ہرے کھیتوں کے بیچ اور بھورے کو ہساروں کے قدموں میں ایک گھر، شمشال کے دوسرے گھروں جیسا

 ہرے کھیتوں کے بیچ اور بھورے کو ہساروں کے قدموں میں ایک گھر، شمشال کے دوسرے ...
 ہرے کھیتوں کے بیچ اور بھورے کو ہساروں کے قدموں میں ایک گھر، شمشال کے دوسرے گھروں جیسا

  

مصنف : عمران الحق چوہان 

قسط:122

نیکی و بدی، نظریات و عقائد کے ان گنجلک اور مبہم دائروں سے پرے وہی شمشال اور ہنزہ تھا جہاں محبت، سادگی اور کشادگی تھی ۔ جہاں عبادت گاہ کے بر عکس، لوگوں کے دل اور گھروں کے دروازے سب کے لیے کھلے تھے اور میں انہی لوگوں کو ملنے آیاتھااور مونھ اٹھائے یو ں ہی گھوم رہا تھا کہ ایک گھر سے چند لو گوں کو قطار کی صورت میں پگ ڈنڈی پر آتے دیکھا اور تجسس کے تحت پہلے آدمی کو روک کر پو چھا کہ وہاں کیا ہوا ہے؟

”وہ جہاں بیگ کا گھر ہے۔“ اس نے اداس لہجے میں بتا یا ”وہ ادھر کے ٹو پر مر گیا ہے۔“ 

ہرے کھیتوں کے بیچ اور بھورے کو ہساروں کے قدموں میںایک گھر۔ شمشال کے دوسرے گھروں جیسا۔جس کے دروازے کے باہر ایک آدمی کھڑا تھا اور گھر سے نکلنے والے لوگ اس سے ہاتھ ملا کر اورگلے مل کر رخصت ہو رہے تھے اور ان کے لمبے سائے سبز گندم کے فرش پر ان کیساتھ ساتھ تیرتے چلے آتے تھے۔ میں بھی ادھر چل پڑا۔ 

جہاں بیگ کا گھر:

”امارا بائی مر گیا۔۔۔۔۔۔ امارا بائی مر گیا!“ جہاں بیگ کا بھائی میرے گلے لگ کر یوں رویا جیسے میرا اور اس کا بہت پرا نا رشتہ ہو۔ کیا میرے اور اس کے بیچ کوئی رشتہ تھا؟ شاید تھا۔ ایسا رشتہ جس کے لیے کوئی لفظ ابھی ایجاد نہیں ہوا، جو محبت اور درد کی طرح صرف احساس سے سمجھا جا سکتا تھا ورنہ اس سے گلے ملنے پر میری آنکھوں میں نمی کیوں آتی۔میں نے اس کے گلے سے لگے ہوئے اس کی کمر تھپک کر وہ سب باتیں کہیں جو ایسے موقع پر عمو ماً کہی جاتی ہیں۔ افسوس کا اظہار اور صبر کی تلقین لیکن یہ سب محض باتیں تھیں، بے معنیٰ، بے روح۔ صرف ایک درد سچا تھا جو جہاں بیگ کے بھائی کے سینے سے میرے سینے میں اتر رہا تھا۔

جہاں بیگ کے گھر کے چھو ٹے سے چوبی دروازے کے باہر بہت سے مردانہ جوتے پڑے تھے۔ میں نے بھی جوتے اتار دیے۔ کچے فرش اور کچی دیواروں کی ایک تنگ سی راہ داری جس کے آخر میں دائیں جانب ایک دروازہ تھا۔ اس دروازے سے اندر دا خل ہوا تو لگا جیسے اچانک گہرے اندھیرے کی دلدل میں گر پڑا ہوں۔ کچھ لمحے تو مجھے کچھ دکھائی نہیں دیاصرف یہ احساس تھا کہ وہاں میرے علاوہ بھی لوگ موجود ہیں۔ ہوا میں ہمیشہ بند رہنے والی جگہوں کی نمی، گھٹن اور بساندھ گھلی ہوئی تھی۔ رفتہ رفتہ مجھے کچھ دکھائی دینے لگا۔میں ایک ایوان نماءکمرے میں تھا۔مغربی دیوار میں کسی نیم بازکھڑکی یا دروازے سے آنے والی مدھم روشنی میں وہاں بہت سے سیاہ ہیولے بھرے ہوئے محسوس ہوتے تھے۔ یہ سیاہ چادروں میں لپٹی مقامی عورتیں تھیں جو جہان بیگ کی بیوی کو پرسا دینے آئی تھیں۔ ایوان کے گرد دو چو بی برا مدوں میں مرد زمین پر بچھی دریوں پر آمنے سامنے بیٹھے تھے۔ سب نے کچھ تعجب سے مجھے دیکھا پھر اٹھ کر فردا ً فرداً مجھ سے مصا فحہ اور معا نقہ کیا۔ جہاں بیگ کے بھائی نے میرا تعارف کروایا۔ مجھے تکریماً مُکھی امان اللہ صا حب اور ان کے خلیفہ کے پاس جگہ دی گئی۔ آنکھیں اندھیرے سے مانوس ہوئیں تو مجھے زیادہ بہتر دکھائی دینے لگا۔صحن میں سیاہ چادروں میں لپٹی عورتیں یوں بیٹھی تھیں جیسے میّت کے گرد بیٹھتے ہیں لیکن میّت یہاں نہیں تھی وہ تو کہیں بہت اوپر پہاڑوں میں برفوں میں دبی ہوئی تھی اور شمشال کے لوگ اسے ڈھونڈ رہے تھے۔ یہاں عورتوں کے درمیان میّت کی جگہ غا لبا ً جہان بیگ کی بیوی بیٹھی تھی،وہ بھی ایک میّت ہی تھی ۔ کیا میّت صرف اسے کہتے ہیں جس کے سانس کی آمد و شد رک گئی ہو یا کبھی کبھی کو ئی سانس لیتے ہوئے، چلتے پھرتے بھی زندگی کی دوسری طرف چلا جاتا ہے؟ ہمارے ما حول کے برعکس، جہاں صف ِ مرگ پر مرد حضرات اخبارات پڑھتے ہوئے سیا ست پر تبصرہ کر کے وقت گزارتے ہیں، یہاں مکمل سکوت تھا۔مرد عورتیں سب ہی چپ چاپ سر جھکا ئے بیٹھے تھے۔اس مرگ آمیز خا موشی اور نیم تاریک فضا میں رہ رہ کر ایک عورت کی درد بھری کرا ہ ابھرتی تھی۔

 آنسوؤ ں میں بھیگی اس آواز میں ایسا کرب تھا جو دل کو رنج کی اتھاہ گہرائیوں میں کھینچتا تھا۔ یہ پکار بند کمرے میں قید کسی چڑیا کی طرح پھڑ پھڑ اتی ہوئی کچھ لمحے دیواروں سے ٹکراکر اندھیرے میں تحلیل ہو جاتی۔ کچھ دیر خاموشی رہتی اور پھر وہی آہ اور کراہ میں ڈوبی آواز۔ جانے یہ پکار تھی، فریاد تھی یا دل کو سنبھالا دینے کی دوا ۔کو ئی کوئی صدمہ اور سا نحہ تو ایسا ہوتا ہے کہ انسان کے پاس نا دیدہ سہارے نہ ہوں تو وہ تاب نہ لا کر مر جائے یاپا گل ہو جائے۔ 

مُکھی صا حب نے دعا کے انداز میں ہاتھ اٹھا کرقرآن کی سورتیں بلند آواز سے پڑھنی شروع کیں۔ پھر عربی میں کچھ دعائیں ما نگنے لگے میں بھی سب کے ساتھ سر جھکائے ”آمین۔ آمین“ کہتا رہا۔سب لوگ دکھ میں شریک ہونے پر مجھ سے بے حد ممنو نیت کا اظہار کر رہے تھے۔ کچھ دیر بعد میں نے اجازت چاہی تو سب نے کھڑے ہو کردوبارہ میرا شکریہ ادا کیا اور باہر دروازے تک چھو ڑنے آئے۔ سب سے فردا ً فردا ً ہا تھ ملا کر میں دو بارہ ویگن ڈرائی وَر کی تلاش میں نکل پڑا۔ (جاری ہے )

نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں )ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

کتابیں -ہنزہ کے رات دن -