برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا

برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا
برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا

  

لندن (ڈیلی پاکستان آن لائن)برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کا سیاسی صورتحال مزید کشیدہ ہونے اور کابینہ ممبرا ن کے یکے بعد دیگرے استعفوں کے پیش نظر مستعفیٰ ہونے کا اعلان  کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم کی رہائشگاہ 10 ڈاوننگ سٹریٹ کے باہر  پریس کانفرنس کرتے ہوئے بورس جانسن کا کہنا تھا کہ میں کنزرویٹو پارٹی کی صدارت سے بھی مستعفی ہو رہا ہوں لیکن نئے پارٹی صدر اور وزیر اعظم کے آنے تک ذمہ داریاں نبھاتا رہوں گا۔ 

واضح رہے کہ کچھ دیر قبل اطلاعات آ رہی تھیں کہ بورس جانسن نے " چیئرآف دی کنزر ویٹو بیک بینچ 1922 کمیٹی گراہم بریڈی "کو بتایا ہے کہ وہ عہدہ چھوڑنے جارہے ہیں اور یہ فیصلہ برطانوی وقت کے مطابق صبح ساڑھے آٹھ بجے لیا گیاہے ۔بتایا گیاہے کہ برطانوی وزیراعظم بورس جانس آج اہم بیان دیں گے جو کہ 10 ڈاﺅننگ سٹریٹ سے جاری کیا جائے گا ۔

دوسری جانب بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں کہاتھا  کہ بورس جانسن حال ہی میں کی گئی 2 تقرریوں کے استعفے کے مطالبے کے باوجود اپنے عہدے پر رہیں گے ،چانسلر ندیم زہاوی جنہوں نے دو دن قبل ہی ذمہ داریاں سنبھالی ہیں ، نے کہا کہ صورتحال مستحکم نہیں ہے اور یہ مزید بدتر ہو گی ۔ ایجو کیشن سیکریٹری مچل ڈونی لین نے کہا کہ وزیراعظم نے ہمیں بہت ہی ناممکن صورتحال میں ڈال دیاہے ۔حکومت اور پارٹی سے استعفوں کی لہر 50 سے تجاوز کر گئی ہے ، جیسا کہ شمالی آئر لینڈ کے سکریٹری برینڈن لیوس آج استعفیٰ دینے والے پہلے کابینہ ممبر تھے جن کو دیکھتے ہوئے مزید سات کابینہ ممبران نے عہدے چھوڑ دیئے ۔

مزید :

بین الاقوامی -برطانیہ -اہم خبریں -