جس میں بہت سے آدمی ہلاک ہوئے۔ گورنمنٹ نے اس موقع پر کثیر روپے خرچ کر کے بہت سی جانیں بچائیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اڑیسہ میں بہت سی نئی سڑکیں، نہریں اور ریلیں بن گئیں تاکہ اگر پھر قحط پڑے تو وہاں اناج لے جانے میں سہولت رہے۔ وائسرائے نے ایک معقول رقم علیٰحدہ کر کے اس کا نام ”فیمن انشورنس فنڈ“ یعنی سرمایہ بیمہ قحط رکھااور یہ قرار دیا کہ اس سرمائے میں ہر سال کچھ نہ کچھ شامل کر کے اسے عام بہتری کے کاموں مثلاً سڑکوں، ریلوں اور نہروں وغیرہ پر خرچ کیا جائے تاکہ قحط دور رہے۔

 لارڈ ڈلہوزی کے عہد حکومت میں جو اصلاحات شروع کی گئی تھیں۔ سرجان لارنس نے انہیں پایۂ تکمیل کو پہنچایا اور کئی نئی اصلاحیں بھی کیں۔ بہت سے نئے سکول اور کالج جاری کیے۔ تار کے سلسلے کو وسعت دی گئی۔ آدھ آنے کے ٹکٹ میں پہلے سے د گنے وزن کے خطوط بھیجنے کی اجازت ہوئی۔ محکمہ جنگلات کو وسعت ملی اور درختوں کی ایک کثیر تعداد لگائی گئی۔

 لارڈ میو چوتھے وائسرائے 1869ءمیں آئے انہوں نے 3 سال تک حکمرانی کی اور جزائرانڈمان میں ایک پٹھان کے ہاتھوں قتل ہوئے۔ یہ وہاں ان جزائر کا ملاحظہ فرمانے کی غرض سے تشریف لے گئے تھے۔(جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -