قانون دانوں کاقانون ساز اسمبلی میں قانون سازی پردنگل،جیت ’عددی قوت ‘ کی ہوئی

قانون دانوں کاقانون ساز اسمبلی میں قانون سازی پردنگل،جیت ’عددی قوت ‘ کی ...
قانون دانوں کاقانون ساز اسمبلی میں قانون سازی پردنگل،جیت ’عددی قوت ‘ کی ہوئی

  

پنجاب اسمبلی پریس گیلری (نوازطاہر)آئین میں اٹھارہویں ترمیم کے ثمرات عوام کو کیا ملے یا کیا ملیں گے ؟ ابھی اس کے بارے میں کہنا قبل ازوقت ہے لیکن تمام جماعتوں کی مشترکہ آئینی کمیٹی کے ذریعے ہونے والی اس ترمیم کے نتیجے میں کنکرنٹ لسٹ کے خاتمے اور کچھ محکمے صوبوںکے حوالے کرنے سے پیدا ہونے والے ابہام دورکرنے کیلئے عملدرآمد کمیٹی کے پاس معاملات زیرالتوا ءہونے کے باوجود وفاق اور پنجاب میں اختیاراتی’ جنگ ‘جاری ہے۔ اس محاذ آرائی کا اظہار سابق کنکرنٹ لسٹ میں شامل قوانین میں پنجاب میں ہونے والی ترامیم اور اس پر گورنر کے اعتراضات کی شکل میں سامنے آرہا ہے لیکن اس میں پنجاب کی حکمران جماعت کو کامیابی اور اپوزیشن کو ناکامی کا سامنا ہے ۔صوبے کی قانون ساز اسمبلی میں یہ معاملہ آج بھی اس وقت کھل کر سامنے آیا جب گورنر کے اعتراضات کے بعد تین مسوداتِ قانون پر دوبارہ بحث کی گئی ۔ڈپٹی سپیکر رانا مشہور احمد خاں کی صدارت میں پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں قانون سازی کے عمل کے دوران بنیادی طور پر یہ معاملہ تین قانون دانوں اور دو قانون سازوں میں زیربحث رہا۔ وزیرقانون رانا ثنااللہ خان، اپوزیشن رکن احسان الحق احسن نولاٹیا قانون دان ہونے کے ساتھ ساتھ قانون ساز بھی ہیں جبکہ رانا مشہود احمد قانون دان تو ہیں لیکن ڈپٹی سپیکرحیثیت سے قانون ساز نہیں ۔ گورنر کے اعتراضات والے بلوں پر دوبارہ بحث کے دوران جب اپوزیشن رکن احسان الحق احسن نولاٹیا نے ان اعتراضات کو جائز قراردیکر معترضہ بل از سر نو منظور کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ وفاق میں آئینی ترامیم کے بعد عملدرآمد کمیٹی کے حتمی فیصلے تک ایسی قانون سازی سے گریز کرنا چاہئے جبکہ وزیر قانون کا کہنا تھا کنکرنٹ لسٹ ختم ہونے پر اب صوبوں کو ان تمام قوانین میں ترمیم کا اختیار حاصل ہے جو وفاقی قانون سازی لسٹ میں شامل نہیں اس لئے پنجاب حکومت قانون سازی کی مجاز ہے جس پر احسان نولاٹیا کاا ستدلال تھا کہ سندھ ، بلوچستان اور خیبر پختونخواہ سمیت کسی صوبے نے اس معاملے میں قانون سازی نہیں کی تو پنجاب کیوں جلدی کر رہا ہے؟ اس کو بھی دوسرے صوبوں کے مطابق انتظار کرنا چاہئے اوراس روایت کو آگے بڑھانے چاہئے جو پیپلز پارٹی نے 1973ءکا متفقہ آئین دیتے ہوئے اور اب موجودہ دور میں آآئینی ترامیم اور اہم قانون سازی میں تمام پارلیمانی جماعتوں کو آن بورڈ لیکر قائم کی مگر یہاں اختیارات حاصل کرنے کی بہت زیادہ جلدی نظر آتی ہے ۔ اس کے برعکس وزیرقانون کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت آئینی حق استعمال کر رہی ہے اور اپوزیشن رکن محض گورنر کی خوشنودی کیلئے بحث کر رہے ہیں جو اصل ایشو پر بات نہیں کر رہے جبکہ احسان نولاٹیاکا اصرار تھا کہ اصل ایشو پر ہی بات کر رہیںاور ان کا نکتہ بھی عملدرآمد کمیٹی کے پاس زیر التواءمعاملات کی لسٹ سے متعلق ہے جس کی نشاندہی گورنر نے کی ہے اور وہ موضوع سے ہٹ کر یا غیر متعلقہ بات نہیں کر رہے مگر ڈپٹی سپیکررانا مشہود احمد خان نے احسان نولاٹیا کا” غیر متعلقہ “بات نہ کر نے موقف رد کردیا اور وزیر قانون کے موقف کی تائید کی تو احسان نولاٹیا نے ناراضگی کا اظہار مسودہ قانون پھاڑاور احتجاجاً ایوان سے واک آﺅٹ کر کے کیا ۔ جب ملک ندیم کامران اس یقین دہانی پر احسان نولاٹیا کو منا کر واپس لائے کہ ان کی بات ٹالی نہیں جائے گی اور بات کرنے کا موقع دیا جائے گا تو اس وقت تک اُس مسودہ قانون پر رائے شماری کرائی جاچکی تھی ۔ اگلا مسودہ قانون بھی اسی نوعیت کا تھا۔ اس پر بھی احسان نولاٹیا کے موقف کو پذیرائی نہ ملی ۔ اسمبلی میں یہ صورتحال بھی دیکھی گئی کہ پیپلز پارٹی یا اپوزیشن کے کسی رکن نے نولاٹیا کا ساتھ نہ دیا ۔ پریس گیلری میں بیٹھے لوگوں نے خیال ظاہر کیا کہ قانون سازی کے معاملہ میں حکومت اور اپوزیشن ’نوراکشتی‘ کر رہی ہیں ۔ قانون سازی کے عمل میں قانونی نکات پر بحث کے دوران یہ وکیل قانون ساز قانونی نکات سے ہٹ کر سیاسی گفتگو اور ذاتیات پر اترے تو تو ایوان کے ©خشک ‘ ماحول میں کچھ” تازگی“ محسوس ہوئی ۔قانون سازی سے زیادہ ذاتی گفتگو میں دلچسپی رکھنے والے اراکین میں بھی جیسے جان پڑ گئی ۔ ایک طرف سے ملزم وزیر اعلیٰ کی بات کی گئی تو دوسری جانب سے مجرم وزیراعظم کے الفاظ سنے جن پر حکومتی اور اپوزیشن اراکین نے اپنے اپنے انداز میں وہی ردِ عمل ظاہر کیا جو میڈیا پر اکثر نظر آتا ہے ۔مذہب اور دہری شہریت کے حوالے سے متنازع قراردیے جانے والے وزیرخزانہ رانا آصف محمود بھی ایوان میں موجود رہے تاہم انہوں نے قانون سازی کے عمل میں تمام سرکاری ارکان کی طرح ’ ہاں‘ کہنے کے سوا کسی کارروائی میں حصہ نہ لیا۔ یہاں تک کہ اپنے اوپر لگائے جانے والے الزامات کی تردید بھی نہیں کی لیکن اجلاس کے بعد وہ میڈیا اورساتھی ارکان پر پھٹ پڑے ۔میڈیا کے سامنے انہوں نے پیدائشی مسیحی ہونے کا اعلان کیا اور اس ضمن میں دستاوزیات بھی پیش کیں ۔اس موقع پر انہوں نے دہری شہریت کی حمایت کی اور کہا کہ ارکانِ اسمبلی کے علاوہ بھی بڑے لوگوں کے پاس دہری شہریت ہے لیکن نشانہ صرف ارکان اسمبلی کوہی بنایا جا رہا ہے جس سے تارکین ِ وطن کو ٹھیس پہنچی ہے۔

مزید :

لاہور -